آج کے دور میں دعوتِ دین کیسے دیں؟

دنیا میں جتنے بھی انبیائے کرام علیہم السلام تشریف لائے، ان سب کا بنیادی مقصد ایک ہی رہا: انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کرنا۔ قرآنِ کریم اس حقیقت کو بار بار دہراتا ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی، اخلاقی پاکیزگی کی تعلیم دی اور باطل نظاموں کے خلاف نظریاتی اور عملی جدوجہد کی۔ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دعوت کو اپنی زندگی کا محور بنایا اور ساتھ ہی امتِ مسلمہ کو بھی اس عظیم ذمہ داری کا مکلف قرار دیا۔ اسلام میں دعوتِ دین کوئی اختیاری عمل نہیں بلکہ یہ امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ قرآنِ مجید میں امتِ مسلمہ کوخیر امت اس لیے کہا گیا کہ وہ نیکی کا حکم دیتی ہے اور برائی سے روکتی ہے۔ اگر کسی معاشرے سے یہ دعوتی فریضہ ختم ہو جائے تو وہ معاشرہ اخلاقی زوال، فکری انتشار اور روحانی کھوکھلا پن کا شکار ہو جاتا ہے۔

دعوتِ دین کے کام میں سب سے پہلا اور بنیادی اصول اخلاص ہے۔ داعی کی نیت خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔ دعوت اگر شہرت، مقبولیت، سیاسی فائدے یا کسی ذاتی ایجنڈے کے لیے دی جائے تو وہ دعوت نہیں بلکہ ایک نیا فتنہ بن جاتی ہے۔ اخلاص ہی وہ روح ہے جو دعوت کے الفاظ کو دلوں تک پہنچاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن داعیوں کی نیت خالص رہی، ان کی بات میں اثر پیدا ہوا، چاہے ان کے وسائل محدود ہی کیوں نہ ہوں۔

دعوت کا دوسرا اہم اصول حکمت ہے۔ حکمت کا مطلب یہ ہے کہ دعوت دینے والا حالات، وقت، مقام اور مخاطب کے ذہنی و فکری پس منظر کو سامنے رکھے۔ ہر شخص ایک جیسا نہیں ہوتا، اس لیے ہر ایک سے ایک ہی انداز میں بات کرنا حکمت کے خلاف ہے۔ قرآن ہمیں واضح ہدایت دیتا ہے کہ لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اللہ کے راستے کی طرف بلاؤ۔ حکمت کے بغیر کی گئی دعوت اکثر ضد، نفرت اور ردِعمل کو جنم دیتی ہے۔ دعوت میں نرمی، محبت اور شفقت کا پہلو بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اس کی روشن مثال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کبھی تلخی، سختی یا جبر سے دعوت نہیں دی۔ حتیٰ کہ بدترین دشمنوں کے ساتھ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا لہجہ نرم اور رویہ مشفقانہ رہا۔ قرآنِ مجید نے صاف الفاظ میں فرمایا کہ اگر آپ سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد جمع نہ رہتے۔ یہ اخلاقی نرمی ہی تھی جس نے دلوں کو مسخر کیا۔

ایک داعی کے لیے صبر نہایت ضروری ہے، کیونکہ دعوت کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ یہ ایک طویل المدت جدوجہد ہے جس میں فوری نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کرنے کے بعد مسلسل تیرہ برس مکہ مکرمہ میں شدید مخالفت، تمسخر اور ظلم و ستم برداشت کیا، مگر دعوت کا کام ترک نہیں کیا۔ ابتدائی دور میں چند افراد ہی ایمان لائے، لیکن یہی افراد بعد میں تاریخ کا رخ بدلنے والے انسان ثابت ہوئے۔ مکہ میں قریش کی مخالفت اس حد تک بڑھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا، شعبِ ابی طالب میں محصوری ہوئی، معاشی و سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا، صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی، مگر ان تمام آزمائشوں کے باوجود دعوتِ دین کا سلسلہ جاری رہا۔ یہی استقامت بعد میں عظیم کامیابیوں کا پیش خیمہ بنی۔

مدینہ منورہ ہجرت کے بعد دعوتِ دین کو ایک نئی جہت ملی۔ یہاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دعوت کے مختلف اسالیب اختیار کیے۔ انفرادی ملاقاتیں کیں، سوال و جواب کے ذریعے ذہنوں کی گرہیں کھولیں، اجتماعی خطبات کے ذریعے بڑے مجمع کو مخاطب کیا، مختلف قبائل اور بادشاہوں کو خطوط لکھے اور سب سے بڑھ کر اسلامی ریاست کی عملی مثال پیش کی۔ یہ عملی نمونہ دعوتِ دین کا سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار خود ایک چلتی پھرتی دعوت تھا۔ آپۖ کی سچائی، امانت داری، عدل، رحم دلی اور دیانت داری نے دشمنوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ اخلاق سے پھیلا۔ دعوتِ دین کا اصل حسن یہی ہے کہ داعی کا عمل اس کی زبان کی تصدیق کرے۔

اسی دعوت کے نتیجے میں عرب کا جاہلیت زدہ معاشرہ ایک عظیم اخلاقی و فکری انقلاب سے گزرا۔ وہ لوگ جو قبائلی تعصبات، خونریزی اور انتقام کے اسیر تھے، ایک اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ دنیا نے پہلی مرتبہ ایک ایسا معاشرہ دیکھا جو عدل، مساوات اور رحم پر قائم تھا۔ یہ دعوتی ذمہ داری آج ہم سب کی طرف متوجہ ہے۔ موجودہ دور میں دعوتِ دین کے ذرائع بدل چکے ہیں، مگر دعوت کی روح وہی ہے۔ آج ڈیجیٹل میڈیا، سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اور جدید ٹیکنالوجی نے پیغام رسانی کو نہایت آسان اور تیز بنا دیا ہے۔ اب ایک پیغام لمحوں میں دنیا کے کونے کونے تک پہنچ سکتا ہے۔

دعوتِ دین کے لیے سوشل میڈیا کا درست اور حکیمانہ استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مختصر مگر بامعنی ویڈیوز، معلوماتی انفوگرافکس، تحریری پوسٹس، لائیو سیشنز، پوڈکاسٹس اور ڈاکومنٹریز کے ذریعے لوگوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرایا جا سکتا ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل، جو زیادہ تر ڈیجیٹل دنیا سے جڑی ہوئی ہے، اس اسلوب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ دعوتِ دین کے لیے جس صبر، تحمل، استقامت اور اجتماعی نظم کی ضرورت ہوتی ہے، اس کی ایک نمایاں مثال ہمارے دور میں تبلیغی جماعت ہے۔ تبلیغی جماعت نے دنیا کے تقریباً ہر خطے میں دعوتِ دین کا پیغام پہنچایا ہے۔ اس جماعت کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ یہ خاموش، غیر تصادمی اور عملی دعوت پر یقین رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے عام مسلمان بھی دعوت کے کام سے جڑ سکتا ہے اور اپنے کردار کو بہتر بنا سکتا ہے۔ آج کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ دین کی دعوت دنیا تک نہیں پہنچی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دعوت کو موثر انداز میں کیسے پیش کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے رویوں، زبان اور اسلوب پر نظر ثانی کریں۔ دعوت کا مطلب صرف تنقید یا فتویٰ بازی نہیں بلکہ خیرخواہی، اصلاح اور انسان کو اللہ کے قریب کرنا ہے۔

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دعوتِ دین کوئی وقتی مہم نہیں بلکہ نسلوں پر محیط ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اخلاص، حکمت، نرمی، صبر اور جدید ذرائع کے درست استعمال کے ساتھ اس فریضے کو انجام دیں تو ان شاء اللہ آج کا انسان بھی اسلام کی روشنی سے اسی طرح منور ہو سکتا ہے جس طرح چودہ سو سال پہلے ہوا تھا۔