کراچی میں صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانی ملاحوں کے اہل خانہ کے وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر دھرنے پر پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا جنہیں بعدازاں رہا کردیا گیا۔
کراچی میں شاہراہ فیصل پر ایف ٹی سی کے قریب وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانی ملاحوں کے اہلخانہ نے احتجاجاََ دھرنے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ پولیس نے سکیورٹی خدشات کے باعث ان کا کیمپ ختم کردیا اور کئی افراد کو گرفتار کرلیا۔
اہل خانہ کا احتجاج گزشتہ رات بھر جاری رہا تھا جس کے دوران تقریباً 10 خاندان، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر موجود رہے۔
یرغمال ملاحوں کے اہلخانہ نے اس سے قبل نمائش چورنگی پر بھی احتجاج کیا تھا جو پرامن طور پر کیا گیا۔ مظاہرین نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں پیر کی صبح 10 بجے سے بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم آج صبح پولیس کی بھاری نفری احتجاجی مقام پر پہنچ گئی۔ پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کا سامان ہٹایا اور احتجاجی کیمپ اکھاڑ دیا، جس کے بعد متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔
گرفتار کیے گئے مظاہرین میں خواتین اور یرغمال ملاحوں کے اہلخانہ بھی شامل تھے۔ پولیس نے زیرحراست افراد کو ٹیپو سلطان تھانے منتقل کردیا جہاں اہلخانہ بھی پہنچ گئے اور گرفتار مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ جنہیں بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حراست میں لیے گئے 11 مظاہرین کو رہا کردیا گیا ہے اور ان کا سامان بھی حوالے کردیا ہے۔
احتجاج کرنے والے خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پیاروں کو صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ساڑھے چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، تاہم ان کی محفوظ بازیابی کے لیے حکومت کی سطح پر سنجیدہ کارروائی نہیں کی گئی۔
اہلخانہ کے مطابق وہ وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر اس لیے جمع ہوئے تھے تاکہ حکومت پر زور دیا جاسکے کہ یرغمال ملاحوں کی فوری اور محفوظ واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

