معرکہ ستمبر سے بنیان مرصوص تک

بدروحنین کے جانشین پاک دھرتی کے سپوت افواجِ پاکستان کے جانباز و شاہین اپنی دھرتی ماں کی حرمت و سلامتی کیلئے ہر گھڑی تیار ہیں۔ انہوں نے 6ستمبر 1965 سے مئی 2025 کے آپریشن بنیان مرصوص تک دشمن کو بتا دیا ہے کہ گھس کر کیسے مارا جاتا ہے۔ افواجِ پاکستان نے ‘اپنے گھوڑے تیار رکھو’ کے ارشادِ ربانی کو حرزِ جاں بنایا ہوا ہے اور اس ذمہ داری سے ہماری قابلِ فخر افواج کبھی غافل نہیں رہیں۔ جذبہ ایمانی اور حب الوطنی کی انتہا تھی کہ 1965 کی جنگ میں بحری بری اور فضائی افواج کے جانبازوں نے نامساعد حالات محدود جنگی سازوسامان کے باوجود ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے کہ اقوامِ عالم ورطہ حیرت میں مبتلا ہو گئیں اور ہمارے جوانوں نے اپنی دلیری شجاعت اور بہادری سے دشمن پر سکتہ طاری کر دیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ 1965 کی جنگ نے پاکستانی قوم میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ 6ستمبر یومِ دفاع پاکستان ہماری دفاعی اور عسکری تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اس دن شجاعت و خود اعتمادی کی دولت سے مالا مال افواجِ پاکستان کے جری جوانوں نے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے بہادر اور غیور پاسبانوں کی فہرست میں اپنا نام رقم کرایا۔ رن آف کچھ کے محاذ پر پاکستان سے پنجہ آزمائی میں ذلت اٹھانے کے بعد چوروں کی طرح پاکستان کے دل لاہور پر حملہ کرنے والی بزدل بھارتی فوج کے خلاف افواجِ پاکستان نے جرات و بہادری کے وہ جوہر دکھائے کہ دنیا ششدر رہ گئی۔ بھارت کے ریٹائرڈ ائیر مارشل بھارت کمار نے اپنی کتاب The Duels of the Himalayan Eagle – the First Indo-Pak Air War میں اعتراف کیا کہ 1965 کی جنگ میں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا یہاں تک کہ پاکستان نے صرف دو دن میں بھارت کے 35طیارے تباہ کر دیے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اس کتاب کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی شائع کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی وزارتِ دفاع کے ریکارڈ میں تسلیم کیا گیا کہ 1965ء کی جنگ میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ قوتِ ایمانی ہی تھی جو عسکری قوت پر غالب رہی۔ میجر مسعود اختر کیانی جو چونڈہ میں شہید ہوئے، میجر عزیز بھٹی اور میجر شبیر شریف ایسے سپوت اور ان جیسے دوسرے دیگر شہدا کی قربانیاں اس ملک کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ پاکستان اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان اور اس کی افواج مادرِ وطن کی محافظ اور اس کی حرمت کی امین ہیں۔

6ستمبر 1965 کو بھارت نے رات کی تاریکی میں کئی انفنٹری ڈویژنز ٹینکوں اور توپ خانے کی مدد سے لاہور پر تین اطراف سے حملہ کیا۔ لیکن ستلج رینجرز کے جوانوں نے بی آر بی نہر کا پل تباہ کرکے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ اس صورتحال کو یقینی بنانا کسی طور معجزے سے کم نہ تھا۔ میجر راجہ عزیز بھٹی کی یونٹ 17پنجاب 103بریگیڈ کا حصہ تھی جو 10ڈویژن کی دفاعی بریگیڈ تھی۔ اس کمپنی کی دو پلاٹون بی آر بی نہر کے دوسرے کنارے پر تعینات تھیں۔ ان حالات میں جب دشمن تابڑ توڑ حملے کر رہا تھا اور اسے توپ خانے اور ٹینکوں کی پوری مدد حاصل تھی 10اور 11ستمبر کی درمیانی شب کو دشمن نے اس سارے سیکٹر میں بھرپور حملے کیلئے اپنی ایک پوری بٹالین (4سکھ بٹالین) جھونک دی۔ اس صورتحال میں میجر عزیز بھٹی کو نہر کے کنارے پر لوٹ آنے کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے اس دفاعی پوزیشن میں بھی دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ آپ نے نہر کے کنارے پر کمپنی کو نئے سرے سے دفاع کیلئے منظم کیا۔ بھارتی فوج چھوٹے ہتھیاروں ٹینکوں اور توپوں سے بے پناہ بارود برسا رہی تھی مگر میجر عزیز بھٹی نہ صرف دشمن کے شدید دباؤ کا سامنا کرتے رہے بلکہ اس کے حملوں کا تابڑ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔ 12ستمبر کو دشمن کے ایک ٹینک کا گولہ لگنے سے آپ شہید ہوگئے مگر اس وقت تک نہ صرف آپ نے اپنی یونٹ کا دفاع یقینی بنایا بلکہ دشمن کو بھی بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ بھارت کے لیفٹیننٹ ہربخش سنگھ کے مطابق پاکستانی افواج بہادری سے لڑیں اور زمین کے ہر انچ کا خوب دفاع کیا۔ اپنی کتاب میں ہربخش سنگھ نے میجر عزیز بھٹی کی جرأت و بہادری کا بھی ذکر کیا ہے۔

بھارت نے سب سے بڑا اور خطرناک حملہ سیالکوٹ کے محاذ پر کیا تھا۔ بھارت نے پاک فوج کی توجہ لاہور کے محاذ سے ہٹانے کیلئے 600ٹینکوں اور ایک لاکھ فوجیوں کے ساتھ سیالکوٹ میں چارواہ باجرہ گڑھی اور نخنال کے مقام پر حملہ کیا لیکن پاکستان کے عظیم سپوتوں نے مادرِ وطن کی حفاظت کیلئے اپنے سینوں پر بم باندھ کر بھارتی فوج کے ٹینکوں کو تباہ کیا۔ سیالکوٹ کا قصبہ چونڈہ ‘ٹینکوں کے قبرستان’ کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ میں پاکستان ایئرفورس نے بھی کمالِ فن کا مظاہرہ کیا اور سترہ دن تک لڑی جانے والی اس جنگ میں بری افواج کو بھرپور مدد فراہم کی۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں دشمن کے 129لڑاکا طیاروں کو تباہ کیا گیا جبکہ پاکستان کے صرف 19طیاروں کو نقصان پہنچا۔ مایہ ناز مجاہد سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم نے 7ستمبر کو سرگودھا میں ایک تاریخ ساز معرکے میں دشمن کے پانچ حملہ آور طیاروں کو ایک ہی وار میں یکے بعد دیگرے مار گرایا اور دنیا بھر کی فضائیہ کی تاریخ میں ایک لازوال مثال قائم کی۔

پاک بحریہ کا کردار بھی ناقابلِ فراموش رہا۔ پاک بحریہ کے جہازوں نے بھارت کے پانیوں میں 200ناٹیکل میل اندر جا کر بھارتی بحریہ کو ناکوں چنے چبوائے۔ اعلانِ جنگ ہوتے ہی پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس بابر خیبر بدر ٹیپو سلطان جہانگیر شاہجہاں اور عالمگیر پاکستان فلیٹ کموڈور ایس ایم انور کی کمانڈ میں دوارکا کی طرف روانہ ہوئے۔ بھارتی ریاست گجرات میں دوارکا کے مقام پر قائم ریڈار سٹیشن دشمن کے جہازوں کو فضائی حملوں کے لیے مسلسل رہنمائی فراہم کر رہا تھا جس کو تباہ کرنا ازحد ضروری تھا۔ اس کے علاوہ بھارتی بحریہ کے جہازوں کو بھارتی پانیوں سے باہر لانے کی حکمت بھی اس آپریشن کا حصہ تھی جن کا سامنا کرنے کیلئے پاک بحریہ کی آبدوز غازی پہلے ہی سے بحرِ ہند میں موجود تھی۔ 6ستمبر کو کراچی سے روانہ ہونیوالے پاک بحریہ کے جنگی جہاز 7 ستمبر کو جب دوارکا کے قریب پہنچے تو دفاعِ وطن کیلئے ہر حد سے گزر جانے کا جذبہ لیے آفیسرز اور سیلرز حکم کے منتظر تھے۔ جیسے ہی انہیں حکم ملا انہوں نے منصوبے کے مطابق تمام جہازوں سے 50 50 گولے فائر کیے اور صرف تین منٹ میں دوارکا کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔

بھارت کے معروف عسکری تجزیہ کار ڈاکٹر بی سی چکرورتی History of the Indo-Pak War, 1965 میں رقمطراز ہیں کہ انڈیا کے لیے رن آف کچھ کا آپریشن جان لیوا ثابت ہوا اور اسے اپنے سے کئی گنا چھوٹی عسکری قوت کی طرف سے انتہائی صبرآزما اور غیرمتوقع مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث 6ستمبر کو لاہور پر حملے کے بعد بھارت سفارتی سطح پر دنیا میں تنہا ہو کر رہ گیا۔ 15ستمبر کو بھارتی وزیراعظم شاستری نے اپنی عسکری قیادت سے صاف صاف کہہ دیا کہ ‘اب میں مزید دباؤ کا سامنا نہیں کرسکتا، دنیا کا کوئی بھی ملک ہمارے جنگی فتح کے دعوؤں کو گھاس نہیں ڈال رہا اس لیے مجھے حتمی طور پر بتاؤ کہ تم دو تین دن میں جنگ جیت سکتے ہو یا نہیں’۔ بھارت کی عسکری قیادت نے جیسے ہی مزید مہلت کا تقاضا کیا شاستری نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر خود ہی سرنڈر کرنے کا فیصلہ کر لیا اور انتہائی مایوسی کے عالم میں یواین کے سیکرٹری جنرل کو جنگ بندی پر اپنی رضامندی کا مراسلہ بھیج دیا جسے تاریخ نویس ‘جنگ بندی کی درخواست’ بھی کہتے ہیں۔ یومِ دفاع قومی سیاسی و عسکری قیادتوں سمیت پوری قوم سے اس امر کا متقاضی ہے کہ اتحاد و یکجہتی کے تحت دفاعِ وطن کے تقاضے نبھائے جائیں۔ میں اپنے کالم کے توسط سے ان جانبازوں غازیوں شہیدوں کو سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں جن کے خون کی آبیاری سے مادرِ وطن محفوظ و مامون ہے۔ واقعی اے پتر ہٹاں تے نئیں وِکدے۔