یمن: حکومتی فورسز کی اہم ترین ساحلی علاقہ الحدیدہ میں حوثیوں کیخلاف بڑی کامیابی

یمن کے بحیرۂ احمر سے متصل اہم ساحلی علاقے الحدیدہ میں حوثی ملیشیا کے خلاف سرکاری فوج اور اس کی اتحادی فورسز کی کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے۔

یمنی حکومت کی حمایت یافتہ فورسز نے جنوبی الحدیدہ کے ضلع حیس کے باقی ماندہ علاقوں سے حوثی جنگجوؤں کو پسپا کرتے ہوئے پورے ضلع پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فوجی حکام کے مطابق حیس کے مختلف محاذوں پر کارروائی کے دوران حوثی عناصر کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ حکومتی فورسز نے علاقے میں اپنی دفاعی اور فوجی پوزیشنز کو مزید مضبوط کرلیا ہے۔

حیس کی اہمیت کیا ہے؟

جنوبی الحدیدہ میں واقع ضلع حیس جغرافیائی اور فوجی اعتبار سے انتہائی اہم مقام رکھتا ہے۔ اس علاقے پر کنٹرول حاصل ہونے سے حکومتی فورسز کے لیے شمال کی جانب الجراحی کے علاقوں تک پیش قدمی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

فوجی مبصرین کے مطابق حیس کا محاذ صرف ایک مقامی کامیابی نہیں بلکہ بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے میں جاری وسیع تر جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے، کیونکہ یہاں سے الحدیدہ شہر اور اس کے اطراف کے علاقوں پر دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے۔

الحدیدہ شہر اور بندرگاہ اب بھی حوثیوں کے قبضے میں

تاہم تازہ پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ پورا الحدیدہ گورنریٹ یا الحدیدہ شہر حکومتی فورسز کے کنٹرول میں آچکا ہے۔ الحدیدہ شہر اور اس کی اہم بندرگاہ اب بھی حوثی ملیشیا کے زیر اثر علاقوں میں شامل ہیں۔

جنوبی الحدیدہ کے مختلف محاذوں پر دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، جبکہ حوثیوں کی جانب سے بھی جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

الحدیدہ کی تزویراتی اہمیت

بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع الحدیدہ یمن کے اہم ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں موجود بندرگاہ ملک کی سب سے بڑی اور اہم بندرگاہوں میں شامل ہے، جو تجارتی سرگرمیوں، انسانی امداد اور رسد کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے لیے الحدیدہ بندرگاہ معاشی اور فوجی سپلائی کا ایک بنیادی راستہ سمجھی جاتی ہے، اسی وجہ سے اس علاقے پر کنٹرول یمنی تنازعے میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتا ہے۔

الحدیدہ کی اہمیت صرف یمن تک محدود نہیں بلکہ بحیرۂ احمر عالمی تجارت کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے۔ اس لیے اس ساحلی علاقے میں کسی بھی بڑی فوجی تبدیلی کے اثرات علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔

مستقبل کی صورتحال

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی فورسز حیس سے آگے بڑھ کر الجراحی اور شمالی علاقوں تک پیش قدمی برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو الحدیدہ میں حوثیوں کے دفاعی حصار پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

تاہم الحدیدہ شہر اور بندرگاہ تک پہنچنا ایک پیچیدہ اور حساس فوجی مرحلہ ہوگا، کیونکہ حوثی ملیشیا اس علاقے کو اپنی حکمت عملی میں انتہائی اہمیت دیتی ہے۔

الحدیدہ کا محاذ اس وقت یمن کی جنگ کے اہم ترین میدانوں میں شامل ہوچکا ہے۔ حیس میں حکومتی فورسز کی کامیابی اگر برقرار رہتی ہے اور مزید علاقوں تک پیش قدمی جاری رہتی ہے تو بحیرۂ احمر کے ساحلی محاذ پر طاقت کا توازن تبدیل ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔