سیاسی قیادت اور سیرت نبویۖ

تیسری قسط:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تنخواہ کتنی مقرر ہوئی؟ اس کا اندازہ اس واقعے سے لگا لیجیے کہ تاریخ میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری عرصے میں عید کا وقت قریب آرہا تھا۔ زوجہ محترمہ نے عرض کیا کہ یا خلیفة المسلمین! عید کا دن قریب آرہا ہے، عید کے دن بچوں کے لیے کچھ میٹھا پکانے کا بندوبست کرنا چاہیے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ میرے پاس تو اِس کی گنجائش نہیں ہے، مجھے تو بیت المال سے جو راشن ملتا ہے، میں اس سے زیادہ نہیں لے سکتا اور میرا اپنا کوئی کاروبار نہیں ہے، اس لیے یہ خیال رہنے ہی دو۔ اہلیہ نے کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں اپنے طور پر انتظام کروں؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا، ٹھیک ہے اگر کر سکتی ہو تو کر لو، چنانچہ چند دنوں کے بعد عید کا دن آیا اور حضرت ابوبکر تیاری کر کے عید گاہ کی طرف جانے لگے تو دیکھا کہ اہلیہ نے میٹھا پکایا ہوا تھا۔ حضرت صدیق اکبر نے پوچھا یہ بندوبست کہاں سے کیا ہے، ہمارے پاس تو اس کی گنجائش نہیں تھی۔ اہلیہ نے جواب دیا کہ ہمارے گھر میں بیت المال سے راشن کا جو آٹا روزانہ آتا ہے، میں نے اس میں سے ایک مٹھی آٹا الگ کرنا شروع کر دیا تھا۔ چند دنوں میں اتنا آٹا ہوگیا کہ اس میں سے آدھا آٹا بازار میں بیچ کر میں نے گڑ اور تیل منگوایا، باقی آدھا آٹا اس میں گوندھ کر حلوہ بنا لیا ہے۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا ابھی تک کسی نے کھایا تو نہیں؟ جواب ملا نہیں ابھی کسی نے نہیں کھایا۔ فرمایا دیگچی لاؤ، آپ نے دیگچی منگوا کر اٹھائی اور چل دیے۔ حضرت ابو عبیدہ عامر بن الجراح جو بیت المال کے انچارج تھے، ان سے جا کر فرمایا کہ ابو عبیدہ ! یہ حلوہ ابوبکر کے گھر والوں کا حق نہیں ہے بلکہ یہ مدینہ منورہ کے یتیموں اور بیواؤں کا حق ہے، اور سنو! آج کے بعد میرے گھر میں ایک مٹھی آٹا کم بھیجا کرنا کیونکہ ہمارا گزارا ایک مٹھی کم آٹے سے بھی ہو جاتا ہے۔

دنیا کے کس خطے کا کس مذہب کا کس نظام کا کونسا حکمران ہے جو اس کی مثال پیش کر سکے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے خلفاء نے حکمرانی کا یہ معیار بتایا کہ حکمرانی برتری اور فخر کا نہیں بلکہ فریضے اور ذمہ داری کا نام ہے۔

حضرت عمر فاروق کا معیارِ زندگی
ایک دفعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے۔ طبیب آئے، حال احوال دیکھا، نبض دیکھی اور بتایا کہ انتڑیاں خشک ہو گئی ہیں، کچھ دن زیتون کا تیل استعمال کریں، یہی آپ کا علاج ہے۔ فرمایا میرے گھر میں تو زیتون کا تیل نہیں ہے۔ کسی نے بتایا کہ بیت المال میں زیتون کا تیل موجود ہے۔ فرمایا اچھا! بیت المال میں زیتون کا تیل ہے، ابو عبیدہ کو بلائیں۔ پوچھا عبیدہ بیت المال میں زیتون کا تیل ہے؟ بتایا، جی حضرت! موجود ہے۔ پوچھا کتنا ہے؟ بتایا کہ حضرت! بہت ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ یہ تیل مدینہ منورہ کے سب لوگوں میں تقسیم کیا جائے تو میرے حصے میں کتنا آتا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت پھر وہ اتنی مقدار کا نہیں ہوگا کہ کھانے کے قابل ہو۔ آپ نے فرمایا بس اس سے زیادہ حق میرا بیت المال پر نہیں ہے۔ بیت المال کی چیز مدینہ منورہ کے لوگوں میں برابر تقسیم ہو کر جو حصہ میرے حصے میں آتا ہے، بس وہی میرا حق ہے، اس سے زیادہ میں نہیں لے سکتا۔ طبیب نے کہا کہ حضرت! بطور قرض لے لیں۔ پوچھا کیا تم ضمانت دیتے ہو کہ اگر میں قرض نہ ادا کر سکا تو تم ادا کرو گے؟

میں نے عرض کیا کہ خلفائے راشدین نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق نظام حکومت کی ایسی مثال پیش کی کہ دنیا کا کوئی نظام اسے دہرا نہ سکا۔ یہ اللہ کے رسول کی حکمت تھی کہ حاکم وقت عام آدمی کے معیار کے مطابق زندگی گزارے گا تو عام لوگوں کی مشکلات و مسائل سے آگاہ ہوگا اور انہیں حل کرنے کی فکر کرے گا۔

حضرت عمرفاروق کے انصاف کا معیار
امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب کا ایک واقعہ تاریخ والے لکھتے ہیں۔ اسلامی ریاست کے قیام کے بعد دوسرے ملکوں کی طرف سے وفود کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، رواج کے مطابق ملکوں کے وفد دوسرے ملکوں میں جاتے تھے تو تحفے تحائف لے کر جایا کرتے تھے، ایک مرتبہ قیصرِ روم نے تحفے میں عورتوں کے استعمال کی خوشبو بھیجی جو پاؤڈر کی شکل میں تھی۔ حضرت عمر بن الخطاب نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ اسے عورتوں میں کیسے تقسیم کیا جائے، ساتھیوں نے کہا کہ حضرت! اپنی زوجہ محترمہ کو دے دیجیے کہ وہ اسے عورتوں میں تقسیم کر دیں گی۔ حضرت عمر گھر تشریف لے گئے اور اہلیہ محترمہ کو بتایا کہ یہ خوشبو تحفے میں آئی ہے، اسے عورتوں میں تقسیم کرنا ہے، اس کے لیے ساتھیوں نے تمہارا نام تجویز کیا ہے، اس لیے تم اسے تقسیم کر دو لیکن پہلے مجھے بتاؤ کہ تمہاری تقسیم کا طریقہ کیا ہوگا؟ اہلیہ نے کہا کہ عورتوں کو اکٹھا کروں گی اور سب میں برابر برابر تقسیم کر دوں گی۔ پوچھا اپنا حصہ کتنا رکھو گی؟ بتایا کہ جتنا دوسروں کو دوں گی، اتنا ہی اپنا بھی رکھوں گی۔ فرمایا کہ خوشبو کا وہ حصہ جو تقسیم کرتے وقت ہاتھ پر لگ جائے گا وہ کس کھاتے میں جائے گا؟ اس لیے یہ خوشبو سب میں تقسیم کرو لیکن اپنا حصہ کم رکھنا۔ دنیا کا کونسا حکمران ہے جو انصاف کو اس درجے پر قائم رکھ سکے۔ (جاری ہے)