بھائی محمد سلیم کی یادیں!

برادرم مولانا محمد سلیم بھی رخصت ہوگئے۔ ایک شاندار، جی دار انسان جن کی محفل میں بیٹھ کر دلوں کو سکون ملتا تھا۔ بتاتے تھے کہ سیل بنانے والی فیکٹری میں جوانی گزری۔ خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ جیسے عظیم انسان کی دامادی نصیب ہوگی۔ جن دنوں ہم روزنامہ اسلام میں نئے نئے وارد ہوئے تھے، کتابوں کی تلاش میں ”کتاب گھر” تک پہنچے۔ کتاب گھر کے کرتا دھرتا بھائی محمد سلیم صاحب تھے، جن سے صرف یہی دریافت کرنے گیا تھا کہ ”انوارالرشید” کہاں سے ملے گی؟ انہوں نے اتنی چاہت، محبت اور اپنائیت سے نوازا کہ پھر ہمارا پسندیدہ مشغلہ یہی بن گیا کہ ان کی صحبت میں جا بیٹھتے۔ احمد فراز نے کہا تھا:
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

آپ کی طبیعت اسی کی عکاس تھی۔ آپ کی ذات مجسم اردو ادب تھی۔ نستعلیق گفتگو، الفاظ کا زیر و بم، ہر لفظ کی مخرج سے ادائی، پرانے بزرگوں کے ادب آداب کی جھلک، دل جوئی اور دل داری مرصع اور شیرنی گفتار مجسم۔ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔
مجھ ایسے بے مایہ کو قلبی واردات اور روحانی مقامات کی کوئی خبر نہیں، لیکن ان کی مجلس میں بیٹھ کر اٹھنے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ زندگی کے ان چند لوگوں میں سے تھے، جن کے پاس سے اٹھنے کا دل نہیں کرتا تھا۔ ان دنوں کے واقعات بھی سناتے جب حضرت مولانا حکیم محمد اختر رحمہ اللہ بھی یہیں ناظم آباد میں قیام پذیر تھے۔ ایک دن بتانے لگے کہ حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ نے مجھے فرمایا: ”سلیم! تم پر کسی اللہ والے کی نظر پڑ گئی ہے”۔ یہ سن کر مجھے فکر ہوئی کہ حضرت کی اس بات کا پتہ لگانا چاہیے کہ کس اللہ والے کی مجلس میں جانا ہوا ہے۔ میں نے اپنے بڑے بزرگوں سے معلومات کیں تو پتہ چلا کہ جب میری عمر بمشکل 14 برس تھی، تب والد مرحوم مجھے حضرت مولانا عبدالغنی پھولپوری رحمہ اللہ کی مجلس میں لے جایا کرتے تھے۔ انہی دنوں حضرت پھولپوری نے ایسی دعا دی کہ دل و دماغ میں دین سے محبت رچ بس گئی۔

بھائی محمد سلیم صاحب کتابوں کے رسیا تھے، ہر وقت کتابوں میں ہی کھوئے رہتے اور علمائے کرام کے علوم کے حافظ تھے۔ میری افتاد طبع ایسی کہ بزرگوں کی سوانح اور دیگر کتابیں تو بہت دیکھ رہا تھا مگر حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی کتابیں پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے مجھے شوق دلایا اور یوں میں نے آج سے 18 سال پہلے حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی تصوف و سلوک پر لکھی کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ اسی مجلس میں بھائی سلیم نے اپنا یہ واقعہ بھی سنایا کہ ایک بار حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ سے میں نے عرض کیا: حضرت! ان دنوں حضرت تھانوی کی کتاب ‘تربیة السالک’ پڑھ رہا ہوں”۔ یہ سن کر حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مرید بن کر پڑھنا، شیخ بن کر نہ پڑھنا”۔ کیسی گہری بات، کتنی سادگی سے کہہ دی۔ مرید بن کر پڑھنا، شیخ بن کر نہ پڑھنا۔

حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کا ذکر خیر آتا تو یادوں کی پوٹلی کھل جاتی۔ حضرت کی مجالس کا ایسا احوال بیان کرتے کہ سننے والوں کو اسی مجلس میں پہنچا دیتے تھے۔ حضرت رحمہ اللہ سے سنے ہوئے اشعار، لفظی نزاکتوں کے ساتھ ہو بہو یاد تھے۔ ایک بار فرمانے لگے، میں نے 35 سال قبل حضرت مفتی رشید احمد رحمہ اللہ کو یہ مصرعہ سنایا:
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہوگا
حضرت مفتی رشید احمد صاحب نے یہ مصرعہ سن کر فرمایا: سلیم، دیکھنا! کہیں تم بھی کسی شاخ پر تو نہیں بیٹھے ہوئے”۔ گویا حضرت نے فوری طور پر متوجہ کر دیا کہ دوسروں کی فکر کرنے کی بجائے اس پر توجہ دو کہ کہیں تم بھی اس گلشن کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے؟ کہیں تم بھی ملک و قوم کی ترقی کی بجائے زبوں حالی کا سبب تو نہیں؟

اس واقعہ کو جب 35سال گزر گئے تو حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کے انتقال سے سال بھر پہلے میں نے عرض کیا: حضرت! اگر اجازت ہو تو اس شعر کا پہلا مصرعہ سنائوں؟ حضرت نے فرمایا کہ ہاں سنائو۔ تو میں نے سنایا:
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہوگا
یہ سن کر حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ فوراً کہہ اٹھے: واہ، واہ، واہ۔

ایک بار بتانے لگے کہ دارالافتاء میں ایک طالب علم تھا جو بہت امیر تھا۔ اس کا تعلق ایران کے بڑے امیر کبیر خاندان سے تھا، اونچا لمبا قد، لحیم شحیم، خوبصورت اور خوب سیرت۔ اس کا بکس ہر وقت زعفران، کاجو، اخروٹ، بادام اور مغزیات سے بھرا رہتا تھا۔ ایک روز اس نے مجھ سے پوچھا: بھائی سلیم! آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟ میں نے عرض کیا: ایک ہزار روپے۔ سن کر طنزیہ انداز میں ہنس پڑا اور بولا: ایک ہزار روپے تو میں ایک ہفتے میں کھا جاتا ہوں۔ طالب علم کی یہ بات سن کر میں نے اسے حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کا واقعہ سنایا کہ جب حضرت اپنے دور کے بہت بڑے مناظر اور آریہ سماج کے بانی دیانند سرسوتی سے مناظرے کے لیے تشریف لے گئے تو وہاں جاکر حضرت کے ساتھیوں نے دیکھا کہ جس کمرے میں سرسوتی مقیم ہے، اس میں کھانے سے بھرے بڑے بڑے طبق لے جائے جا رہے ہیں اور سرسوتی نے سارے طبق ہڑپ کر لیے۔ کسی شاگرد کے منہ سے ایسے ہی نکلا کہ اگر کھانے میں مقابلہ ہوگیا تو پھر کیا بنے گا؟ کیونکہ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تو بہت تھوڑا سا کھانا تناول فرماتے تھے۔ یہ سن کر حضرت نانوتوی نے فرمایا: مقابلہ فضائل میں ہوتا ہے، رزائل میں نہیں۔ حیوانیت میں کسی کو مقابلہ کرنا ہو تو بھینس کو لائیں گے۔ بھوک میں مقابلہ کرنا ہو تو پھر ہم آگے آئیں گے۔ میں نے بھی اس طالب علم سے کہا کہ مقابلہ علم وفضل، تقوی و طہارت اور روحانیت میں کرو۔ کھانے پینے اور خرچ کر دینے میں نہ کرو۔

گزشتہ سال بھی ان سے سرسری سی ملاقات ہوئی تھی۔ حضرت استاد صاحب دامت برکاتہم سے ملاقات کے لیے تشریف لائے تھے اور بعد از عصر جامعة الرشید میں تھے۔ کافی نحیف و کمزور محسوس ہو رہے تھے۔ اندازہ نہیں تھا کہ اتنی جلدی رخت سفر باندھ لیں گے اور یہ خوش گفتار و خوش کردار شخصیت دنیا سے رخصت ہو لے گا۔ خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائیں، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں، آخرت کی ساری منزلیں آسان فرمائے اور ان کی قبر کو جنت کا باغ بنا دے۔ آمین ثم آمین۔