پمز سانحے کے ذمہ دار کسی ایک آدمی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وزیر صحت

اسلام آباد:وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پمز سانحہ کے حوالے سے جو فیصلے ہوں گے شواہد کی بنیاد پر ہوں گے۔ وزیراعظم کی جانب سے کمیٹی قائم کردی گئی ہے، جو ذمہ دار ہوگا کسی ایک آدمی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے، پارلیمانی کمیٹی کو ٹائم بانڈ نہ کریں۔قومی اسمبلی کا اجلاس قائم مقام اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی صدارت میں شروع ہوا۔ شازیہ مری نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 26 اگست کو پمز ہسپتال میں دلخراش سانحہ پیش آیا، اسمبلی کا بزنس رول 288 کے تحت معطل کیا جائے اور تمام ارکان کو اس اہم سانحے پر بحث کا موقع دیا جائے۔

ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ تمام ممبران چیمبر میں آئے تھے، آج کے دن صرف اس سانحے پر بحث ہوگی۔ سانحہ پمز پر قومی اسمبلی کا ایجنڈا معطل کردیا گیا، ایوان کی کارروائی معطل کرنے کی تحریک وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے پیش کی۔ سانحہ پمز میں بچوں کے والدین کے لیے دعا بھی کی گئی۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ بہت بڑا حادثہ ہے، حادثہ چیز ہی ایسی ہے جو اچانک رونما ہوتا ہے۔ حادثے کی وجوہات تک پہنچنے کے لیے وزیراعظم نے اسی دن دو کمیٹیاں تشکیل دیں۔ ایک کمیٹی سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں بنائی گئی ہے، جو اپنی ابتدائی رپورٹ آج دے گی، جبکہ دوسری کمیٹی ڈاکٹر اظہر کیانی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے جو 7 روز میں اپنی رپورٹ دے گی۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یہ اندوہناک واقعہ تھا، ہم سب پاکستانی ہیں، ہم سب بچوں کے والدین ہیں۔ سیاسی بیانیے کی بجائے تجاویز دیں تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سانحہ پمز پر پوری قوم افسردہ ہے، مسئلے کے حل کی طرف جانا چاہیے۔ افسوس ایک واقعہ ہوتا ہے اسے ہضم کرلیتے ہیں اور اگلا واقعہ پھر ہوجاتا ہے۔ قوم کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کمیشن یا کمیٹی بناتے ہیں، دو روز اسمبلی میں تقاریر ہوتی ہیں، میڈیا میں چار روز شور اٹھتا ہے پھر خاموشی ہوجاتی ہے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ نوزائیدہ بچے کی ذمہ داری بہت بڑی ہے، نرسری میں آگ لگی مگر ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ آگ کیسے لگی۔ کیا اس وقت بچوں کے پاس کوئی اہلکار تھا؟ دروازے کو تالے لگے ہوئے تھے، کہا گیا بچے چوری ہونے سے بچانے کے لیے تالے لگائے گئے۔ کیا بچوں کو چوری ہونے سے بچانے کے لیے چودہ بچوں کو موت کے حوالے کردیا گیا؟

اپوزیشن رکن اسد قیصر نے کہا کہ سانحہ پمز پر دل دکھی ہے، اسلام آباد کے دل میں بنے سب سے بڑے ہسپتال کا یہ حال ہے تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ سوچیں بچے اور ان کی مائیں کس کرب سے گزرے ہیں۔ وزیر صحت کے پاس تو سیٹ پر رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ وزیر صحت ہی نہیں وزیراعظم کو بھی استعفی دینا چاہیے۔ اسد قیصر نے کہا کہ شہباز اسپیڈ بھی بے نقاب ہوگئی، اسلام آباد کا جو حال شہباز اسپیڈ نے کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ سابق وزیراعظم کو اسی پمز ہسپتال لے کر علاج کے لیے آئے تھے۔ پمز انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ فارم 47 کی حکومت کچھ بھی نہیں کرے گی، اس حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔

وفاقی وزیر قومی صحت مصطفی کمال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ بہت بڑا ہے اور معصوم جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ 14 بچوں کی اموات کی کوئی وضاحت نہیں دی جا سکتی۔ اس پر میں نے بہت کام کیا، جو کچھ کیا کوئی اس کے قریب نہیں پہنچ سکتا۔مصطفی کمال نے کہا کہ جو فیصلے ہوں گے شواہد کی بنیاد پر ہوں گے۔ وزیراعظم کی جانب سے کمیٹی قائم کردی گئی ہے، جو ذمہ دار ہوگا کسی ایک آدمی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے، پارلیمانی کمیٹی کو ٹائم بانڈ نہ کریں۔