اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس میں پمز سانحے پر شدید بحث سامنے آئی، جس میں واقعے کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ سامنے آیا، جبکہ ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور کی گئی۔سینیٹ کا اجلاس پریزائیڈنگ آفیسر منظور احمد کاکڑ کی زیر صدارت شروع ہوا، جس میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے معمول کی کارروائی معطل کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر سینیٹر شیری رحمان نے تحریک پیش کی۔ بعد ازاں سینیٹ نے معمول کی کارروائی معطل کردی اور پمز سانحہ پر بحث شروع کردی۔ سینیٹ میں سانحہ پمز پر بحث کے لیے وقفہ سوالات بھی معطل کردیا گیا، جس کی تحریک شیری رحمان نے پیش کی۔
اجلاس میں حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل 2026 واپس لے لیا۔ بل واپس لینے کی تحریک وزیر آئی ٹی کی جگہ وزیر مملکت طلال چوہدری نے پیش کی۔سینیٹر علی ظفر نے پمز واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے واقعے کی مکمل انکوائری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پمز واقعے کی ذمہ داری ہر اس شخص پر ہے جو بجٹ پاس کرنے میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صحت کے بجٹ پر کٹ کا غریب آدمی کی صحت پر اثر پڑنے کی نشاندہی کی تھی۔
سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ معاملے پر سینیٹ کی کمیٹی بنائی جائے، جس کی سربراہی اپوزیشن کا کوئی رکن کرے۔ کمیٹی میں 50 فیصد حکومتی اور 50 فیصد اپوزیشن ارکان ہونے چاہییں، جبکہ کمیٹی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے ایس او پیز بنائے۔علی ظفر نے کہا کہ کمیٹی کو اختیار دیا جائے کہ کسی بھی ادارے کو اپنی مدد کے لیے بلا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹیوں پر عوام کو یقین نہیں ہے۔
سینیٹر پرویز رشید نے اظہار خیال کرتے ہوئے سی ایم ایچ کے نظام کو پمز میں بھی فالو کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ سی ایم ایچ میں سپاہی سے جنرل تک کا علاج ہوتا ہے اور وہاں ایسے واقعات کی کبھی شکایات نہیں آئیں۔انہوں نے پمز سانحہ کو بہت بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا المیہ نہیں تھا، ایسے واقعات روز ہوتے ہیں۔ پرویز رشید نے کہا کہ روز المیہ ہوتا ہے، لوگ روتے ہیں اور پھر آگے چل پڑتے ہیں، ایسے المیے ختم نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹیاں بھی بنتی ہیں، تحقیقات بھی ہوتی ہیں اور سزا جزا بھی ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود مسئلہ برقرار رہتا ہے۔
پرویز رشید نے تجویز دی کہ قانون بنایا جائے کہ سرکاری تنخواہ اور مراعات لینے والوں اور ان کے اہلخانہ کا علاج سرکاری اسپتال میں ہوگا۔ سرکار سے تنخواہ لینے والوں کے نجی اسپتال سے علاج پر پابندی لگائی جائے۔ ایسا قانون بنادیا جائے تو دنوں میں اسپتال عالمی معیار کے ہوجائیں گے۔انہوں نے سرکار سے تنخواہ لینے والوں پر پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی پابندی اور ان کے بچوں کو سرکاری اسکولز میں لازمی داخل کرنے کا قانون بنانے کی تجویز بھی دی۔
نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی نے پمز سانحے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 20ہزار ارب روپے کا قومی بجٹ تھا لیکن پمز نہیں چلا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ 4 صوبے نہیں چلا سکتے، 25 بنا دیے تو کیا حشر ہوگا؟سینیٹ میں پمز سانحہ پر بحث کے دوران فلک ناز چترالی نے کہا کہ وزیر صحت سینیٹ اجلاس میں پمز کے قصیدے پڑھ رہے تھے، اس پر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے دن پمز گئیں تو سیکیورٹی گارڈز نے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔
فلک ناز چترالی نے کہا کہ بچے شاپنگ بیگ میں والدین کو دیے گئے اور کہا گیا کہ کسی کو بتانا نہیں اور یہاں سے چلے جا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دو اسپتال سنبھالے نہیں جاتے اور یہ اچھل اچھل کر کہتے ہیں کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے۔فلک ناز چترالی نے وزیر صحت اور حکومت کو قصوروار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیڈر بانی پی ٹی آئی کو اسی اسپتال لے جایا گیا تھا۔ یہ جال بانی پی ٹی آئی کے لیے بچھایا گیا تھا اور بانی پی ٹی آئی کو پمز لانا سیکیورٹی رسک ہے۔
فلک ناز چترالی کی تقریر پر مسلم لیگ ن کے ارکان اور ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے احتجاج کیا۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ پہلے طے کرلیں کہ سیاست پر بات کرنی ہے یا پمز واقعے پر۔ انہوں نے کہا کہ پمز واقعے پر بات کے بجائے آخر میں یہ چور کو لے آئے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سب سے زیادہ عوام کا خادم وزیر ہوتا ہے، ہم عوام کے نوکر ہیں اور عوام شہنشاہیوں سے تھک چکے ہیں۔ عوام کہتے ہیں ہمیں سہولت چاہیے ، لوگ ایوانوں سے لوگ ناامید ہوچکے ہیں۔ انہوں نے سانحے پر تحقیقات کیلئے ہاس کمیٹی کا مطالبہ کیا۔
اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پمز اسپتال کے ای ڈی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کے خلاف سپریم کورٹ کے کیسز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف پارلیمنٹیرینز نے اس ای ڈی کے خلاف بات کی، اس کے باوجود اسے نہیں ہٹایا جاسکا۔ ای ڈی کو وزیراعظم بھی نہیں ہٹا سکے، سوال یہ ہے کہ نااہل آدمی کو کس نے لگایا تھا۔ اتنے بڑے المیے کے بعد بھی اس نااہل شخص کو نہیں ہٹایا جاسکا۔ انہوں نے سب سے پہلے ای ڈی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اس شخص کی موجودگی میں شفاف تحقیقات کیسے ہوسکتی ہیں۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ حادثہ نہیں بچوں کا قتل ہے۔ اس پر سینیٹ کی کمیٹی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اگر پمز میں لانے کی کوشش کی گئی ہے تو یہ قتل کی سازش ہے۔ انہوں نے سینیٹر پرویز رشید کی تائید بھی کی کہ حکومت پاکستان سے تنخواہ لینے والے کسی شخص کو نجی اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہید بچوں کے والدین کو پریشرائز کیا جارہا ہے کہ وہ نہ بولیں۔
شیری رحمان نے ایوان میں قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ یہ کمیٹی تشکیل دیں۔ ایوان نے قرارداد منظور کرلی۔

