میں نے آگے بڑھ کر دستک دی اور جھونپڑی میں داخل ہو گیا۔ میں نے اس جھونپڑی تک پہنچنے کے لیے پندرہ سو کلو میٹر کا سفر طے کیا تھا اور اس طویل سفر کے دوران میں نے کئی بار واپس جانے کا سوچا لیکن بابا جی سے ملنا میری پرانی حسرت تھی اور آج یہ حسرت مجھے پہاڑوں میں گھری اس جھونپڑی میں لے آئی تھی۔ سفر جتنا دشوار تھا، اس سے کہیں زیادہ خوفنا ک بھی۔ ڈر اور خوف کی اپنی نفسیات ہوتی ہیں اور انسان چاہتے ہوئے بھی ان نفسیات سے جان نہیں چھڑا سکتا اور میرے ساتھ بھی اس رات یہی ہوا تھا، ہر طرف اندھیرا تھا، خاموشی تھی، خوفناک آوازیں تھیں اور میں ان خوفناک آوازوں کے بیچ اکیلا کھڑا سردی اور خوف سے کپکپا رہا تھا۔ خوف اور وہم دو جڑواں بھائی ہیں اور میں اس وقت خوف کے ساتھ ساتھ وہم کا بھی شکار ہو گیا تھا۔ ہم جب خوف کا شکار ہوتے ہیںتو خوف کم اور وہم زیادہ ہوتا ہے اور یہی وہم ہمارے خوف کی اصل بنیادہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے اعصاب پر قابو پالیں اور وہم کو اپنے اوپر سوار نہ ہونے دیں تو ہمار ا اسی فیصد خوف ختم ہو سکتا ہے۔ وہم انسان کو لاحق ہونے والی بیماریوں میں سب سے خوفناک بیماری ہے اور آج تک اس بیماری کا علاج دریافت نہیں ہو سکا۔
مجھے بابا جی کے بار ے میں میرے ایک کلاس فیلو نے بتایا تھا، بہت عرصہ پہلے میں اور میرا یہ دوست دونوں لاہور کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے، ہم دونوں مختلف موضوعات پر بحث کرتے تھے اور یہ بحث ہماری کئی کئی راتیں نگل جاتی تھی، اسی طرح کی ایک رات تھی، ہم خوش رہنے کے طریقوں پر بحث کر رہے تھے، اس رات بحث کے دوران میرے دوست نے ان بابا جی کا تذکرہ کیاتھا اور آج کئی سالوں بعدمیں اس بابا جی کو تلاش کرنے ان کی جھونپڑی کے باہر موجود تھا۔ میں رات عشا کے بعد وہاں پہنچا تھا، میں نے آنے کا مدعا بیان کیا، بابا جی نے سنا اور صبح کا پروگرام طے ہو گیا۔ صبح ہوئی تو بابا جی مجھے ساتھ لے کر پہاڑوں کی طرف چل دیے، ہم مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں ہر طرف پہاڑ تھے اور درمیان میں کچھ جگہ خالی تھی۔ وہاں پہنچ کروہ رک گئے، انہوں نے میری طرف دیکھا اور میرا ہاتھ پکڑ کے مجھے سامنے کی طرف منہ کر کے کھڑا ہونے کا حکم دیا، میں پہاڑوں کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا، بابا جی نے مجھے کچھ بول دہرانے کا حکم دیا، میں جو کچھ بھی بولتا تھا میری آواز پہاڑوں سے ٹکرا کے ہوبہو مجھے سنائی دیتی تھی، میں ایک بار بولتا تھا لیکن میری آواز مجھے سات دفعہ سنائی دیتی تھی۔ باباجی آگے بڑھے اور بولے ”اب ان پہاڑوں کی طرف منہ کر کے زور سے چیخ کر دکھاؤ” میں نے وضاحت طلب نظروں سے باباجی کی طرف دیکھا، ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ چھا گئی، وہ بولے ”اگر آپ کو خوش رہنے کا فن سیکھنا ہے تو آپ کو یہ کرنا پڑے گا” میں نے بے بسی کو سامنے کھڑے دیکھا جو میرا منہ چڑا رہی تھی، میں نے ہمت کر کے چیخنے کی کوشش کی، میں جیسے ہی خاموش ہوا مجھے یوں لگا جیسے بہت سارے لوگ مجھ پر مل کر چیخ رہے ہیں، میں نے ایک آواز نکالی تھی لیکن مجھے میری یہ آواز سات بار سنائی دی، یہ بہت ناگوار تجربہ تھا میں نے کانوں پر ہاتھ رکھ دیئے اور آواز سننے سے انکار کر دیا۔
تھوڑی دیر بعد بابا جی سامنے آئے اور بولے ”اب تم پیار کا کوئی بول بولو، کوئی نغمہ یا ترانہ پڑھو یا کسی پرندے کی آواز نکالنے کی کوشش کرو” میں نے کوئل کی آواز نکالی، یہ آواز بھی سات آوازوں میں تبدیل ہو کر مجھے سنائی دی لیکن یہ بڑا خوبصورت تجربہ تھا، یوں لگا جیسے بہت ساری کوئلیں مل کر محبت کا کوئی راگ گا رہی ہیں، میرے لیے یہ تجربہ بہت خوشگوار تھا، میں نے بار بار مختلف آوازیں نکالیں اور کافی دیر تک اس تجربے سے محظوظ ہوتا رہا۔ بابا جی آگے بڑھے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے ایک چٹان پر بیٹھنے کا حکم دیا اور بولے ”زندگی اسی بازگشت کا نام ہے، ہم زندگی میںجو کچھ بھی کریں گے وہی ہماری طرف لوٹے گا، اگر ہم گالی بکیں گے تو ہمیں گالی سننی پڑے گی، کسی کو برا کہیں گے ہمیں برا سننے کو ملے گا، کسی کی غیبت کریں گے ہماری غیبت کی جائے گی، ہم کسی سے غصے سے بات کریں گے جواب میں ہمیںبھی غصہ برداشت کرنا پڑے گا۔ اور اگر ہم کسی سے اچھے بول بولیں گے جواب میں ہمیں بھی وہی رویہ دیکھنے کو ملے گا، ہم کسی کی تعریف کریں گے ہمیں تعریف سننے کو ملے گی، ہم کوئی نغمہ یا گیت گائیں گے تو ہمیں یہی الفاظ واپس لوٹائے جائیں گے، ہم کسی پر کانٹے اچھالیں گے تو ہمیں بھی کانٹے سہنے پڑیں گے اور اگر ہم کسی پر پھول برسائیں گے تو ہمیں پھول چننے کو ملیں گے، ہم کسی کو شکست دینے کا سوچیں گے تو کوئی ہمیں شکست دے گا، ہم کسی کا اچھا چاہیں گے تو ہمارا بارے میں اچھا چاہا جائے گا اور اگر ہم کسی کا برا سوچیں گے تو ہمارے بارے میں برا سوچا جائے گا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ہم کسی کے راستے میں کانٹے بچائیں اور جواب میں ہمیں پھول چننے کو ملیں، ہم کسی کو پتھر ماریں اور وہ ہم پر پتیاں نچھاور کرے اور ہم کسی کو گالی دیں اور وہ ہمارے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کرے۔ زندگی اسی باز گشت کا نام ہے اور یہی خوش رہنے کا سلیقہ بھی، آپ خود خوش رہنا چاہتے ہو تو دوسروں کو خوش رکھو، دوسروں کے راستے سے کانٹے چن کر ان کے راستوں میں پھول بچھا ؤ گے تو تمہیں خوشیاں ملیں گی۔” وہ رکے، سانس لی اور زرا توقف کے بعد بولے ”تم نے بلاوٹسکی کا نام سنا ہوگا، بڑی عجیب خاتون تھی، وہ جب بھی سفر پر نکلتی اپنے بیگ میں ہمیشہ پھولوں کے بیج رکھتی تھی، وہ سفر کے دوران ٹرین یا بس میں جہاں بھی جاتی کھڑکی سے بیج باہر پھینکتی جاتی تھی، ایک بار لوگوں نے اس سے پوچھا ”تم ایسا کیوں کرتی ہو؟” اس نے جواب دیا ”برسات کا موسم ہے، پودے اگ رہے ہیں، میں یہ بیج باہر پھینک رہی ہوں کل کو بارش کا کوئی قطرہ ان بیجوں پر گرے گا، کونپلیں پھوٹیں گی، یہ پودے بن جائیں گے اور ان پودوں پر پھول اگیں گے اور دیکھنے والوں کے لیے یہ منظر بڑا خوبصورت ہوگا۔” لوگوں نے پوچھا ٹھیک ہے اگر پھول کھل بھی جائیں تو تم ان کو نہیں دیکھ سکو گی کیونکہ تم تو شاید ہی دوبارا س سڑک پر سفر کر سکو۔” اس نے جواب دیا ”جب میں دوسروں کے لگائے پھول دیکھتی ہوں تو مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے، یہ پھول اگانے والوں کا مجھ پر قرض ہے اور بیج پھینک کر میں یہی قرض اتارنا چاہتی ہوں!”
بابا جی نے بات ختم کی اور سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا، میں نے ایک ماہر شاگرد کی طرح سینے پر ہاتھ رکھ کر سر آگے کو جھکا دیا اور عرض کیا بابا جی میں خوش رہنے کا یہ فن سیکھ چکا ہوں۔

