غزہ،پناہ گزین کیمپ، خیموں پر صہیونی حملے،8شہید،امدادی دفترپر قبضہ

غزہ:غزہ کی پٹی میں قابض صہیونی فوج نے وحشیانہ فوجی کارروائیاں کرتے ہوئے مزید8 فلسطینیوں کوشہیدکردیا۔

منگل کی صبح قابض دشمن کی طرف سے ٹارگٹڈ حملوں کا سلسلہ شروع کیاگیا، جس میں ڈرون طیاروں کے حملے، توپ خانے کی گولہ باری اور فائرنگ شامل تھی اس وحشیانہ جارحیت کے نتیجے میں متعددشہری زخمی ہو گئے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق خان یونس شہر کے مغرب میں قابض دشمن کے ایک ڈرون طیارے کے حملے کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور دیگر کئی زخمی ہو گئے۔پٹی کے وسط میں واقع البرح پناہ گزین کیمپ پر کیے گئے اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں چار سالہ معصوم بچہ حسن الحافی شہید اور تین دیگر افراد زخمی ہو گئے۔

دیر البلاح کے مقام پر واقع شہداء الاقصیٰ ہسپتال کے قریب بے گھر افراد کے خیمے پر قابض دشمن کے طیاروں کے حملے کے نتیجے میں دو شہری شہید اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔خان یونس شہر کے مغربی السطر کے علاقے میں قابض فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں امل نشت بو خاطر نامی چھوٹی بچی جامِ شہادت نوش کر گئی۔

دریں اثناء اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے شمال میں واقع فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا کے قلندیہ ٹریننگ سینٹر کو ضبط کرلیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یروشلم میونسپلٹی نے کفر عقب کے پڑوس میں ایک نیا تعلیمی اور کمیونٹی کمپلیکس قائم کرنے کے لیے کام شروع کر دیا ہے جس سے ہزاروں فلسطینی باشندوں کی سہولت کاری ہو گی۔

وزارت نے دعویٰ کیا کہ یہ جگہ 1937ء سے جیوش نیشنل فنڈ کی ملکیت تھی اور اسے یروشلم میونسپلٹی کو اس منصوبے کے لیے مختص کیا گیا تھا۔اسرائیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انروا نے زمین پر کئی دہائیوں سے باڑ لگا رکھی تھی حالانکہ اس پر کوئی ملکیت کا حق نہیں تھا۔

علاوہ ازیںحماس نے کہا ہے کہ قابض صہیونی حکام کی طرف سے منگل کی صبح مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قصبہ کفر عقب میں اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے فلاحی ادارے انروا کے کمپلیکس پر غاصبانہ قبضہ ہمارے فلسطینی عوام کے خلاف جاری منظم جارحیت کا تسلسل، ایک بین الاقوامی ادارے پر صریح حملہ ہے۔

حماس نے منگل کے روز جاری بیان میں اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی اور امتی سطح پر جاری بے بسی اور ان بار بار ہونے والی صہیونی کارروائیوں پر کسی حقیقی ردعمل کا فقدان جو کہ بین الاقوامی نظام سے حقارت پر مبنی ہیں، وہی چیز ہے جو قابض صہیونی ریاست کو اپنی جارحیت کو بڑھانے اور طاقت کے بل بوتے پر امرِ واقعہ مسلط کرنے پر دلیر بناتی ہے۔

ادھرمقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں منگل کے روز فجر کے وقت قابض صہیونی افواج کی طرف سے دھاوئوں کا سلسلہ بھی جاری رہا جبکہ یہودی آباد کاروں نے بھی حملے کیے۔

جنین گورنری میں دھاوے کی کارروائیوں کا دائرہ کار شہر کے مشرق میں واقع جلقموس گاؤں تک پھیل گیا جہاں قابض افواج نے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کی مہم چلائی جبکہ یہ کارروائیاں جنین کے جنوب مغرب میں واقع برطعہ گاؤں اور مغرب میں واقع السیلة الحارثة قصبے تک بھی گئیں۔

قابض افواج نے جنین کے جنوب میں واقع عرب امریکن یونیورسٹی کے راستے پر گزرنے کے دوران نور السویط نامی نوجوان کو حراست میں لے لیا جبکہ قابض فوج نے طوباس شہر پر بھی چڑھائی کی۔

رام اللہ گورنری میں ہونے والے دھاوئوں میں دیر دبوان، کفر مالک اور دیر جرر کے قصبات شامل رہے جہاں قابض افواج نے کفر مالک میں متعدد مکانات کی تلاشی لی جبکہ دیر دبوان پر دھاوے کے دوران دکانیں بند کرا دی گئیں اور ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا۔

دوسری جانب رام اللہ کے شمال میں واقع سنجل قصبے کے مشرقی میدان میں یہودی آباد کاروں نے ایک فلسطینی گاڑی کا گھیراؤ کر لیا۔الخلیل کے شمال میں واقع بیت امر قصبے میں جھڑپیں پھوٹ پڑیں جن کے دوران قابض افواج نے گیس کے گولے برسائے جبکہ الخلیل شہر میں شارع الملک فیصل کے علاقے پر دھاوے کے دوران ایک فوجی ناکہ بھی قائم کیا گیا۔