غزہ/تل ابیب:یورپی یونین نے بھی اسرائیل کے ای ون آباد کاری منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت سے ای ون منصوبے کا ٹینڈر واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔
یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے نے کہا کہ ای ون سمیت مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاریاں غیرقانونی ہیں۔
دریں اثناء چین کے صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کی جڑ فلسطین کا مسئلہ ہے۔
شی جن پنگ نے اس مسئلے کے سیاسی حل، فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے جلد قیام پر زوردیا۔چینی صدر نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہونا چاہیے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے دیرینہ ہدف کو عملی شکل دی جانی چاہیے۔
علاوہ ازیںغیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی وزارت صحت نے بتایاہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں دو مختلف علاقوں میں فضائی کارروائی کی جس میں ایک بچے سمیت دو افراد شہید ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کے وسطی علاقے زاوائیدا میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا اور اسرائیلی فوج کی جانب سے عمارت کے مالکان کو علاقے سے چلے جانے کے لیے وارننگ جاری کی گئی۔
وزارت صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں عمارت سے ملبہ کئی میٹر دور تک پھیل گیا جس سے7 افراد زخمی ہوئے اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں 4 سالہ بچہ محمد عبدالسلام طحہ دم توڑ گئے۔
ادھرشہری دفاع کے شعبہ انخلا کے ذمہ دار محمد ابو دان نے بتایا کہ شہری دفاع کی ٹیمیں غزہ شہر کے جنوب میں واقع حی الزیتون میں سلمی خاندان کے گھر کو نشانہ بنائے جانے کے تقریباً تین سال بعد وہاں سے9شہدا کی باقیات نکالنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔
محمد ابودان نے وضاحت کی کہ حی الزیتون میں مسجد بدر کے قریب واقع سلمی خاندان کے اس گھر کو20 نومبر2023ء کو نشانہ بنایا گیا تھااور اس وقت اس کے اندر17شہداء موجود تھے۔
دریں اثنائاسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ غزہ سے اڑنے والی پتنگوں کو جنگی ہتھیار تصور کیا جائے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے غزہ سے پتنگیں، غبارے اور ڈرونز اسرائیلی حدود کی جانب بھیجے جانے کے دعوے کے بعد حملے تیز کرنے کی دھمکی دے دی۔
اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ غزہ سے آنے والی 4 پتنگوں میں کوئی دھماکا خیز یا مشتبہ مواد موجود نہیں تھا۔اس کے باوجود اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے غزہ میں کارروائیاں بڑھانے اور بعض رہائشی علاقوں سے فلسطینیوں کو انخلا کا حکم دینے کی دھمکی دی ہے۔
حماس نے اسرائیلی موقف کو مزید حملوں کا بہانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بے گھر فلسطینی بچوں کی جانب سے اڑائی جانے والی پتنگوں کو جواز بنا کر فلسطینیوں پر حملے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسرائیلی اخبار ماریو نے انکشاف کیا ہے کہ طویل اسرائیلی فوجی آپریشنز فوجیوں، ریزروسٹ اور آلات کے اختتام کی وجہ بن رہے ہیں، تقریباً 53,000 ریزروسٹ روزانہ خدمات انجام دے رہے ہیں اور ریزرو موبلائزیشن پر اربوں شیگل لاگت آرہی ہے۔
اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ اسرائیلی فوج نے تین سالوں سے بھی کم عرصے میں اتنی مقدار میں گولہ بارود استعمال کیا ہے جو اس نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران استعمال کیا تھا،رپورٹ میں اسرائیل کی فوجی افرادی قوت، سازوسامان اور مالیات پر بڑھتے ہوئے دبائو کو اجاگر کیا گیا۔
اسرائیلی اخبار نے رپورٹ کیا کہ اس عرصے کے دوران اسرائیلی فضائیہ کی کارروائیاں عام آپریٹنگ حالات میں تقریباً نو سال کی سرگرمی کے برابر پہنچ گئیں۔ٹینکوں اور بکتر بند پرسنل کیریئرز کو بھی ہزاروں انجن تبدیل کرنے کی ضرورت پڑی ہے جو مسلسل آپریشنل ٹیمپو کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اہلکاروں پر اثرات زیادہ مشکل چیلنج پیش کرتے ہیں۔دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کو چھوڑ کر اسرائیلی فوج کے اہلکاروں میں 1,138 ہلاکتوں کی اطلاع ہے جب کہ 11,730 فوجیوں کو سرکاری طور پر جسمانی یا نفسیاتی مریضوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نفسیاتی صدمے سے متاثرہ اہلکاروں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔اخبار نے کیریئر کے سپاہیوں میں تھکاوٹ کی علامتوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جن کو کمانڈ اسائنمنٹس کی پیشکش کی گئی تھی انہوں نے کم مطالبہ والی پچھلی پوزیشنوں کا انتخاب کیا یا مکمل طور پر ملٹری سروس چھوڑ دی۔
امریکی ثالثی میں شام اور اسرائیل کے اردن میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے جس کا مقصد شام میں اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد پیدا کشیدگی کو کم کرنا تھا۔شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق شامی وزیرِخارجہ اسعد الشیبانی اور انٹیلی جنس سربراہوں کی اردن میں اسرائیل کے اعلیٰ سطح وفد سے ملاقات ہوئی۔
شامی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق ملاقات میں امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا، شام اوراسرائیلی وفود کی ملاقات حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد کشیدگی کم کرنے کیلئے ہوئی۔ مذاکرات میں اسرائیلی حملے،گرفتاریوں اور ٹارگٹڈ کارروائیاں روکنے کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی۔
شام نے ایک بار پھر موقف دہرایا کہ گولان کی پہاڑیاں مقبوضہ شامی علاقہ ہیں، گولان کی پہاڑیوں کی حتمی حیثیت پربات قبل ازوقت ہے۔
دوسری جانبشمالی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر دونوں ممالک نے براہِ راست ٹکرا ئوسے بچنے کیلئے خفیہ رابطے قائم کیے ہیں ۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سیکورٹی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل ترکیہ کو دشمن نہیں بنانا چاہتا، تاہم شام میں مزید کارروائی کا امکان بھی خارج نہیں کیا جاسکتا۔
رپورٹ کے مطابق اس پس منظر میں ایک اسرائیلی سیکورٹی عہدیدار نے انکشاف کیاکہ اسرائیل نے ٹکرائو سے بچنے کیلئے ترکیہ کے ساتھ خفیہ رابطے کے ذرائع کھول دیے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل ترکیہ کو دشمن میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔
اسرائیلی عہدیدار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور کسی بھی قسم کے براہِ راست ٹکرائو سے بچنے کیلئے خفیہ رابطے قائم کیے گئے ہیں۔ یہ بات اسرائیلی چینل 2 کے حوالے سے سامنے آئی ہے تاہم اسرائیلی عہدیدار نے شام میں اسرائیل کی جانب سے مزید حملوں کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
ادھراسرائیلی اخبار نے کہا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو اسرائیل کو ترکیے کے ساتھ بے مقصد جنگ میں دھکیلنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز نے شام میں ایئربیس پر حملے کے فیصلے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے اسرائیل ترکیے کے ساتھ بے مقصد جنگ میں پھنس سکتا ہے۔
اخبار نے لکھا ایسا لگ رہا تھا الیکشن سے قبل نیتن یاہو غزہ یا لبنان میں جنگ چھیڑیں گے یا مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھائیں گے تو انہوں نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے شام میں ترکیے کے ساتھ ایک نیا محاذ کھولنے کا فیصلہ کر لیا۔

