ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں، سلسلہ کہاں تھمے گا؟

امریکا نے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق جو ملک یا کمپنی ایران کے ساتھ تجارتی معاملات جاری رکھے گی اسے بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکا کی جانب سے ایران پر مزید اقتصادی پابندیوں کے اعلان پر چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی ہے۔ چینی وزرات خارجہ کے مطابق یہ عمل غیر منصفانہ اور مسائل کو طاقت کے بل بوتے پر حل کرنے کی کوشش ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر اقتصادی پابندیوں کا بنیادی مقصد علاقائی ممالک کے ساتھ اس کے تمام تر روابط کو مکمل طورپر منقطع کرکے،اسے عالمی تنہائی اور معاشی گرداب میں پھانس کر اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کا بہترین طریقہ اسے معاشی طورپر مفلوج کرنا ہے۔ حالات و واقعات سے ظاہر ہوتاہے کہ امریکا اسی حکمتِ عملی کو اختیار کرچکا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے ایرانی تیل کی ترسیل کو منقطع کرنے کا مقصد اقتصادی دباؤ ڈالنا ہی تھا۔ اب دوسرے مرحلے میں اقتصادی پابندیوں کا دائرہ ان وسائل ،ذرائع اور راستوں تک پھیلایا جارہاہے جہاں سے ایرانی معیشت کو آکسیجن مل سکتی ہے۔ اس دائرے میں وہ ممالک شامل ہوسکتے ہیں جو ایران کے ساتھ تیل یا کسی اور طرح کی تجارت کررہے ہیں۔امریکی پابندیوں کا نشانہ اب صرف ایران ہی نہیں رہا۔ دیگر ممالک کی اس میں شمولیت کی وجہ سے یہ ایک نیا عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس کے فوری اثرات تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ سوال یہ کہ اقتصادی پابندیوں کا یہ سلسلہ آخر کیا رخ اختیار کرے گا ؟

یہ امر واضح ہے کہ اقتصادی پابندیاں محض حربہ ہے ، کسی مسئلے کا یقینی حل نہیں ہیں۔ معاملات کا حل مذاکرات ہی میں پوشیدہ ہے۔ اگر محض اقتصادی پابندیوں ہی سے کسی ملک کو اپنی پسندیدہ شرائط پر مجبور کیا جاسکتا تو روس اب تک یوکرین کی جنگ سے ہاتھ کھینچ چکا ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ماضی میں خود وطنِ عزیز پاکستان ہی امریکی پابندیوںکا شکار رہ چکا ہے۔ امریکا کی جانب سے یہ اقتصادی پابندیاں جوہری قوت کے حصول کے ردعمل میں عائد کی گئی تھیں لیکن پاکستان نے ان پابندیوںکا استقلال کے ساتھ سامنا کیا اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور میزائل پروگرام جاری رکھا۔ یہ دو مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ محض اقتصادی پابندیاں شدیدنوعیت کی مشکلات کا باعث بننے کے باوجود کسی ملک یا قوم کے عزم کو حتمی طورپر کمزور نہیں کرسکتیں ۔ اب تک ایران کے عوام نے اپنی حکومت کا ساتھ دیا ہے اور بیرونی دباؤ کی وجہ سے موجودہ ایرانی قیادت کے خلاف عوامی بغاوت یا انقلاب کا کوئی رویہ سامنے نہیں آیالہذا شدید اقتصادی پابندیوں کے باوجود اس امر کا امکان موجود ہے کہ نئی پابندیاں بھی ایران کی موجودہ قیادت کی تبدیلی کا سبب نہ بن سکیں ۔یعنی امریکا کو موجودہ ایرانی قیادت کے ساتھ ہی اپنے معاملات کو طے کرنا ہوگا۔ اس زیل میں وہ کون سی ممکنہ شرائط ہیں جن پر ایران سمجھوتا کرسکتاہے ؟ماہرین کے مطابق جوہری قوت سے دست برداری وہ پہلی شرط ہے جس پر ایران کو امریکی دباؤ تسلیم کرنا پڑے گا کیوں کہ اول تو ایران کے لیے جوہری قوت کا حصول تقریبا ً ناممکن ہوچکا ہے جبکہ دوسری جانب خود ایرانی قیادت پر اس نکتے پر افہام و تفہیم کی حامی بھر چکی ہے۔

دوسرا اہم معاملہ بحری گزرگا ہوں کا ہے جن میں سرفہرست آبنائے ہرمز ہے۔ باب المندب بھی پہلے اسی معاملے سے منسلک تھا لیکن حوثی باغیوں کی قرینِ قیاس شکست کے بعد باب المندب پر ایرانی اجارہ داری کا سوال غیر اہم ہوتا جارہاہے ۔ ماہرین کے مطابق آنے والے کچھ ہی عرصے میں آبنائے ہرمز کی بندش جسے ایران ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کررہا ہے، باب المندب کی مانند ہی کم اہمیت کا حامل ہوسکتی ہے کیوں کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک اس کے متبادل پر کام شروع کرچکے ہیںنیز ایران کی مستقل ضد کی وجہ سے علاقائی ممالک آخر کار اس کے خلاف کسی نئے اقدام پر مجبور بھی ہوسکتے ہیںچناں چہ ایران اس ہتھیار کو ایک حد تک ہی استعمال کرنے پر قدرت رکھتاہے۔ امریکی دباؤ کے مقابلے میں ایرانی قیادت کی مستقل مزاجی ایک قابلِ تعریف امر بھی ہوسکتی ہے لیکن سوال یہ ہوگا کہ آخر ایران کیا کھو کر کیا حاصل کررہاہے ؟محض تہذیب و اقدار کی بقا بھی ایک بڑی جیت ہوسکتی ہے لیکن کیا یہ جنگ واقعی اقدار اور تہذیبی روایات کا معرکہ ہے ؟ آبنائے ہرمز پر اجارہ داری اور علاقائی بالادستی پر غیر معقول اصرار نے اس جنگ کی اس حیثیت کو تبدیل کردیا ہے جو کہ ابتدائی ادوار میں دیکھی جارہی تھی۔ اس وقت دنیا اس غیر معقول جنگ سے اکتاہٹ کا شکار ہوچکی ہے۔ تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں نے پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان برپا کردیا ہے ۔ ایسے میں معاملات کو عقل و دانش اور بقائے باہمی کی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے جس کی جانب چین نے توجہ دلائی ہے۔ امریکی دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے خود ایرانی حکومت کو اس ا مر پر غور کرنا چاہیے کہ وہ اس تنازع کو آخر کن بنیادوں پر حل کرسکتی ہے؟اس لیے کہ عوام کو مسلسل قربانی کا بکرا بنانا بھی کوئی دانش مندانہ فعل نہیں ہے۔ یہ تنازع پاکستان کی کوششوں سے حل کے قریب پہنچ چکا تھا لیکن مبینہ طورپر ایرانی پاسدارانِ انقلاب اس تنازع کے پر امن حل کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ دوسری طرف امریکی انتظامیہ کا رویہ بھی انتہا پسند مزاج کا عکاس ہے۔ ایسے میں کسی منصفانہ حل کی توقعات دم توڑ رہی ہیں اور دنیا ایک نئے معاشی بحران اور اقتصادی جنگ کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

اس وقت دنیا کے اقتصادی نظام پر امریکی اجارہ داری قائم ہے۔ ایران پر عائد پابندیوں نے اگر چین کے ساتھ امریکا کی معاشی جنگ چھیڑ دی تو ڈالر کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے والے نئے معاشی اتحادوجود میں آئیں گے ۔ فی الوقت ڈالر کی اجارہ داری سے چھٹکارہ اس کے مضبوط ،مؤثر اور مستحکم نظا م کی وجہ سے ممکن دکھائی نہیں دیتا لیکن متبادل نظام بہرحال وجود میں آسکتے ہیں۔اگر امریکا نے ڈالر پر مشتمل نظام کو مسلسل ہتھیار کی صورت استعمال کیا تو آخر کار دنیا کو متبادل راستے اختیار کرنا ہی پڑیں گے کیوں کہ ضرورت انسانوں کو نئے راستے اختیار کرنے پر مجبور کردیا کرتی ہے۔ امریکا بھی ایران کی مانند ایک حد تک ہی اپنے معاشی ہتھیار کو استعمال کرسکتاہے لہذا بہتر یہی ہوگا کہ امریکا اور ایران دونوں پاکستان کے بتائے گئے طریقے کے مطابق ایک مرتبہ پھر مذاکراتی عمل کا آغاز کریں اور دنیا کو نئی جنگ میںدھکیلنے سے گریز کریں۔