غزہ/تل ابیب:مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس کے جنوب میں واقع قصبہ قصرہ کے رس العین پہاڑی کے علاقے میں واقع تین مکانات پر قابض اسرائیل کی مسلط کردہ سخت ناکہ بندی ہفتے کے روز چودہویں روز میں مکمل ہو گئی ہے۔
اس کا مقصد محصور خاندانوں کو ان کے ماحول سے الگ کرنا،ان کی نقل و حرکت پر پابندی لگانا اور امداد اور یکجہتی کے کارکنوں کو ان تک پہنچنے سے روکنا ہے جبکہ اس خطے میں ایک نئی یہودی بستی کے حقائق کو مسلط کرنے کے لیے اس محاصرے کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیے جانے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
شہری لؤی ابو ریدہ نے بتایا کہ قابض افواج اس علاقے کو سختی سے بند رکھے ہوئے ہیں، شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگائے ہوئے ہیں اور امدادی قافلوں اور یکجہتی کے کارکنوں کو ان خاندانوں تک پہنچنے سے روک رہی ہیں جو محاصرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ قابض افواج یہودی آباد کاروں کو محصور مکانات کے ارد گرد گھومنے کی مکمل آزادی دیتی ہیں جبکہ انہوں نے ایک مکان پر قبضہ کر کے اسے ایک فوجی چوکی میں تبدیل کر دیا ہے۔
ادھرمقبوضہ مغربی کنارے کے جنوب میں واقع الخلیل کے شمال مشرق میں قصبہ سعیر پر مسلح یہودی آباد کاروں کے جتھوں نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں ایک نوعمر فلسطینی نوجوان شہید اور ایک بزرگ سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔
فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ سترہ سالہ نوجوان کریم سند راجہ شلالدہ، یہودی آباد کاروں کی اندھا دھند فائرنگ سے جام شہادت نوش کر گیا ہے۔مسلح یہودی آباد کاروں کے بڑے جتھوں نے قصبہ سعیر میں فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کیا اور شہریوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔
درندوں نے ایک گھر کو نذرِ آتش کر دیا جس سے وہ مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گیا۔ادھر الخلیل کے جنوب میں الظاہریہ اور السموع قصبوں کے قریب دیر شمس کے علاقے میں مسلح یہودی آباد کاروں کے حملے میں مزید پانچ فلسطینی زخمی ہو گئے جبکہ آباد کاروں نے شہریوں کے مال مویشی (بھیڑیں) بھی چرالیے۔
حملہ آوروں نے گھروں پر پتھراؤ کیا اور فلسطینی ہلال احمر کی ایمبولینس کو بھی نشانہ بنایا اس کے شیشے توڑ دیے اور زخمیوں تک پہنچنے سے روکنے کی مذموم کوشش کی۔علاوہ ازیں السموع قصبے کے وادی الرخیم اور وادی اجحیش کے درمیان واقع خالد الزعاریر نامی شہری کی کان کنی کی جگہ (کوئری) کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
آباد کاروں نے وہاں موجود مشینری اور آلات کو آگ لگا دی اور دیواروں پر عربوں کی موت اور بے دخلی کے نسل پرستانہ نعرے درج کر دیے۔مقبوضہ بیت المقدس میں بھی وحشیانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں شعفاط قصبے میں ایک یہودی آباد کار نے طارق البزلمیط نامی پینتالیس سالہ شہری کے چہرے پر براہِ راست مرچوں کا اسپرے کیا جس سے وہ شدید جھلس گئے اور انہیں شدید تکلیف کا سامنا ہے۔
الخلیل کے مختلف علاقوں میں ہونے والے ان حملوں کے دوران قابض فوج نے سات فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔
دوسری جانب القدس گورنری نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنانے کا سلسلہ قبلہ اول کو نذر آتش کرنے کے المناک جرم کے 57 برس بعد بھی بدستور جاری ہے۔غاصب اسرائیل زمین اور مقدس مقامات پر نئے حقائق مسلط کرنے کی مذموم کوششیں مسلسل تیز کر رہا ہے۔
مسجد اقصیٰ کو آگ لگانے کے مجرمانہ واقعے کی 57 ویں برسی کے موقع پر جاری کردہ ایک بیان میں القدس گورنری نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنانا القدس اور اس کے مقدس مقامات کے خلاف منظم ہدف کا ایک ”فیصلہ کن مرحلہ” ہے۔
دریں اثناء فلسطین کے انفارمیشن سینٹر معطی نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 14 اگست سے 20 اگست تک کے عرصے میں مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے خلاف 1840 مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان ظالمانہ کارروائیوں میں 77 فلسطینی زخمی ہوئے جبکہ 164 افراد کو گرفتار یا حراست میں لیا گیا۔ اس عرصے کے دوران قابض فوج نے 257 مقامات پر دھاوے بولے اور 262 گھروں پر چھاپے مار کر انہیں تہس نہس کر دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 85 مقامات پر املاک کو مسمار یا تباہ کیا گیا، جبکہ فوجی چوکیوں (چیک پوائنٹس) پر 338 بار فلسطینیوں کو ہراساں کیا گیا۔علاوہ ازیںقابض اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے دوران غزہ کی پٹی کے وسط میں ہونے والے ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایک اور شہری شہید ہو گیا ۔
وسطی غزہ کی پٹی کے شہر دیر البلاح کے مغرب میں صحت عامہ کے مرکز کے قریب اور جمعہ صلاح کے عقب میں واقع ایک گھر کے صحن پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں 44 سالہ شریف حسین الحسنات شہید اور ایک دوسرا شخص زخمی ہو گیا۔
غزہ کے جنوبی شہر خان یونس کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فوجی گاڑیوں کی طرف سے شدید فائرنگ کی گئی جبکہ شہر کے جنوب مغرب میں واقع علاقوں کو توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا۔
ادھرنیویارک شہر میں اسرائیلی قونصل خانے کے باہر فلسطین کی حمایت میں مظاہرہ کیا گیا.میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین میں سے کچھ صہیونی مخالف کارکنوں کو پولیس نے ٹریفک میں خلل ڈالنے کے الزام میں حراست میں بھی لے لیا۔مظاہرین مین ہیٹن کے مڈ ٹاؤن علاقے میں سیکنڈ ایونیو پر جمع ہوئے جہاں پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے انتخابی عمل کو جاری رکھنے اور ماضی کے ادوار کی طرح اس سے پیچھے نہ ہٹنے پر زور دیا ہے۔
ہفتہ کے روزبیان میں حازم قاسم نے کہا کہ اتھارٹی کے نائب صدر حسین شیخ کی طرف سے صدارتی فرمان کے مطابق مقررہ وقت پر قانون ساز انتخابات کرانے کی تصدیق ایک مثبت مؤقف ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ اتھارٹی کے صدر محمود عباس انتخابی عمل کو جاری رکھیں گے اور ماضی کے مواقع کی طرح اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تحریک حماس سیاسی منظر نامے کا ایک بنیادی جزو اور فلسطینی قومی تحریک کے مرکز میں ہے اور اسی سچی قومی مرضی سے ابھرنے والی بنیاد پر وہ انتخابی عمل میں حصہ لے رہی ہے۔
دوسری جانب کئی اسرائیلی سیکورٹی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی ترکیہ کے خلاف بیان بازی کشیدگی میں ”غیر ضروری” اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب نیتن یاہو کی حکومت نے 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ترکیہ کے خلاف اپنی بیان بازی کو تیز کر دیا ہے تاہم کئی سیکورٹی اہلکار ترکیہ کے ساتھ تنازعہ کو وسیع تر عوامی تصادم کی طرف نہ دھکیلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

