کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے تعلیم بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور تعلیم کی کامیابی کے لیے نظامِ تعلیم کا مضبوط، پائیدار اور جدید خطوط پر استوار ہونا ضروری ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ قوموں کی ترقی کا راستہ اسمبلیوں، خوبصورت شاہراہوں اور بلند و بالا عمارتوں سے نہیں بلکہ اسکول کے ایک چھوٹے سے کمرے سے نکلتا ہے۔ وہاں بیٹھا ہوا بچہ دراصل ملک کا مستقبل ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب محض چند صفحات کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ آنے والی نسل کے ذہن، کردار، سوچ اور صلاحیتوں کا ابتدائی نقشہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں پرائمری سطح پر تعلیم کے طریق تدریس میں تبدیلی اور ایکٹیویٹی بیسڈ کتابیں متعارف کرانے کا فیصلہ بلاشبہ خوش آئند ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف کتاب تبدیل کر کے تعلیمی نظام تبدیل کر سکتے ہیں؟ کیا نصاب کی تبدیلی بچے کی تقدیر بدل سکے گی؟ اطلاعات کے مطابق پنجاب میں جماعت اول تا پنجم کے لیے نئے نصاب کے تحت ایسی کتابیں تیار کی جا رہی ہیں جن میں رٹا لگانے کی بجائے سرگرمیوں، عملی مشاہدے، تخلیقی سوچ، مسئلہ حل کرنے اور روزمرہ زندگی سے ربط پر زور ہوگا۔ یہ وہی سمت ہے جس کی پاکستانی تعلیم کو برسوں سے ضرورت محسوس ہوتی رہی ہے۔ پنجاب کی موجودہ حکومت اس لحاظ سے داد کی مستحق ہے کہ اس نے درست سمت میں عملی قدم بڑھایا ہے۔
امریکا اور یورپ کے کئی تعلیمی نظاموں کا جائزہ لیا جائے تو فرق صرف نصابی کتاب کا نہیں بلکہ پورے تعلیمی ماحول کا دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکا میں پرائمری طلبہ کو سالانہ تقریبا 974 گھنٹے لازمی تدریس ملتی ہے جبکہ OECD (اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم جس کے رکن ممالک کی تعداد 38 ہے۔ یہ تنظیم بنیادی طور پر ترقی یافتہ اور بلند آمدنی والی معیشتوں پر مشتمل ہے( مالک کی اوسط تقریبا 804 گھنٹے ہے۔ امریکا میں پرائمری کلاس کا اوسط حجم تقریبا 20 طلبہ ہے۔ OECD ممالک میں بھی اوسط پرائمری کلاس تقریبا 21 طلبہ پر مشتمل ہے، اگرچہ ملک بہ ملک خاصا فرق پایا جاتا ہے۔اس کے مقابلے میں ہمارے ہاں مسئلہ صرف تدریسی گھنٹوں کا نہیں بلکہ ان گھنٹوں کے معیار کا بھی ہے۔ ایک طرف بچے کو کتاب، استاد، کلاس روم، بجلی، پانی، فرنیچر اور محفوظ ماحول کی مکمل سہولت میسر نہیں اور دوسری طرف اس سے امتحان میں ایسی کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے جو جدید دنیا کے بچوں سے مقابلہ کر سکے۔ پاکستان میں پرائمری اسکولوں کی بنیادی سہولیات کی صورت حال اب بھی تشویش ناک ہے، دستیاب اعدادوشمار کے مطابق 2022-23 میں ملک کے صرف 62 فیصد پرائمری اسکول بجلی، 72 فیصد صاف پانی، 74 فیصد طلبہ کے لیے بیت الخلا اور 76 فیصد چار دیواری کی سہولت رکھتے تھے۔
یہ فرق صرف عمارت کا نہیں، سوچ کا بھی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں استاد کو محض نصاب مکمل کرنے والا ملازم نہیں سمجھا جاتا بلکہ بچے کی شخصیت سازی کا بنیادی کردار ادا کرنے والا پیشہ ور سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تربیت مسلسل ہوتی ہے، اسے نئے تدریسی طریقوں سے روشناس کرایا جاتا ہے اور اسے اپنی کلاس کے مطابق تدریسی فیصلے کرنے کی گنجائش ملتی ہے۔ OECD کے مطابق اساتذہ کی تنخواہیں اور پیشہ ورانہ ترقی تعلیم پر ہونے والے اخراجات کا مرکزی حصہ ہیں، جبکہ گزشتہ برسوں میں بیشتر OECD ممالک میں پرائمری اساتذہ کی حقیقی آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔ہمارے ہاں استاد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نئی کتاب بھی پڑھ لے، نیا طریق تدریس بھی سیکھ لے، ریکارڈ بھی مکمل کرے، سرکاری مہمات بھی چلائے اور محدود وسائل میں شاندار نتائج بھی دے۔ اگر ایکٹیویٹی بیسڈ تعلیم نافذ کرنی ہے تو سب سے پہلے ٹیچر بیسڈ ریفارم ضروری ہے۔ نئی کتاب اس وقت تک نئی نہیں ہو سکتی جب تک اسے پڑھانے والا استاد نئے انداز سے نہ سوچے۔ نئے نصاب کے ساتھ بڑے پیمانے پر اساتذہ کی تربیت ناگزیر ہے۔ اور یہ تربیت محض ایک دو روزہ ورکشاپ نہیں ہونی چاہیے۔ استاد کو عملی طور پر دکھایا جائے کہ ایک سرگرمی کیسے کرانی ہے، کم وسائل میں سائنس کیسے پڑھانی ہے، بچوں کو گروپ ورک کیسے کروانا ہے، سوال پوچھنے کی عادت کیسے پیدا کرنی ہے، کمزور اور ذہین طالب علم کو ایک ہی کلاس میں کیسے ساتھ لے کر چلنا ہے اور رٹنے کے بجائے سمجھنے کو کیسے جانچنا ہے۔
یہاں حکومت کے سامنے ایک نہایت اہم انتظامی سوال بھی ہے۔ اگر نئی نصابی کتابیں 2027 کے تعلیمی سال میں نافذ ہونی ہیں تو ان کی تیاری اور فراہمی کا شیڈول محض آخری مہینوں تک نہیں جانا چاہیے۔ مثالی صورت یہ تھی کہ کتابیں اپریل ہی میں اساتذہ کو فراہم کر دی جاتیں تاکہ وہ گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے انہیں تفصیل سے پڑھتے، تدریسی منصوبے بناتے اور گرمیوں کی چھٹیوں میں محکمہ تعلیم کی طرف سے کم از کم چار ہفتے ان کی تربیت کا مرحلہ وار انتظام کیا جاتا۔ اس طرح اساتذہ یکسوئی سے تربیت مکمل کر لیتے اور طلبہ کا تعلیمی حرج بھی نہ ہوتا۔ اب اگر نئی نصابی کتابیں اساتذہ کے لیے ستمبر یا تعلیمی سال شروع ہونے کے قریب پہنچیں گی اور تربیت بھی اسی دوران شروع ہوگی تو پھر استاد کلاس چھوڑ کر تربیت حاصل کرے گا اور بچہ استاد کے بغیر بیٹھا ہوگا۔ بچے کو موبائل دے دینا آسان ہے، اس کے ساتھ بیٹھ کر کتاب پڑھنا مشکل لگتا ہے۔ ہوم ورک پوچھنا آسان ہے، اس سے یہ پوچھنا مشکل کہ آج اسکول میں کیا نیا سیکھا؟پاکستان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ شاید اسکولوں کی تعداد نہیں بلکہ سیکھنے کا بحران ہے۔
ایکٹیویٹی بیسڈ کتابوں کا فیصلہ درست سمت میں قدم ہے، مگر اسے کامیاب بنانے کے لیے کتاب کے ساتھ استاد، کلاس روم، تربیت، سہولیات، نگرانی، والدین اور امتحانی نظام بھی بدلنا ہوگا۔ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ بچے کو ہم کیا بنانا چاہتے ہیں۔ اسیکتاب یاد کرنے والی مشین بنانا ہے یا سوچنے والا انسان بنانا ہے۔اگر نئی کتاب بچے کو سوال کرنا سکھاتی ہے، اگر استاد اسے جواب ڈھونڈنے کا راستہ دکھاتا ہے، اگر اسکول اسے تجربہ کرنے کا موقع دیتا ہے، اگر والدین اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور حکومت اسے ضروری وسائل فراہم کرتی ہے تو پنجاب کی پرائمری تعلیم واقعی ایک نئے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر نئی کتاب پرانے استاد، پرانی تربیت، پرانے امتحان، پرانی نگرانی اور پرانے ڈنگ ٹپا نظام کے ہاتھ میں دے دی گئی تو کتاب کے سرورق بدل جائیں گے، تعلیم نہیں بدلے گی۔قوموں کی تقدیر نصاب کی تبدیلی سے نہیں، نصاب کو حقیقت میں بدل دینے والی سنجیدہ منصوبہ بندی سے بدلتی ہے۔ یہی وہ امتحان ہے جس میں اب پنجاب کی تعلیمی قیادت کو کامیاب ہونا ہے۔

