ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے مطالبات پیش کر دیئے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یہ فہرست ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مرکزی مذاکرات کار باقر قالیباف نے امریکا کے حوالے کی ہے۔ باقر قالیباف نے امریکا سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے نکات پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا جس کی میعاد دو دن پہلے ختم ہو چکی ہے۔
ایرانی اسپیکر نے کہا کہ واشنگٹن کو خطے میں بحری ناکہ بندی اور ایرانی تیل پر عائد تمام پابندیاں فوری ختم کرنا ہوں گی، جبکہ امریکا میں منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کو بھی غیر مشروط طور پر بحال کرنا ہو گا۔
باقر قالیباف نے اندرونی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ داخلی انتشار اور اختلافات ملک کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ بیرونی دشمنوں کو ایران کے خلاف اقدامات کی ترغیب دیتے ہیں۔
انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ دشمن ملک میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے درپے ہے، لہٰذا تمام بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے قومی یکجہتی اور اتحاد کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
واضح رہے مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا اور ایران، لبنان سمیت ہر محاذ پر فوجی کارروائیاں روکنے پر راضی ہوئے تھے جبکہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل یا تیار کرنے کے حق سے دستبردار ہوا تھا۔علاوہ ازیں امریکا نے ایرانی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران نے آبنائے ہُرمُز کھلی رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور ایران کی تعمیرِ نو کا منصوبہ شروع کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی۔ امریکا ایران کے منجمد اثاثوں کی کی بحالی پر بھی راضی ہوا تھا۔

