ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کو بڑا دھچکا پہنچا دیا، رائٹرز/اِپسوس کے تازہ سروے میں صرف 33 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی کارکردگی کو سراہا جبکہ 64 فیصد نے اسے مسترد کردیا۔
رائٹرز/اِپسوس کے چار روزہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت رواں ماہ کے آغاز کے 35 فیصد سے کم ہوکر 33 فیصد پر آگئی، جو ان کی موجودہ صدارتی مدت کی کم ترین سطح ہے۔ یہ شرح دسمبر 2017 میں ان کی پہلی مدت کے دوران ریکارڈ کی گئی کم ترین مقبولیت کے برابر بھی ہے۔
سروے کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ امریکی عوام میں شدید تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ تقریباً 80 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ایران میں امریکی فوجی مداخلت طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ ان میں 87 فیصد ڈیموکریٹس اور 71 فیصد ریپبلکنز شامل ہیں، جبکہ صرف 16 فیصد افراد نے کہا کہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہونے کا امکان ہے۔
ٹرمپ نے صدارتی مہم کے دوران مہنگائی پر قابو پانے اور طویل جنگوں سے گریز کے وعدے کیے تھے۔ تاہم ایران کے خلاف جنگ کے بعد عالمی تیل کی تجارت متاثر ہوئی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی عوام پر اضافی مالی دباؤ ڈال دیا۔
ٹرمپ نے رواں ماہ نیویارک میں ایک سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کیلئے پٹرول کی کچھ زیادہ قیمت ادا کرنا قابل قبول ہے۔ تاہم تازہ سروے میں صرف ہر پانچ میں سے ایک امریکی نے ایران جنگ کو درست فیصلہ قرار دیا، جبکہ ریپبلکنز میں بھی صرف نصف افراد نے جنگ کی حمایت کی۔
ایران جنگ اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکنز کیلئے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ سروے میں 38 فیصد ووٹرز نے معیشت سنبھالنے کیلئے ڈیموکریٹس کو بہتر قرار دیا جبکہ 35 فیصد نے ریپبلکنز پر اعتماد کا اظہار کیا۔
امیگریشن کے معاملے پر ریپبلکنز اب بھی معمولی برتری رکھتے ہیں۔ 40 فیصد ووٹرز نے ریپبلکنز جبکہ 38 فیصد نے ڈیموکریٹس کے مؤقف کو بہتر قرار دیا۔ تاہم جنوری 2025 میں ریپبلکنز کو اس معاملے پر 26 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔
رائٹرز/اِپسوس سروے میں ملک بھر سے ایک ہزار 166 امریکیوں کی رائے شامل کی گئی، جبکہ سروے میں غلطی کا امکان تقریباً 3 فیصد پوائنٹس ہے۔

