ٹرمپ کامفاہمتی یادداشت میں توسیع سے انکار،ہرمز امریکی علاقہ قرار

واشنگٹن/تہران/قاہرہ:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے کر نیا نقشہ شیئر کر دیا۔صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر آبنائے ہرمز کا نقشہ شیئر کیا جس پر ”نیا امریکی علاقہ” درج ہے۔

نقشے کی تصویر میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے گرد ایک دائرہ شامل ہے جو خلیج عرب کے داخلی راستے پر ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے، اس علاقے پر ”نیو یو ایس ٹیریٹری” کے الفاظ دکھائے گئے ہیں۔

صدر کی سوشل پوسٹ ایک دن بعد سامنے آئی جب انہوں نے کہا کہ آبنائے کو امریکی علاقہ قرار دینا ایک ”بہت اچھا خیال” تھا۔اوول آفس میں صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ پچھلے ہفتے ان کا کیا مطلب تھا جب انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی آبنائے کو امریکی علاقہ قرار دیں گے تو ٹرمپ نے کہا کہ میرا مطلب ہے کہ ہم اسے کنٹرول کرتے ہیں۔

صدر نے مزید کہا کہ ہم اسے ناکہ بندی کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں، اور مجھے اسے ایک علاقہ قرار دینے کا خیال پسند ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی معاہدہ تو کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جسے میں ضروری سمجھتا ہوں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہمارا وہاں موجود ہونے کا مقصد صرف ایک ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا اور ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔

امریکی صدر نے کہا کہ فی الحال B-2 بمبار طیاروں کے ساتھ ہم نے جو کارروائی کی تھی اس کے بعد اگر ایران ایسا کوئی ہتھیار بناتا بھی ہے تو اس میں بہت وقت لگے گا لیکن ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت میں توسیع نہیں چاہتا۔

ادھر ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے لئے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد مؤقف مکمل طور پر جارحانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو ایران آبنائے ہرمز اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لئے تیار ہے اور امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کے لیے بروقت اور درست فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ جون کے معاہدے کی ایک شق اسے آبنائے ہرمز کے انتظام کا حق دیتی ہے جبکہ امریکا اس تشریح کو مسترد کرتا ہے۔ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران نے امریکا کو چند ہفتوں کی مہلت دی ہے کہ معاہدے کی تمام شرائط پر عمل درآمد کیا جائے بصورتِ دیگر مزید مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔

ترجمان پاسداران انقلاب بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ امریکیوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہورہی، سفارتی معاملات وزارت خارجہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ترجمان پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا سے سفارتی ذرائع کے ذریعے بھی کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، سفارتی بات چیت کا فقدان امریکا کی جانب سے وعدہ خلافیوں کا نتیجہ ہے۔

بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات تیل قیمتوں کو عارضی طور پر کنٹرول کرنے کی کوشش ہے، امریکی صدر کے خیالی تصورات میدانِ جنگ میں ان کی مدد نہیں کریں گے۔ترجمان پاسداران نے کہا کہ امریکا کے پاس واحد راستہ شکست تسلیم کرنا اور ایرانی شرائط قبول کرناہے۔

ادھر ترک صدر طیب اردگان کی امریکی ہم منصب ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی۔ترک ایوان صدر کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ تعلقات، ایران اور غزہ میں جاری جنگ پر گفتگو کی گئی، دونوں صدور نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر بھی گفتگو کی۔

ترک صدر نے کہا کہ مسئلے کے حل کیلئے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا ضروری ہے، سفارت کاری کے ذریعے مسئلہ ایران کے حل میں ترکی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔طیب اردگان نے مزید کہا کہ غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر اسرائیل فلسطینیوں پر حملے کر رہا ہے۔

دریں اثناء ایرانی وزیر مواصلات فرازانے صادق نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے 100 طیارے تباہ ہوئے جبکہ مواصلاتی انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایران کی وزیر برائے مواصلات فرازانے صادق نے کہاکہ حملوں میں ہوائی اڈوں کے علاوہ بجلی اور پانی کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ 100 طیاروں کی تباہی کے باوجود ایران نے 8 طیاروں کی مدد سے حج پروازیں کامیابی سے جاری رکھیں جبکہ جنگ کے دوران ریل، سڑکوں اور بندرگاہوں کے ذریعے نقل و حمل بھی جاری رہی۔

ایرانی وزیر کے مطابق امریکی حملوں سے ایران کے 25 صوبوں کے 400 شہروں میں ایک لاکھ کمرشل اور رہائشی یونٹس متاثر ہوئے۔

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا اسلام معاہدے میں طے شدہ شرائط پر عمل نہیں کرتا۔

قالیباف نے تسلیم کیا کہ جنگ بندی اور ناکہ بندی کے خاتمے کیلئے مفاہمتی یادداشت سے حاصل ہونے والے موقع نے ایران کی معاشی مزاحمت بڑھانے اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔

ادھرایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کرنے کیلئے متحرک ہے۔تہران میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کا ایران سے غیر مشروط سرنڈر کروانے کا خواب پورا نہیں ہوا، ایران کی بھرپور مزاحمت سے دشمن اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران میں رجیم چینج اور تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں بھی ناکام ہوئیں۔ایرانی حکام نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاملے پر عمان کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل کے قریب ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آمدورفت کے راستے کے نقشے کے بارے میں ایک مفاہمت طے پا گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں عدمِ تحفظ کی وجہ امریکا کے غیر قانونی اقدامات ہیں۔

امریکا کی سابق رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن میں حکام حکمتِ عملی کے اجلاسوں کے دوران ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان پر گفتگو کر رہے ہیں۔

مارجوری ٹیلر گرین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر جاری کیے گئے بیان میں امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے کسی بھی امکان کو واضح طور پر مسترد کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے ہتھیاروں کا استعمال بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور طویل مدتی انسانی المیے کا سبب بن سکتا ہے۔

امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر کا فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہنا تھا کہ فریقین ابھی تک کسی باہمی مفاہمت تک نہیں پہنچ سکے۔

امریکا اور ایرانی حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان مذاکرات شاید پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔جیرڈ کشنر کا مزید کہنا تھا کہ دونوں جانب ابھی تک کسی اتفاق رائے یا مفاہمت تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔

ادھر برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے کہاہے کہ آبنائے ہرمز سے نکلتے ہوئے ایک جہاز کو نامعلوم نوعیت کے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنانے کی اطلاع ہے، اس واقعے میں عملے کا ایک رکن ہلاک جبکہ جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا ہے۔

یو کے ایم ٹی او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمانی کوسٹ گارڈ اس وقت جہاز کے باقی عملے کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کا آئل ٹینکر روک لیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق بحری جہاز رانی کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کی زیر ملکیت ایک آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے روک لیا گیا ہے۔

ڈیٹا کے مطابق یو اے ای سے منسلک اس ٹینکر کو قشم جزیرے کے قریب اس وقت روکا گیا جب وہ آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایران کے مقرر کردہ خصوصی راستے کا استعمال کر رہا تھا۔

ادھر امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے اب تک ایران کی بحری ناکہ بندی کے دوران 64 تجارتی جہازوں کا رْخ موڑ دیا۔سینٹ کام کے مطابق 17 اگست کو امریکی افواج نے تین تجارتی جہازوں کو سفر سے روکا جبکہ دو دیگر جہازوں کا معائنہ کیا تاکہ ضابطوں اور پابندیوں کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔