کینیڈا کی وفاقی حکومت نے پہلی مرتبہ واضح طور پر بتا دیا ہے کہ کن شرائط کے تحت غیر ملکی تعلیمی ماہرین کو ورک پرمٹ کے بغیر کام کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہ سہولت ان ماہرین کے لیے ہے جو کینیڈا کی کسی یونیورسٹی میں تھیسس کا جائزہ لینے، تحقیقی تجویز پر رائے دینے یا کسی تعلیمی منصوبے کی جانچ کے لیے مدعو کیے جاتے ہیں۔
نئے قواعد کے مطابق ایسے شخص کا اپنے متعلقہ شعبے میں سینئر تعلیمی ماہر یا صنعت سے وابستہ تجربہ کار پروفیشنل ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں اس کی ایک مستند اور قائم شدہ ساکھ بھی ہونی چاہیے۔ اسے اس ادارے یا متعلقہ گورننگ باڈی کی طرف سے جاری کردہ باضابطہ دعوت نامہ بھی پیش کرنا ہوگا جس نے اسے جانچ کے عمل میں شامل ہونے کے لیے بلایا ہے۔
یہ سہولت بنیادی طور پر تین طرح کے کاموں پر لاگو ہوتی ہے۔ ان میں یونیورسٹی کے تھیسس کا امتحان یا جائزہ لینے والے ماہرین، تحقیقی تجاویز کا جائزہ لینے والے افراد اور یونیورسٹی یا تعلیمی پروگرام کے منصوبوں کی جانچ کرنے والے ماہرین شامل ہیں۔
مثلاً اگر کسی کینیڈین یونیورسٹی نے کسی غیر ملکی پروفیسر یا صنعت کے سینئر ماہر کو کسی طالب علم کے تھیسس کا بیرونی ممتحن مقرر کیا ہے تو مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں اسے اس کام کے لیے ورک پرمٹ کی ضرورت نہیں پڑ سکتی۔ اسی طرح کسی تحقیقی منصوبے کی تجویز کا جائزہ لینے کے لیے بیرون ملک سے بلائے گئے ماہر کو بھی یہ سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔
تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ورک پرمٹ سے استثنیٰ کسی بھی غیر ملکی شہری کے لیے کینیڈا میں آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ سہولت صرف مخصوص نوعیت کی تعلیمی اور جائزہ لینے والی سرگرمیوں تک محدود ہے۔
31 جولائی 2026 کو جاری کی گئی نئی حکومتی ہدایات میں ان ماہرین کے لیے اہلیت کے معیار تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کون سا غیر ملکی ماہر محدود مدت کے لیے کینیڈا آ کر تعلیمی یا تحقیقی جائزے کا کام ورک پرمٹ کے بغیر انجام دے سکتا ہے۔
نئی ہدایات کے مطابق اس طرح کا کام چھ ماہ سے کم مدت کے لیے ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی ماہر کو ان سرگرمیوں کے بدلے کینیڈا کے اندر سے معاوضہ نہیں ملنا چاہیے۔ امیگریشن افسر ضرورت کے مطابق اس اجازت کے ساتھ مزید شرائط یا پابندیاں بھی عائد کر سکتا ہے۔
کینیڈا پہنچنے والے ایسے ماہر کو بعض صورتوں میں وزیٹر ریکارڈ بھی جاری کیا جا سکتا ہے، جس میں اس کے بغیر ورک پرمٹ کام کرنے کی اجازت اور اس سے متعلق شرائط درج ہوں گی۔
لیکن یہاں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ورک پرمٹ کی ضرورت نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کینیڈا میں داخلے کے باقی قوانین ختم ہو جاتے ہیں۔ غیر ملکی ماہر کو بطور عارضی وزیٹر کینیڈا میں داخلے کی تمام متعلقہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ جہاں ضروری ہو، اسے درست ویزا یا الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن بھی حاصل کرنا ہوگی۔
کینیڈا کے امیگریشن نظام میں ورک پرمٹ سے استثنیٰ بنیادی طور پر ان حالات میں دیا جاتا ہے جہاں غیر ملکی فرد کو کینیڈا کی لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے والا کارکن نہیں سمجھا جاتا۔ اسی لیے اس بات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے کہ اس کے کام کا معاوضہ کہاں سے آ رہا ہے۔ عام طور پر اس نوعیت کی سرگرمی کے لیے ادائیگی کینیڈا سے باہر موجود ایسے ادارے سے ہونی چاہیے جس کے کینیڈا کے ساتھ مالی تعلقات نہ ہوں۔
درخواست گزاروں کے لیے دستاویزات بھی خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ کینیڈا پہنچنے پر انہیں امیگریشن افسر کو یہ ثابت کرنا پڑ سکتا ہے کہ انہیں واقعی کسی متعلقہ ادارے نے مدعو کیا ہے، ان کا تجربہ اس کام کے لیے موزوں ہے اور ان کی سرگرمی مقررہ شرائط کے اندر آتی ہے۔
حتمی فیصلہ بہرحال کینیڈا کے امیگریشن افسر کا ہوگا، جو پیش کی گئی دستاویزات اور متعلقہ قوانین کی روشنی میں طے کرے گا کہ درخواست گزار اس استثنیٰ کی شرائط پوری کرتا ہے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی قانونی مسائل سے بچنے کے لیے ماہرین، سفر سے قبل قانونی مشورہ لینے کی بھی ہدایت کرتے ہیں۔

