جاپان کا آبادیاتی بحران اور نسل مٹنے کا خدشہ

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
جاپان کی سابق سیاسی امیدوار، سماجی تحریکی رہنما اور معروف مصنفہ کوتوی ہاشیموتو (Hashimoto Kotoi ) نے جب اپنے ساتویں بچے کی ولادت کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے نوزائیدہ بچے کے ساتھ مسکراتی ہوئی تصویر سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر شیئر کی تو شاید انہیں خود بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ خبر محض ایک خاندانی خوشی کے پیغام تک محدود نہیں رہے گی۔
صرف چند گھنٹوں میں کروڑوں افراد کی توجہ حاصل کرنے والی اس تصویر نے بین الاقوامی سطح پر دیموگرافی (آبادیاتی سائنس) کے ماہرین، معاشی پالیسی سازوں اور عالمی ذرائع ابلاغ کو ایک بڑے مباحثے پر مجبور کر دیا۔ اس تصویر کے ساتھ ہاشیموتو نے ایک انتہائی فکر انگیز اور قومی جذباتی پیغام بھی تحریر کیا: ’جاپان کی بقا، سلامتی اور عروج کا مکمل انحصار ہماری خواتین کے خاندانی کردار اور ان کی ترجیحات پر ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ جاپانی خواتین آگے آئیں اور بچوں کی پیدائش کو اپنی قومی اور اجتماعی ترجیح بنائیں‘۔ یہ وائرل پیغام جاپان کی ان گلیوں اور قصبوں سے ابھرا ہے جہاں بچوں کی ہنسی، روایات اور کھیل کود کی آوازیں دن بہ دن نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔ اس تصویر نے دنیا کو جاپان کے اس عمیق اور خوفناک آبادیاتی بحران ( Collapse Demographic ) کی جانب متوجہ کیا ہے جو اَب ایک قومی ہنگامی صورتحال اختیار کرچکا ہے۔ جس ملک میں ایک یا دو بچوں کو پالنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا شدید معاشی چیلنج بن چکا ہو، وہاں سات بچوں کی پیدائش کسی تعجب سے کم نہیں، لیکن یہی واقعہ جاپان کے ایک گہرے ہوتے قومی المیے کی نقاب کشائی بھی کرتا ہے۔
جاپان کا آبادیاتی زوال
جاپانی وزارتِ صحت، محنت و بہبود اور اقوامِ متحدہ کے انسانی آبادی سے متعلق اداروں کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ جاپان اس وقت انسانی تاریخ کے شدید ترین آبادیاتی زوال سے گزر رہا ہے۔ اس زوال کی خوفناکی کو درج ذیل بنیادی حقائق کے ذریعے باآسانی سمجھا جا سکتا ہے:
٭ولادتوں میں تاریخی کمی: جاپان میں سالانہ ولادتوں کی کل تعداد گھٹ کر تقریباً 6 لاکھ 71 ہزار کی تاریخی پست ترین سطح پر آ چکی ہے۔ یہ 1899ءمیں سرکاری سطح پر آبادی کا ریکارڈ رکھنے کے آغاز کے بعد سے اب تک کی سب سے کم تعداد ہے اور یہ مسلسل دسواں سال ہے کہ پیدائش کی شرح میں مسلسل اور تشویشناک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جاپان میں مجموعی شرحِ پیدائش گر کر محض 1.14 بچہ فی خاتون رہ گئی ہے۔ ماہرین آبادیات کا متفقہ فیصلہ ہے کہ کسی بھی ملک یا معاشرے کی موجودہ آبادی کو بغیر کسی زوال کے مستحکم رکھنے کے لیے یہ شرح کم از کم 2.10 ہونا انتہائی ضروری ہے۔ملک کے دارالحکومت اور سب سے بڑے معاشی و تجارتی مرکز ٹوکیو میں صورتحال جاپان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہولناک ہو چکی ہے جہاں شرحِ پیدائش گر کر محض 0.96 تک آ چکی ہے، یعنی فی خاتون ایک بچے سے بھی کم۔شرح پیدائش کے مقابلے میں اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ جاپان میں ہر سال تقریباً 15 لاکھ 80 ہزار سے 16 لاکھ کے قریب افراد کی موت واقع ہوتی ہے۔ جاپان دنیا کی تیز ترین بزرگ ہوتی آبادی (Aging Population) رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ یہاں سالانہ اموات کی تعداد پیدائش سے سالانہ 9 لاکھ سے زائد زیادہ ہے جس کی وجہ سے جاپان کی کل آبادی میں ہر سال تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔
اموات کا پیدائش سے آگے نکل جانے کا یہ خوفناک سلسلہ گزشتہ 19 سالوں سے تواتر کے ساتھ جاری ہے جس کے نتیجے میں جاپان کی مجموعی آبادی میں ہر سال ایک بڑے اور گنجان شہر کے برابر کمی واقع ہو رہی ہے جس سے نسل کے خاتمہ کا واضح خدشہ ہے۔ ہر سال تقریباً 9 لاکھ 30 ہزار لوگ کم ہو رہے ہیں (یعنی فیصل آباد یا اسلام آباد جیسے ایک بڑے شہر کے برابر لوگ ختم ہورہے ہیں) جبکہ جاپان کی کل آبادی 12 کروڑ 40 لاکھ کے قریب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ شرح جاری رہی تو 110 سال بعد دنیا سے جاپانی نسل مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔ اس خاموش مگر تباہ کن زوال کے براہِ راست نتائج جاپان کے طول و عرض میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ جاپان کے درجنوں تاریخی دیہات، ساحلی جزیرے اور قصبے نقشے سے غائب ہورہے ہیں۔ اسکول، کالج اور اسپتال مسلسل بند ہو رہے ہیں اور بازار ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ملک کی کام کرنے والی صلاحیت رکھنے والی آبادی (Force Labor ) تیزی سے سکڑ رہی ہے جبکہ بزرگوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے جس سے قومی پینشن کے نظام، علاج معالجے اور معاشی ترقی پر نہ ختم ہونے والا بوجھ پڑ رہا ہے۔
٭بحران کی بنیادی وجوہات: جاپانی نوجوانوں، خصوصاً نو عمر جوڑوں میں بچوں کی پیدائش سے اس قدر بیزاری اور دوری کے اسباب محض ان کے شخصی یا انفرادی فیصلے نہیں ہیں بلکہ اس کی جڑیں جاپانی معاشرے، معاشی نظام اور روزمرہ کی زندگی کے سخت ڈھانچے میں گہری ہیں۔ جاپانی کاروباری اداروں اور دفاتر میں روزانہ 12 سے 14 گھنٹے تک مسلسل کام کرنے کا سخت دباو¿ ہے۔ جاپانی زبان میں ’کاروشی‘ (Culture Karoshi ) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جس کا مطلب ’حد سے زیادہ کام کی وجہ سے موت‘ ہے۔ اس خوفناک ورک کلچر کی وجہ سے نوجوانوں کے پاس اپنی ذاتی یا خاندانی زندگی، محبت اور رشتوں کے لیے وقت ہی باقی نہیں بچتا۔ علاوہ ازیں ٹوکیو، اوساکا اور نیگویہ جیسے بڑے صنعتی شہروں میں ایک معمولی سائز کے اپارٹمنٹ کا کرایہ اور بچوں کی اعلیٰ تعلیم و پرورش کے اخراجات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ اوسط یا درمیانی آمدنی والے شادی شدہ جوڑوں کے لیے ایک بچہ پالنا بھی ایک بڑا مالی معجزہ معلوم ہوتا ہے جبکہ جاپان کی موجودہ نوجوان نسل میں شادی کے بندھن میں بندھنے یا دیر سے شادی کرنے کے رجحان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ جاپانی معاشرے اور ثقافت میں بغیر شادی کے بچے پیدا کرنے کو سخت ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے شادیوں کی شرح میں مسلسل کمی کا براہِ راست اور گہرا اثر شرحِ پیدائش پر پڑا ہے۔
اگرچہ جاپان اس آبادیاتی تباہی کا عالمی استعارہ بن چکا ہے لیکن اگر دنیا کے دیگر خطوں اور ممالک کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو آبادی کا عالمی تناسب دو بالکل متضاد اور انتہا پسندانہ سمتوں میں منتقل ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جاپان کے بالکل پڑوس میں واقع جنوبی کوریا اس وقت پوری دنیا میں سب سے کم شرحِ پیدائش رکھنے والا ملک بن چکا ہے۔ یہاں مجموعی شرحِ پیدائش گر کر 0.68 سے 0.72 کی خطرناک ترین سطح پر آ چکی ہے۔ دارالحکومت سیول میں یہ شرح 0.55 ہے۔ سخت ترین تعلیمی مقابلے کی فضا، مہنگے مکانات اور ملازمت کے مواقع میں شدید مسابقت نے وہاں کے نوجوانوں کو خاندانی زندگی سے مکمل تائب کر دیا ہے جبکہ جنوب مشرقی ایشیا کا ممتاز معاشی مرکز سنگاپور بھی جاپان اور کوریا کے نقشِ قدم پر ہے۔ سنگاپور میں شرحِ پیدائش تاریخ میں پہلی بار 0.97 تک گر چکی ہے۔ محدود رقبے، مکانات کی بے پناہ قیمتوں اور جدید ترین تیز رفتار معاشی زندگی نے یہاں کی شرحِ پیدائش کو زوال پذیر کر دیا ہے۔اس کے برعکس براعظم افریقہ کے کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں آبادی میں بے پناہ اور غیرمعمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مغربی افریقہ کا ملک نائیجر دنیا بھر میں سب سے زیادہ شرحِ پیدائش کا حامل ہے۔ نائیجر میں ایک خاتون اوسطاً 6.7 سے 6.9 بچوں کو جنم دیتی ہے۔ بنیادی صحت، خاندانی منصوبہ بندی کا فقدان اور دیہی معیشت اس کی اہم وجوہات ہیں جبکہ افریقہ ہی کا دوسرا ملک انگولا اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں فی خاتون اوسط 5.8 سے 6.1 بچے پیدا ہوتے ہیں اور جمہوریہ کانگو کے اس وسیع و عریض ملک میں شرحِ پیدائش 5.7 سے 5.8 بچے فی خاتون ہے۔ مسلسل سیاسی عدم استحکام اور غربت کے باوجود یہاں کی آبادی انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔
کوتوی ہاشیموتو کی سات بچوں کے ساتھ وائرل ہونے والی مسکراتی تصویر جاپان کی موجودہ ویران اور خوفناک صورتحال میں ایک خوشگوار مگر منفرد استثنا ضرور ہے، لیکن یہ تصویر جاپانی حکومت، معاشی پالیسی سازوں اور معمارانِ قوم کے لیے ایک آخری خبردار کرنے والی گھنٹی بھی ہے۔ جاپانی حکومت اگرچہ آبادی کے اس زوال کو روکنے کے لیے جدید تکنیکی ذرائع، جیسے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے جوڑوں کو ملانے والی ایپس، فی بچے پر خطیر رقم کے بے بی بونس، مفت ڈے کیئر سینٹرز اور زچگی کی طویل رخصتوں جیسی رعایتیں فراہم کر رہی ہے، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک نوجوانوں کو مستقل روزگار کی ضمانت، رہائشی سہولیات اور کام کی جگہوں پر انسانی بنیادوں پر معقول ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، جاپان کا آبادیاتی زوال روکنا انتہائی دشوار ہوگا۔ اگر وقت رہتے جاپان نے اپنے معاشی و معاشرتی ڈھانچے میں انقلابی اصلاحات نہ کیں تو ایشیا کا یہ سب سے ترقی یافتہ ملک اپنی ہی خاموش گلیوں میں سکڑ کر تاریخ کا ایک خاموش باب بن جائے گا۔