کاروباری شعبے کیلئے بڑی خبر، سپر ٹیکس میں مزید کمی کا امکان

 فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کاروباری شعبے کو مزید ٹیکس ریلیف دینے کا عندیہ دے دیا۔ جس میں سپر ٹیکس میں مزید کمی اور سیلز ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کاروباری نمائندوں نے بلند ٹیکسز، مہنگی فنانسنگ، بجلی کے زیادہ نرخوں اور ایف بی آر حکام کے مبینہ رویے پر تشویش کا اظہار کیا۔

کاروباری نمائندوں نے کہا کہ ملک میں کئی صنعتی یونٹس صرف 40 سے 45 فیصد پیداواری صلاحیت پر کام کر رہے ہیں، جبکہ متعدد ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار منتقل کر چکی ہیں۔

انہوں نے حکومت سے ٹیکس نظام کو آسان بنانے، ایڈوانس اور ودہولڈنگ ٹیکس کم کرنے اور نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایف بی آر کے رکن حمید عتیق سرور نے کہا کہ حکومت پہلے ہی تقریباً 361 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دے چکی ہے، جبکہ کاروباری طبقے کو مزید سہولت دینے کے لیے مختلف تجاویز پر غور جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس میں مزید کمی اور کاروباری شعبے پر سیلز ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کی تجاویز زیرغور ہیں، تاہم حتمی فیصلے کا انحصار متعلقہ حکام کی منظوری پر ہو گا۔

کمیٹی ارکان نے سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کاروبار دوست ٹیکس پالیسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نظام میں آسانی اور کاروباری لاگت میں کمی سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔

اجلاس میں مال بردار گاڑیوں کی ہڑتال کا معاملہ بھی زیربحث آیا۔ کمیٹی نے حکومت کو ٹرانسپورٹرز کے ساتھ فوری مذاکرات کرکے ہڑتال ختم کرانے اور کاروباری سرگرمیوں کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی۔