تہران:ایران فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے غیر منظور شدہ راستے کے ذریعے گزرنے کی کوشش کرنے والے 6 بحری جہازوں کو روک کر واپس بھیج دیا۔ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ رات کی گئی، جب چھ تجارتی جہازوں نے ایرانی حکام کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے کے بجائے متبادل راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔
سرکاری ٹی وی کے نمائندے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جہازوں کو پہلے انتباہ جاری کیا، جبکہ انہیں روکنے کے لیے وارننگ شاٹس بھی فائر کیے گئے۔ بعد ازاں تمام جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ایرانی میڈیا نے اس سے قبل ایک بحری جہاز سے متعلق ایک واقعے کا بھی ذکر کیا تھا، تاہم اس کی نوعیت یا مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ حالیہ ایران امریکا جنگ کے دوران آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک مثر دفاعی اور تزویراتی عنصر ثابت ہوئی۔ ان کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ نے ایران کی دفاعی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کیا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ آپریشن نصر-2 کے دوران ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو شدید نقصان پہنچایا جبکہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں دشمن کے ریڈار سسٹمز بھی متاثر ہوئے، جس سے امریکی افواج کی آپریشنل صلاحیت میں نمایاں کمی آئی۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعوی کیا کہ امریکی فوجی انفراسٹرکچر پر حملوں کے بعد امریکی افواج کی کارروائی کی صلاحیت محدود ہو گئی۔بیان میں یوکرین کی جانب سے حالیہ ایرانی تجارتی جہاز پر کیے گئے مبینہ حملے کا بھی حوالہ دیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ ایران اس حملے کو نظر انداز نہیں کرے گا اور اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کے ان دعوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر ان بیانات پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

