این ڈی ایم اے نے 24 جولائی تک ملک کے مختلف علاقوں کیلئے ممکنہ خطرات کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا۔ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق دریاؤں، مقامی ندی نالوں اور پہاڑی برساتی گزرگاہوں میں اچانک سیلابی صورتحال اور پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا الرٹ جاری کر دیا۔ گلگت بلتستان کے دریاؤں میں اچانک سیلابی ریلوں کا خدشہ ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں دریائے جہلم، دریائے نیلم، دریاؤں اور معاون ندی نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے کا امکان ہے۔ خیبر پختونخوا میں دریائے چترال، دریائے سوات، دریائے پنجکوڑہ سمیت خیبر، کرم، اورکزئی، کوہاٹ، بنوں، کرک، ہنگو، لکی مروت، شمالی و جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، مانسہرہ، بونیر اور صوابی کے مقامی ندی نالوں میں سیلابی ریلوں کا خدشہ ہے۔ پنجاب میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی نظام میں جس تیزی سے بے یقینی پیدا ہو رہی ہے، اس نے ہر ملک کیلئے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تغیرات کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے 24 جولائی تک ملک کے مختلف حصوں میں ممکنہ سیلابی صورتحال، دریاؤں و پہاڑی برساتی نالوں میں طغیانی اور اچانک سیلابی ریلوں کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اگرچہ رواں سال پری مون سون کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ بارشیں ریکارڈ نہیں کی گئیں اور ابھی باقاعدہ مون سون کا آغاز ہوا ہے، تاہم موجودہ عالمی موسمیاتی صورتحال کسی بھی وقت غیر معمولی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ کلائمیٹ چینج کی آفت سے پہلے موسموں کا ایک قدرتی تسلسل اور اندازہ لگانے کا ایک نظام موجود تھا۔ گرمی، سردی، بارش اور خشک سالی کے اوقات ایک مخصوص ترتیب کے مطابق چلتے تھے، مگر اب موسمیاتی تبدیلیوں نے اس فطری توازن کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں کہیں شدید گرمی، کہیں بے وقت بارشیں، کہیں تباہ کن سیلاب اور کہیں طویل خشک سالی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف اس بنیاد پر مطمئن ہو جانا کہ ابھی تک زیادہ بارشیں نہیں ہوئیں، دانش مندی نہیں۔
یہ امر واضح ہے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جو نہ تو طویل خشک سالی کا متحمل ہے اور نہ ہی غیر معمولی بارشوں اور سیلابی تباہ کاریوں کا۔ ایک طرف ملک میں پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، زیرزمین پانی کی سطح گر رہی ہے اور مستقبل میں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے، ایسے میں بارشیں نہ ہونے سے پانی کے مسئلے کی سنگینی میں متوقع اضافہ کسی سے بھی مخفی نہیں، دوسری طرف جب بارشیں معمول سے زیادہ ہوتی ہیں تو ناقص منصوبہ بندی، کمزور انفراسٹرکچر اور ناکافی انتظامات کے باعث یہی پانی زحمت بن جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب، گلوف، کلاؤڈ برسٹس اور شدید بارشوں نے پاکستان کو بھاری انسانی اور معاشی نقصانات سے دوچار کیا۔ ہزاروں خاندان متاثر ہوئے، قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، انفراسٹرکچر تباہ ہوا اور ملکی معیشت پر اربوں روپے کا بوجھ پڑا۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان پہلے ہی محدود وسائل اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں قدرتی آفات سے ہونے والے بڑے نقصانات ملک کی کمزور معیشت کیلئے مزید مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مون سون کے اس موسم میں تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر چوکس اور فعال رہیں۔ صرف الرٹس جاری کرنا کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کی نگرانی، حفاظتی بندوں کی مضبوطی، متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی پیشگی فراہمی، ریسکیو اداروں کی تیاری اور مقامی انتظامیہ کی استعداد میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے گزشتہ برسوں میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن ان اداروں کا بنیادی کردار عموماً آفت کے وقوع پذیر ہونے کے بعد سامنے آتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک میں ایک ایسا مضبوط نظام بھی تشکیل دیا جائے جو قدرتی آفات کی پیشگی منصوبہ بندی، خطرات کی نشاندہی، حفاظتی اقدامات اور عوامی آگاہی پر مسلسل کام کرے، تاکہ اچانک پڑنے والی کسی بھی افتاد کے نقصانات کم کیے جاسکیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے ضروری ہے کہ وہ موسمیاتی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیاں مرتب کرے۔حکومت اور متعلقہ اداروں کو سمجھنا ہوگا کہ قدرتی آفات کے بعد امداد اور بحالی پر خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ پہلے سے تیاری پر سرمایہ کاری کی جائے۔ مون سون ابھی جاری ہے اور آنے والے دنوں میں موسمی صورتحال کسی بھی رخ اختیار کر سکتی ہے۔ اس لیے غفلت اور اطمینان کی بجائے مسلسل نگرانی، تیاری اور ذمہ دارانہ حکمت عملی ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ممکنہ تباہ کاریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
روزانہ پٹرول قیمتوں کے تعین کی تانا شاہی!
ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کا نظام شدید تنقید کی زد میں ہے۔ آل پاکستان پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان اس بات کا مظہر ہے کہ اس عجیب و غریب فیصلے سے کاروباری طبقہ شدید اضطراب کا شکار ہے۔ دنیا بھر میں قیمتوں کے تعین کیلئے مستقل اور قابلِ پیش گوئی نظام اپنایا جاتا ہے تاکہ کاروبار کرنے والوں کو منصوبہ بندی کا موقع مل سکے مگر پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا طریقہ نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کیلئے مشکلات پیدا کر رہا ہے بلکہ پورے نظام پر سوالات بھی اٹھا رہا ہے۔ اس عجیب و غریب فارمولے کے نفاذ کے بعد پٹرول پمپ مالکان، ڈیلرز اور متعلقہ کاروباری حلقے ایک ایسے ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہوں گے، جہاں انہیں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ اگلے دن قیمت، مارجن اور کاروباری حالات کیا ہوں گے۔ ایسی غیر یقینی صورتحال میں معیشت کیسے پروان چڑھ سکتی ہے؟ اس اقدام سے یہ تاثر بھی تقویت پا رہا ہے کہ ملک میں طویل المدتی منصوبہ بندی کی بجائے وقتی بندوبست کے ذریعے وقت گزاری سے کام چلایا جا رہا ہے، جو غیر سنجیدگی اور ملک کے ساتھ سنگین مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ بنانا ری پبلک ہے۔ ملک ہنگامی فیصلوں سے نہیں بلکہ منظم، سنجیدہ اور مدبرانہ حکمت عملی سے چلتے ہیں۔

