پیرس/جنیوا: بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاطح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم نہ ہوئی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل معمول پر نہ آئی تو عالمی توانائی کی سلامتی شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فاطح بیرول نے کونسل آن فارن ریلیشنز کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی سلامتی آج بھی دنیا کے لیے انتہائی اہم مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ چند ہفتوں میں موجودہ صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پوری دنیا کو تشویش ہونی چاہیے، کیونکہ عالمی توانائی کی منڈی پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر سمندر کے راستے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریبا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ کا براہِ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی پر پڑتا ہے۔
آئی ای اے سربراہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران میں مسلسل چھٹے روز بھی مختلف فوجی اہداف پر حملے کیے۔ رپورٹس کے مطابق بندر عباس، اہواز اور ایران شہر سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکا نے ایک ایسے جہاز پر بھی کارروائی کا دعوی کیا جس پر ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندی توڑنے کی کوشش کا الزام لگایا گیا۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کے اتحادی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعوی کیا۔ ایرانی حکام کے مطابق کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اہداف پر حملے کیے گئے، جبکہ قطر میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی مکمل پاسداری نہیں کی، اسی لیے صورتحال معمول پر نہیں آ سکتی۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی خودمختاری کے دائرے میں آتی ہے اور امریکا سمیت کسی بیرونی ملک کو اس میں مداخلت کا حق حاصل نہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ حالیہ امریکی حملوں کی وجہ ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر معاہدے کی شرائط توڑیں، جس کے بعد امریکا نے فوجی کارروائی کی۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوتی رہی تو نہ صرف خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی سپلائی چین بھی شدید دبا ؤکا شکار ہو سکتی ہے۔

