دوسری و آخری قسط:
میں سمجھتا ہوں کہ اس پورے قصے کا سب سے چبھتا ہوا پہلو یہ ہے کہ مودی سرکار بری طرح اس معاملے میں ایکسپوز ہوگئی۔ گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں ‘دی کشمیر فائلز، دی کیرالہ اسٹوری اور دی بنگال فائلز’ جیسی فلمیں بنیں، جو کھلے عام ایک خاص متعصبانہ بیانیے کو پروموٹ کرتی تھیں۔ ‘کشمیر فائلز’ میں ہندو پنڈتوں کی مظلومانہ کہانیاں ہیں جن میں نہ صرف مبالغہ بلکہ بہت کچھ جھوٹ بھی شامل ہے، یہی دوسری دونوں فلموں کا معاملہ ہے۔ بی جے پی حکومت نے عوامی احتجاج کے باوجود ان فلموں کو نہ صرف سینما پر ریلیز ہونے دیا بلکہ ٹیکس وغیرہ بھی معاف کر کے مدد کی۔ مودی تک نے ان کی تعریف کی۔ یہ سب فلمیں آج بھی اسی زی فائیو پر موجود ہیں جہاں سے ستلج کو ہٹا لیا گیا۔سابق سکھ رہنما منجیت سنگھ جی کے نے بجا طور پر یہی سوال اٹھایا کہ ایک طرف نفرت پھیلانے والی فلموں کو ریاست کی سرپرستی حاصل، دوسری طرف ایک انسانی حقوق کے کارکن کی سچی کہانی کو دو دن میں بند۔ یہی وہ دو رنگی ہے جو بھارتی جمہوریت کے اس چہرے کو بے نقاب کرتی ہے جسے بڑی محنت سے سیکولرازم اور رواداری کے میک اپ سے چھپایا جاتا رہا ہے۔
تاہم فلم بنانے والوں نے ہار ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ پروڈکشن ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کا اگلا قدم واضح ہے، وہ عدالت جائیں گے، کیونکہ فلم کو غلط طریقے سے روکا گیا ہے اور جسے بھی اعتراض ہے وہ قانونی طور پر اسے سامنے لائے تاکہ اس کا جواب دیا جا سکے۔ زی فائیو نے بھی کہا ہے کہ وہ قانونی راستوں سے فلم واپس لانے کی کوشش کرے گی اور تخلیقی آزادی کے ساتھ کھڑی ہے۔تصویر کا دوسرا رخ بھی مگر ہے۔ اسی دوران بعض حلقوں نے الٹی سمت میں محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک وکیل نے وزارت داخلہ میں شکایت درج کرائی ہے اور دلجیت دوسانجھ کے خلاف ایف آئی آر کا مطالبہ کیا ہے۔ یعنی جہاں ایک طرف فلم پر پابندی کو سنسرشپ کہا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔ یہی وہ کھینچا تانی ہے جو اس وقت بھارت کے اندر چل رہی ہے۔
اس فیصلے کیخلاف انڈین پنجاب کی تقریباً ہر سیاسی جماعت سراپا احتجاج بن گئی۔ عام آدمی پارٹی، جو پنجاب میں برسراقتدار ہے، نے اسے صریح سنسرشپ قرار دیا اور اس کے ایک رکن پارلیمنٹ نے خوبصورت جملہ بولا کہ جب کوئی قوم اپنی تاریخ سے ڈرنے لگے تو سنسر شپ سب سے خطرناک ہتھیار بن جاتا ہے۔ اکالی دل کے سکھبیر سنگھ بادل نے اسے محض سنسرشپ نہیں بلکہ اجتماعی یادداشت، سچائی اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ کہا، جبکہ کانگرس کے سکھپال سنگھ کھیرا نے اسے سپریم کورٹ کے تصدیق شدہ حقائق پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کے ہٹانے کو مایوس کن کہا۔ شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی سمیت کئی سکھ تنظیموں نے بھی مذمت کی۔
فلم کے ہدایت کار ہنی تریہن کا ردعمل بہت سادہ مگر گہرا تھا۔ اس نے کہا کہ اتوار کی رات فلم ہٹائے جانے کی خبر ملی تو وہ سن ہو کر رہ گیا، اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ کیا کہے۔ کاروان میگزین کے ہرتوش سنگھ بل جیسے تجزیہ کاروں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ حکومت کی مرضی کے بغیر ایسی کسی فلم کے ہٹنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سارا منظر اپنی جگہ ایک پیغام ہے کہ انڈین پنجاب اپنی اجتماعی یادداشت کو یوں مٹنے نہیں دینا چاہتا۔خود دلجیت دوسانجھ کا ردعمل قابل غور ہے۔ اس نے کہا کہ خالڑا کے ساتھ جو ہوا، آج وہی اس کی فلم کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اب فلم ہر گھر تک پہنچ چکی ہے، لوگ اسے ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں، نوجوان اس پر بات کر رہے ہیں اور جتنا اسے روکو گے اتنی ہی زیادہ بات ہو گی۔ اس نے تو یہاں تک بتایا کہ صبح اس نے ایک گوردوارے میں پروجیکٹر لگا کر فلم دکھائے جانے کی ویڈیو دیکھی اور یہی وہ نکتہ ہے جسے تاریخ بار بار دہراتی ہے۔ خبر یہ ہے کہ فلم بھارت سے باہر زی فائیو گلوبل پر اب بھی دستیاب ہے، سو دبانے کی یہ کوشش عملاً الٹی پڑ چکی ہے۔
اب ذرا اپنے حوالے سے بھی سوچتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک طبقہ برسوں سے بھارتی جمہوریت اور اس کی رواداری کی مثالیں دیتے نہیں تھکتا تھا۔ میرے جیسے لوگ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ اس چکاچوند کے پیچھے کئی فالٹ لائنز چھپی ہوئی ہیں۔ ‘ستلج’ فلم کا معاملہ ایک بار پھر یہی ثابت کرتا ہے۔ جو ملک اپنی عدالتوں کے تسلیم شدہ سچ پر بنی ایک فلم 2 دن برداشت نہ کر سکے، وہ خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا حق کیسے رکھتا ہے۔اس میں ہمارے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔ ہر قوم کے اپنے تاریک گوشے ہوتے ہیں جن پر بات کرتے ہوئے ریاستیں گھبراتی ہیں۔ اصل بلوغت اسی میں ہے کہ ایک معاشرہ اپنی غلطیوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھے۔خالڑا نے ایک عام آدمی ہو کر یہ ثابت کیا کہ ایک تنہا سچا انسان بھی پوری ریاستی مشینری کو بے چین کر سکتا ہے۔ اسے مار دیا گیا، مگر اس کی آواز نہ مر سکی، بلکہ 31 سال بعد ایک فلم کی صورت میں پہلے سے زیادہ بلند ہو کر لوٹ آئی ہے۔ دعا ہے کہ سچ بولنے والوں کا یہ سلسلہ کبھی نہ رکے، اور وہ دن آئے جب کسی کو خالڑا کی طرح سچ کی قیمت اپنی جان سے نہ چکانی پڑے، آمین!

