غزہ،پولیس سینٹر،خیموں پر صہیونی حملے،اعلیٰ افسران،خاتون سمیت11شہید

غزہ:قابض اسرائیلی فوج کی غزہ پر بمباری،پولیس سینٹر کے ڈائریکٹر،افسران وشہریوں سمیت11افراد شہید ہوگئے۔فلسطینی وزارت داخلہ اور نیشنل سیکورٹی نے منگل کے روزبتایا کہ شمالی غزہ کے جبالیہ کیمپ کے مغرب میں واقع الفالوجا کے علاقے میں ایک پولیس پوسٹ کواسرائیلی فورسز نے نشانہ بنایا۔

حملے میںجبالیہ کیمپ پولیس سینٹر کے ڈائریکٹر کرنل محمد مروان سالم، میجر مفید محمد حلاوہ، لیفٹیننٹ غسان اکرم الدقس، لیفٹیننٹ ابراہیم فیصل موسیٰ، لیفٹیننٹ سمیح رمضان الاسود اور پولیس اسسٹنٹ عبد المالک عبد الناصر ابو الجبین شہید ہوگئے۔بیان میں شہداء کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا جبکہ حملے میں ایک خاتون بھی شہید ہوئی ہیں۔

ادھرغزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح کے علاقے مواصی میں قابض فوج کی فائرنگ سے معتز ابو شعر نامی بچہ شہید ہو گیا۔ایک امدادی ٹرک کے ڈرائیور بلال ابو موسیٰ کو رفح کے علاقے مواصی میں قابض فوج نے فائرنگ کر کے شہید کردیا۔

طبی ذرائع نے بتایا کہ خان یونس کیمپ کے مغرب میں اسرائیلی ڈرون حملے میں متعدد شہری زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔باسم مسعد ارمیلات منگل کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے، وہ دو دن قبل خان یونس کے مغرب میں القادسیہ کیمپ پر اسرائیلی بمباری میں شدید زخمی ہوئے تھے۔

خان یونس شہر کے مواصی میں ایک بچہ قابض فوج کی فائرنگ سے زخمی ہوا۔غزہ شہر کے شمال مشرق میں محلہ التفاح میں اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرونز نے شہریوں کے گھروں اور بے گھر افراد کے خیموں کو شدید فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

قابض فوج نے خان یونس شہر کے جنوب میں تباہی کی کارروائیوں کے دوران عمارتوں کو بارود سے اڑایا جبکہ شہر کے شمال میں اسرائیلی ڈرون طیارے نچلی پروازیں کرتے رہے۔ اس کے علاوہ، مغربی رفح میں توپ خانے سے گولہ باری کی گئی اور خان یونس شہر کے جنوب میں روشنی کے بم (لائٹ بم) پھینکے گئے۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے ارتکاب کا صریح اعتراف کرتے ہوئے نام نہاد اسرائیلی وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے شمالی غزہ کے دورے کے دوران وہاں ہونے والی تباہی پر فخر کا اظہار کیا ہے۔

اس نے اس تباہی کو ایک ”سوچی سمجھی پالیسی کا نتیجہ” قرار دیا اور کہا کہ ان مناظر کو دیکھنا انہیں ”اچھا ” لگتا ہے۔اسرائیلی چینل 14 نے یسرائیل کاٹز کے دورے کے دوران اس کا ایک انٹرویو نشر کیا، جس میں اس نے غزہ کی پٹی میں تین فوجی نوعیت کی بستیاں قائم کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا۔

غزہ میں تباہی کے مناظر کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کاٹز نے بلا تردد کہا کہ ”یہ ایک اچھا احساس ہے، ہے نا؟”، اور دعویٰ کیا کہ یہ سب (تباہی) ایک ”سوچی سمجھی پالیسی کا نتیجہ” ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے ارادے کا واضح اظہار ہے۔

دریں اثناء گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہودی آباد کاروں کی ملیشیاؤں نے مغربی کنارے کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں فلسطینیوں، ان کی زمینوں اور املاک پر وسیع پیمانے پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جس میں زرعی تخریب کاری، چوری، اشتعال انگیزی اور رہائشی علاقوں میں دھاوے شامل ہیں۔

ان حملوں میں فلسطینی زمینوں پر مویشی چھوڑنا، زرعی فصلوں پر قبضہ، پلاسٹک ہاؤسز کی تباہی اور فلسطینی قصبوں اور نئے قائم شدہ بدو نشین علاقوں پر دھاوے شامل ہیں۔الخلیل میں آباد کاروں نے شہر کے شمال میں واقع سعیر قصبے کے مشرق میں حمروش کے علاقے میں فلسطینیوں کو اشتعال دلایا اور جنوب میں السموع قصبے کے مشرق میں خربہ الخرابہ میں اپنے مویشی فلسطینیوں کی زمینوں پر چھوڑ دیے۔

انہوں نے یطا کے جنوب میں خل الحمص کے قریب اللتون کے علاقے میں زرعی کمروں سے پانی کے ٹینک بھی چوری کیے۔طوباس میں آباد کاروں نے تیاسیر گاؤں کے مشرق میں یرزا خربہ کی زمینوں پر اپنی گائیں چرائیں اور اشتعال انگیز دورے کیے۔

سلفیت میں آباد کاروں نے شہر کے شمال میں واقع کفل حارس قصبے پر دھاوا بولا۔نابلس میں آباد کاروں نے شہر کے مشرق میں بیت فورک کے میدان میں گندم کی فصل پر قبضہ کر کے اسے کاٹ لیا اور بھوسے کے گٹھروں میں تبدیل کر دیا جبکہ اسی علاقے میں زرعی گھروں کو بھی تباہ کر دیا۔

انہوں نے نابلس کے جنوب مشرق میں جوریش گاؤں کے مضافات میں فلسطینیوں کی زمینوں پر اپنی بھیڑیں چھوڑ دیں اور بیتا قصبے کے مضافات میں قماص کے علاقے میں ایک شیڈ (برکس) پر حملہ کیا اور بیت امرین میں اے زون میں واقع ایک ریستوران اور گھر والی زمین پر بھی قبضہ کر لیا۔

رام اللہ میں آباد کاروں نے زیتون کے درختوں کو تباہ کرنے اور زرعی زمین کو برباد کرنے کے مقصد سے شہر کے شمال میں واقع گاؤں ام صفا کی زمینوں پر اپنی گائیں چھوڑ دیں اور جلجلیہ گاؤں کے شہری محمد بدر پر حملہ کیا۔

انہوں نے رام اللہ کے مشرق میں رمون گاؤں میں شہریوں کے گھروں کے نواح میں دھاوا بولا اور مشرق میں برقا گاؤں کے مضافات میں داخل ہو کر کسانوں کے مویشی چرانے کی کوشش کی۔اریحا میں آباد کاروں نے دو دن قبل علاقے میں ایک بستی قائم کرنے کے بعد شہر کے مغرب میں حلق الرمان اجتماع پر دھاوا بولا اور وہاں اپنے مویشی چھوڑ دیے۔

نابلس کے جنوب میں بورین میں آباد کاروں نے ارض وزرع کوآپریٹو سوسائٹی کے پلاسٹک ہاؤسز کو تباہ کر دیا اور پھاڑ دیا جس کے سربراہ غسان زیدان نجار ہیں۔

ادھرمغربی کنارے کے شمالی سلفیت کے قصبے کفل حارس میں درجنوں یہودی آباد کاروں کے دھاوے کے خلاف مقامی نوجوانوں کی مزاحمت کے دوران پتھراؤ سے دو یہودی آباد کار زخمی ہو گئے۔منگل کی علی الصبح ایلی عزر برلینڈ گروہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 100 یہودی آباد کاروں نے سلفیت کے شمال مغرب میں واقع قصبے کفل حارس پر دھاوا بولا اور شہریوں کی املاک پر حملہ کر دیا۔

یہودی آباد کاروں نے قصبے میں داخل ہو کر شہریوں کی املاک کو نشانہ بنایا جس کے دوران گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور گھروں پر حملے کی کوشش کی گئی۔

دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح مغربی کنارے کے مختلف شہروں، قصبوں اور کیمپوں میں وسیع پیمانے پر دھاوے اور تلاشی کی مہم چلائی جس کے دوران گھروں پر چھاپے مارے گئے، آنسو گیس کے شیل برسائے گئے اور فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا۔

علاوہ ازیں حماس نے اسرائیلی حکومت اور شمال مغربی کنارے کی بستیوں کی کونسل کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے پر خبردار کیا ہے جس میں 12 ہزار نئی آبادکاری یونٹس کی تعمیر اور بستیوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 8 ارب شیکل مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حماس نے اسے مغربی کنارے میں آباد کاری کی توسیع کی پالیسی میں ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔منگل کو جاری بیان میں تحریک نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ مغربی کنارے پر کنٹرول حاصل کرنے اور اسے ضم کرنے کے منصوبوں کا حصہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ صہیونی حکومت امریکی حمایت اور بین الاقوامی خاموشی سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔