خصوصی مضمون: میمونہ تنویر
اولڈ ہاوس کوئی عمارت نہیں بلکہ معاشرے کا وہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنا چہرہ دیکھنے سے کانپ جاتے ہیں۔ یہاں انسانیت نے سفید پوشی کا بھرم اوڑھ رکھا ہے اور سانسوں کے قرض چکا رہی ہے۔ جتنے چہرے نظر آتے ہیں اتنی داستانیں ہیں اور جتنی داستانیں ہیں اتنی کرچیاں ہیں جو دل کے پردے چیر کر گزر جاتی ہیں۔
ان سپاٹ چہروں کو دیکھو تو لگتا ہے جیسے کوئی اکھڑا ہوا درخت خاموش کھڑا ہو جس کی جڑیں کٹ چکیں ہوں لیکن تنا ابھی قائم، آنکھیں جیسے سمندر ہیں پر ان میں طوفان نہیں، صرف مد و جزر کی وہ خاموشی ہے جو چیخ چیخ کر روتی ہے۔ جب ان آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے انسانی رشتوں کی بے حسی کوئی مقتل سجا رہی ہے۔ ان لوگوں سے بات کی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بات کرتے ہوئے یہ لوگ سر ہلانے سے بھی ڈرتے ہیں، کہ کہیں رتی برابر جو بھروسہ اپنوں پر تھا وہ گر کر چکنا چور نہ ہوجائے اور ساتھ ہی روح پرواز کر نہ جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ اولڈ ہاوس کی دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو ناز نخروں سے پالا مگر اولاد ان کے ناز نخرے اٹھانے سے محروم رہ گئی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر زخم اولاد ہی کا دیا ہوا نہیں۔ یہاں کوئی بھائی کے ظلم کا قصہ لے کر آیا ہے، کوئی رشتے دار کی بے وفائی کا بوجھ اٹھائے بیٹھا ہے، کوئی زمانے کی ٹھوکروں سے ٹوٹ کر یہاں آ بسا ہے۔ اولڈ ہاوس چلانے والی وہ فرشتہ صفت خاتون آنکھیں پونچھ کر کہتی ہے کہ ”یہاں جو آتا ہے اسے کوئی واپس لینے نہیں آتا، یہاں سے صرف جنازے ہی جاتے ہیں“۔ اللہ اکبر! جنازے جاتے ہیں پر اپنوں کے کندھے نصیب نہیں ہوتے۔ انہیں سفید کفن تو مل جاتا ہے پر رشتوں کی رنگینیاں ان سے اپنے حصے بخرے کرلیتی ہیں۔ یہ منظر سب سے زیادہ کلیجہ چیرتا ہے کیونکہ یہ بے دین مغرب نہیں، یہ لاالہ الااللہ کے نام پر بننے والا پاکستان ہے۔ پھر یہاں اولڈ ہاوس کیوں؟ کیونکہ ہمارا معاشرہ دین کا لباس تو پہنے ہوئے ہے لیکن اندر کردار کا جسم موجود نہیں۔ مسلمان کا سرٹیفکیٹ تو موجود ہے لیکن شریعت کی سند کہیں نہیں ملتی۔ مسجد کی صفیں بھری ہیں پر دل کی صفیں ویران ہیں۔
ہم نے ’قل‘ رٹ لیا پر ’ وقضیٰ ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا ‘ کا مفہوم بھول گئے۔ ہم نے بیٹے کو ڈگری دے دی، دنیا دے دی، عہدہ دے دیا، پر فرزندی کی روح سے نہ ملوا سکے۔ مادیت نے ہمیں ”میں اور میرا گھرکی ہوس“ کے چھوٹے سے دائرے کا قیدی بنا دیا۔ باپ کو جنت کا درمیانہ دروازہ کہا گیا تھا، ہم نے اس دروازے پر خود تالا لگا دیا اور چابی سمندر میں پھینک دی۔ جن کا دنیا میں کوئی نہیں ان کا تو چلو دکھ تقدیر ہے، انسان سرتسلیم خم کر لیتا ہے، پر جن کے بیٹے اعلیٰ عہدوں پر ہوں اُن کے والدین کا اولڈ ہاوس کی چاردیواری میں قید ہونا تقدیر نہیں، ناشکری ہے۔ ماں نے راتیں جاگ کر دودھ پلایا، باپ نے دھوپ میں جھلس کر نوالہ کمایا اور بچوں نے بڑھاپے میں انہیں بوجھ کا نام دے دیا۔
تو کیا اس میں غلطی انہی والدین کی اپنی ہے؟ یا تقدیر کا کھیل ہے؟ انہوں نے شاید بچوں کو کمفرٹ زون سکھایا، قربانی کا سبق نہیں سکھا پائے۔ کیریئر بنانے میں لگے رہے، کردار بنانا بھول گئے۔ دنیا کی دوڑ میں تیز سے تیز دوڑنے کی تگ و دو میں لگے رہے اور آخرت کی کسی دوڑ کا پتہ بھی نہ بتایا۔ بہرحال وجوہات جو بھی ہوں اولڈ ہاو¿س کے لوگ چاہے رشتوں سے ٹوٹے ہوں یا تقدیر کی ستم ظریفی، سب سے زیادہ کرب دینے والی بات یہ ہے کہ وہاں ٹھہری ہر زندگی، ہر چہرہ اپنی ہر سانس اسی آس پر گزارتا ہے کہ شاید آج کوئی اپنا آجائے۔ شاید دروازہ کھلے اور کوئی اپنا نام لے کر پکارے۔ شاید ایک بار پھر کسی اپنے کا لمس نصیب ہوجائے۔ یہ ”شاید“ ہی تو ان کی آکسیجن ہے اور یہی ”شاید“ روز ان کا جنازہ نکالتا ہے۔ وہ بدنصیب روز مرتے ہیں، روز دفن ہوتے ہیں اور مٹی بھی تبھی نصیب ہوتی ہے جب اس دنیا کا آخری رشتہ روح کا رشتہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ قرآن گواہ ہے کہ ’ ظھر الفساد فی البر و البحر بما کسبت ایدی الناس ‘ کہ ’خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا ہے اُن اعمال کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائے ہیں‘۔ (سورة الروم)
یہ اولڈ ہاوس ہماری اپنی کمائی ہے، ہمارے اپنے ہاتھوں کا لگایا ہوا پودا ہے جس کا پھل ہم آج چکھ رہے ہیں۔ اولڈ ہاوس ہو یا معاشرے کا کوئی ناسور، یہ اسلام کی شکست نہیں۔ ہماری غفلتیں اسلام کو شکست نہیں دے سکتیں، یہ صرف اور صرف ہمارا آئینہ ہیں۔ ان سفید بالوں کا ہر آنسو عرش کو ہلا دیتا ہوگا۔ لکھنے والوں کی بے بسی کیا بتائیں۔ ہمارے ہاتھ میں قلم کے سوا کچھ نہیں، نہ ہم کسی کے دروازے کھول سکتے ہیں، نہ کسی کے دل کو زبردستی نرم کر سکتے ہیں۔ ہم تو بس سسکیوں کو لفظ دے سکتے ہیں۔ کاغذ پر وہ درد اُتار سکتے ہیں جو سینوں میں گھٹ گھٹ کر مر رہا ہے۔ شاید کوئی بیٹا فائلیں بند کرکے ماں کے قدموں میں جا گرے، شاید کسی کی آنکھ بھیگ جائے، شاید کوئی رک جائے۔ اس کے سوا ہم کیا کر سکتے ہیں!!

