طالبان حکومت کا معاندانہ رویہ

تاریخ گواہ ہے کہ جب ساری دنیا نے افغانستان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا یہاں تک کہ ہندوستان جو افغانوں سے دوستی کے دعوے کرتا تھا اُس نے بھی منہ پھیر لیا تب بھی ہم نے انہیں تنہا نہیں چھوڑا۔ دسمبر 1979ء سے فروری 1989ء تک افغانستان پر سوویت یونین کے حملے اور قبضے کے دوران اندازاً 18لاکھ افغان جان کی بازی ہار گئے جن میں تقریباً تین لاکھ بچے بھی شامل تھے۔ اس دوران اور اس کے بعد بھی پاکستان نے کئی دہائیوں تک 50لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ نہ صرف انہیں پناہ اور تحفظ فراہم کیا بلکہ تعلیم، صحت، روزگار کے مواقع اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھرپور امداد بھی مہیا کی۔ بہت سے افغان مہاجرین نے پاکستان کے ساتھ گہرے سماجی اور معاشی تعلقات قائم کیے اور جب ان کی وطن واپسی کا عمل شروع ہوا تو متعدد خاندان جذباتی انداز میں پاکستان کو الوداع کہتے ہوئے روانہ ہوئے۔ وسیع انسانی امداد فراہم کرنے کے علاوہ پاکستان نے افغان مزاحمت کی حمایت میں بھی اہم کردار ادا کیا اور سوویت افواج کو افغانستان سے انخلا پر مجبور کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بدلے میں پاکستان کو کیا ملا؟ پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں پر حملے، بھارتی ایما پر پاکستانی سرزمین پر دہشت گردی، جارحیت، نفرت انگیز بیان بازی اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں اور ان کے کارندوں کے لیے افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ وہی بھارت جو برسوں تک طالبان کو دہشت گرد قرار دیتا رہا اگست 2021ء میں طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد اپنی افغان پالیسی میں تبدیلی لے آیا جس میں پاکستان مخالف عنصر نمایاں ہے۔ طالبان کی عبوری حکومت کے ساتھ نئی دہلی نے سفارتی روابط بحال کیے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں دونوں فریقوں کے تعلقات میں مزید اضافہ ہوا ہے جو علاقائی امن و استحکام کے لیے نیک شگون نہیں جبکہ بلوچستان سے لے کر کراچی تک اسرائیل بھارت افغانستان گٹھ جوڑ اور بھارت کی پاکستان مخالف پراکسی وار بے نقاب ہوچکی ہے۔ وطنِ عزیز میں 2024ء کے آخر سے دہشت گردی کے واقعات میں بدترین اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ 2025ء اور رواں برس 2026ء خاص طور پر خونریز ثابت ہوئے ہیں۔ افسوس! آج افغانستان کی طالبان حکومت اسی ملک کے ساتھ دفاعی تعلقات استوار کرنے میں محو ہے جس کی فوجی مداخلت نے افغان عوام کو بے پناہ مصائب سے دوچار کیا تھا۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کے باعث افغانستان کا رویہ پاکستان کے بارے میں تبدیل ہوگیا جس نے برسوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی اور مشکل ترین وقت میں اس کے ساتھ کھڑا رہا۔

دوسری جانب اسلام آباد کی طرف سے بارہا تحفظات کے اظہار کے باوجود افغان حکام نے نہ تو دہشت گرد گروہوں سے اعلانیہ لاتعلقی اختیار کی اور نہ ہی ان کے ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے موثر اور واضح اقدامات کیے ہیں جبکہ پاکستان نے عالمی پلیٹ فارمز پر ثبوت بھی فراہم کیے ہیں کہ بیرونی طاقتیں خصوصاً بھارت اور اسرائیل افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ طالبان کی عبوری حکومت دوحہ معاہدے پر پورا نہیں اتر سکی۔ نہ وہ ایک جامع اور نمائندہ حکومت قائم کر سکی نہ ہی خواتین کے بنیادی حقوق کا موثر تحفظ یقینی بنا سکی۔ افغان عبوری حکومت نے نہ صرف پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو مسلسل نظر انداز کیا بلکہ سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لیے تعاون کی متعدد پیشکشوں کو بھی قبول نہیں کیا۔ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں طالبان کی سیاسی سفارتی انسانی سمیت دیگر شعبوں میں بھرپور حمایت کی۔

اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان اس وقت دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ یہاں سرگرم دہشت گرد تنظیموں میں القاعدہ داعش خراسان، اسلامی موومنٹ آف ازبکستان (IMU)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM)، تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) شامل ہیں۔ روس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 23دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں۔ پاکستان کے پاس بھی ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض تنظیموں کو بیرونی عناصر سے مالی اور لاجسٹک معاونت حاصل ہوتی ہے تاہم متعلقہ ممالک ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ متعدد عسکریت پسند گروپوں کو افغان سرزمین پر بھرتی نظریاتی تربیت اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے مواقع میسر ہیں اور وہ پاکستان میں مساجد، مدارس، جنازوں، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر حملوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔

ان گروہوں نے ڈرون جیسے جدید ذرائع بھی استعمال کرنا شروع کردیے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ جن افراد اور گروہوں نے کئی دہائیوں تک پاکستان میں پناہ لی، یہاں تعلیم علاج کاروبار اور دیگر سہولیات سے فائدہ اٹھایا، آج انہی کی حکومت کی سرپرستی میں افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔ ٹی ٹی پی کو طالبان کے بعض بااثر دھڑوں اور بیرونی عناصر کی حمایت حاصل ہے اور اب اس میں سابق طالبان جنگجو اور سابق افغان سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہوئے ہیں۔ ملاعمر کے دورِ حکومت میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اپنی تاریخ کے بہترین مرحلے میں تھے۔ کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ پاکستان کی مغربی سرحد نسبتاً پُرامن اور محفوظ تھی۔ جب اکتوبر 1996ء میں ملا عمر کی قیادت میں پہلی طالبان حکومت قائم ہوئی تو بھارت طالبان کی مذہبی و نظریاتی پالیسیوں کی وجہ سے اس حکومت کے سخت ترین مخالف ممالک میں شامل تھا۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بگاڑ 2001ء کے بعد پیدا ہوا جب امریکا کی قیادت میں افغانستان میں فوجی مداخلت اور حامد کرزئی کی سربراہی میں مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کے قیام کے بعد بھارت کابل کا ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار بن کر ابھرا۔

یاد رہے کہ یہ بھارت ہی تھا جو افغانستان اور ایران میں موجود اپنے سفارتی مشنز اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان اور طالبان مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہا۔ ٹی ٹی پی نے اس وقت سابق فاٹا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں دوبارہ منظم ہونا شروع کردیا تھا۔ بھارت نے اس دوران شمالی اتحاد سے وابستہ حکومتوں کی مسلسل حمایت جاری رکھی تو ادھر امریکا نے بھی منافقانہ کردار نبھایا۔ ایک طرف پاکستان کے اتحادی ہونے کا تاثر دیتا رہا دوسری طرف خفیہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو غیرمستحکم کرنے اس کی جوہری صلاحیت کو کمزور کرنے اور ملک کو تقسیم کرنے کی سازش کرتا رہا۔ 20 سالہ جنگ کے دوران امریکا مسلسل افغانستان میں عدم استحکام کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا رہا۔ جب اگست 2021ء میں امریکی اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا ہوا تو اپنے سیاسی اور عسکری اہداف حاصل نہ کرسکنے کی ناکامی کے لیے ایک مرتبہ پھر امریکا نے پاکستان ہی کو موردِ الزام ٹھہرایا۔

اگر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا مقصود ہے تو پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کو وقتی ردِعمل کے بجائے قومی سلامتی کی مستقل پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ جب بھی دہشت گرد پاکستان پر حملہ کریں ان کے خلاف فوری موثر اور فیصلہ کن کارروائی ہونی چاہیے تاکہ ان کے ٹھکانے تربیتی مراکز اور معاون نیٹ ورک مکمل طور پر تباہ کیے جاسکیں۔ ریاست کی پہلی ذمہ داری اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ افسوس! پاکستان نے کئی دہائیوں تک افغانستان کی سیاسی سفارتی اور انسانی سطح پر بھرپور مدد کی مگر اس کے بدلے میں پاکستان کے خدشات کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو صرف مذہبی یا تاریخی رشتوں کی بنیاد پر تعلقات میں بہتری لانا مشکل ہوگا۔ پائیدار امن اس وقت ممکن ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات باہمی احترام ایک دوسرے کی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے اصولوں پر اُستوار ہوں۔