زمین کے قدیم ترین شہابی گڑھے کی نئی دریافت

زمین کی اربوں سال پرانی تاریخ سے متعلق ایک نئی سائنسی تحقیق نے حیران کن انکشاف کیا ہے۔ ماہرین نے مغربی آسٹریلیا میں زمین پر شہابِ ثاقب کے ٹکرا کا قدیم ترین معلوم گڑھا دریافت کیا ہے، جس کی عمر تقریباً 3.024 ارب سال بتائی گئی ہے۔ اس اہم دریافت سے قدرتی حالات کو سمجھنے میں بھی نئی پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔

عرب میڈیا ذرائع نے ویب سائٹ ”دا کنورسیشن” کے توسط سے بتایا ہے کہ محققین چٹانوں کے اندر موجود خورد بینی معدنیات کا تجزیہ کر کے اس ٹکرا ؤ کی عمر کا درست تعین کرنے میں کامیاب رہے جو زمین پر گزرنے والے شدید ترین ادوار میں سے ایک کا ایک نادر ثبوت ہے۔ یہ آتش فشاں چٹانیں، جو تقریبا 3.5 ارب سال پہلے وجود میں آئی تھیں، مغربی آسٹریلیا کے علاقے ”نارتھ پول ڈوم” میں واقع ہیں۔ یہ چٹانیں کٹا کے عمل اور ارضیاتی سرگرمیوں سے محفوظ رہی ہیں جنہوں نے قدیم زمین کے بیشتر آثار کو مٹا دیا تھا ۔

تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے 2025 ء میں اس علاقے میں ایک قدیم ٹکرا کے( Crater) گڑھے کی موجودگی کے اشارے ملنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کی عمر بحث کا موضوع بنی ہوئی تھی۔ جریدے جیولوجی میں شائع ہونے والی نئی تحقیق نے چٹانوں کے اندر موجود معدنیات کے تجزیے کے لیے جدید ترین تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے اس بحث کو ختم کر دیا ہے۔

محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ دریافت “نارتھ پول ڈوم” کے علاقے کو زمین پر موجود قدیم ترین معلوم ٹکرا کا گڑھا بناتی ہے اور یہ واحد تصدیق شدہ گڑھا ہے جس کا تعلق آرکئین عہد سے ہے جو 4 ارب سے ڈھائی ارب سال پہلے تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ وہ دور تھا جس میں زمین کی پہلی اوپری تہہ)قشر( بنی اور زندگی کی ابتدا ہوئی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا نشان ملنا ایک غیر معمولی امر ہے کیونکہ زمین ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت، کٹا اور حرارت کی وجہ سے مسلسل اپنی سطح کو تبدیل کرتی رہتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کی تاریخ کے آغاز میں شہابِ ثاقب کے چھوڑے ہوئے زیادہ تر گڑھے غائب ہوچکے ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسکووائٹ (Muscovite) معدنیات بعد کے ارضیاتی واقعات کے نتیجے میں تقریبا ً1.66 ارب سال پہلے وجود میں آئیں لیکن اس کا تعلق ٹکرا کے وقت سے نہیں ہے بلکہ یہ چٹانوں کی تاریخ کے ایک جدید تر مرحلے کی نمایندگی کرتی ہے۔

یہ دریافت محققین کو ایک ایسے مرحلے کا مطالعہ کرنے کا نادر موقع فراہم کر رہی ہے جس کے دوران زمین کائناتی ٹکرا کی بوچھاڑ کی زد میں تھی اور یہ وہ واقعات ہیں جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ انہوں نے زمین کی اوپری تہہ کی تشکیل میں حصہ لیا ۔