کراچی میں رینجرز کیمپ پر ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان کے خلاف سخت احٹجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا کہ اس سنگین واقعے پر کارروائی کرتے ہوئے افغان ناظم الامور کو فوری طور پر دفترِ خارجہ طلب کیا گیا اور گزشتہ رات افغان طالبان حکومت کو ایک سخت ترین احتجاجی مراسلہ یعنی ڈیمارش تھمایا گیا۔
پاکستان نے اس موقع پر اپنا سخت ترین احتجاج ریکارڈ کروایا ہے کیونکہ کراچی کے واقعے میں براہِ راست افغان شہریوں اور وہاں موجود نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے پکے شواہد ملے ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اپنی سرزمین پر ایسا کوئی بھی حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ہفتے کی رات کراچی کے علاقے صفورہ میں رینجرز کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ سے عثمان نامی ایک افغان دہشتگرد کو زخمی حالت میں زندہ گرفتار کیا تھا۔
عثمان نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ وہ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے پاکستان آیا تھا اور اس کے ساتھیوں عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق نے اس کارروائی میں اس کا ساتھ دیا تھا۔
عثمان نے بتایا کہ دہشتگرد جانان نے رینجرز کیمپ پر بم پھینکا تھا اور وہ سب حملے سے سات دن پہلے ہی پاکستان آئے تھے، جہاں انہیں ایک زیرِ تعمیر عمارت میں ٹھہرایا گیا تھا اور حملے کا اسلحہ عبدالہادی نامی دہشتگرد وزیرستان سے لایا تھا۔
اس مقابلے میں رینجرز کے تین بہادر جوان شہید ہوئے تھے جبکہ جوابی کارروائی میں تین حملہ آور موقع پر ہی مارے گئے تھے۔

