ایران کے صدر مسعود پزشکیان پاکستان کا ایک روزہ دورہ مکمل کرکے وطن واپس روانہ ہوگئے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور پاکستانی حکام نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو الوداع کیا۔ قبل ازیں منگل کے روز ایرانی صدرمسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے جہاں ان کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا۔ نور خان ائیر بیس پر صدرآصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی صدر کا استقبال کیا۔ ایرانی صدر کے دورے کا مقصد امریکا ایران ثالثی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہنا تھا، انہوں نے اپنے دورے میں ثالثی کردار پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا ایک روزہ دورہ پاکستان خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی، سفارتی اور معاشی منظرنامے کا ایک اہم اشارہ ہے۔ سرکاری اعلامیوں کے مطابق ایرانی صدر نے جنگ بندی میں پاکستان کے مثبت، تعمیری اور کلیدی کردار کو سراہنے اور اس پر پاکستانی قیادت سے اظہار تشکر کے لیے اسلام آباد کا رخ کیا۔اس دورے میں اعلیٰ سطح ملاقاتیں ہوئیں۔ جن میں برادرانہ روابط، باہمی اعتماد اور علاقائی امن کےلئے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان نے حالیہ بحران کے دوران جس متوازن، ذمہ دارانہ اور مصالحتی سفارت کاری کا مظاہرہ کیا، اس نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔ جنگ بندی کے لیے پس پردہ رابطوں، کشیدگی میں کمی کی کوششوں اور مسلسل سفارتی سرگرمیوں نے پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جو تصادم کی بجائے مکالمے اور امن کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے دورے میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا کردار محض بیانات تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے عملی طور پر کشیدگی کم کرنے کےلئے موثر کردار ادا کیا۔تاہم اس دورے کا ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے، جس پر اگرچہ سرکاری اعلامیوں میں زیادہ روشنی نہیں ڈالی گئی، مگر تجزیہ کاروں کی نظر مسلسل مرکوز رہی۔ وہ پہلو ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ ہے، جو گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے مختلف وجوہات کی بنا پر تعطل کا شکار ہے۔
2009 میں دونوں ممالک کے درمیان گیس سیلز اینڈ پرچیز ایگریمنٹ طے پایا، جس کے تحت ایران نے اپنی حدود میں پائپ لائن کا بڑا حصہ مکمل کر لیا، لیکن پاکستان امریکی پابندیوں، مالی مشکلات اور بین الاقوامی دباو کے باعث اپنے حصے پر کام مکمل نہ کر سکا۔ نتیجتاً 2024 میں ایران نے پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عالمی ثالثی کا راستہ اختیار کرنے کی تیاری کی اور ایران کی جانب سے اربوں ڈالر ہرجانے کا دعویٰ سامنے آیا۔ اس معاملے پر ابھی دونوں ملکوں میں تناو چل ہی رہا تھا کہ ایران جنگ میں پھنس گیا اور اس دلدل سے اسے نکالنے میں بہرحال پاکستان نے انتہائی اہم کردار ادا کیا، جس کے اعتراف اور سراہنے کیلئے ایرانی قیادت بہ نفس نفیس پاکستان آئی۔ پاکستان اس وقت شدید توانائی بحران، گیس کی قلت اور مہنگے درآمدی ایندھن کے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر ایران سے گیس کی فراہمی شروع ہو جائے تو نہ صرف صنعتی شعبے کو سستا ایندھن میسر آئے گا بلکہ بجلی کی پیداوار، گھریلو صارفین کی ضروریات اور مجموعی معاشی سرگرمیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اس کے نتیجے میں درآمدی اخراجات میں کمی آئے گی، زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور توانائی کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جس کا براہ راست فائدہ عوام اور صنعت دونوں کو پہنچے گا۔ جنگ بندی کے بعد امریکا کی جانب سے ایران پر عائد بعض پابندیوں میں ساٹھ دن کی نرمی کی گئی ہے۔ اگر اس مدت میں قانونی اور بین الاقوامی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے پاکستان اور ایران توانائی، پٹرولیم مصنوعات اور دیگر تجارتی شعبوں میں پیشرفت کر لیتے ہیں تو یہ دونوں ممالک کےلئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اگرچہ اس معاملے میں احتیاط لازم ہے، مگر قومی مفادات اور علاقائی تعاون کو متوازن انداز میں آگے بڑھانا بہرحال وقت کی ضرورت ہے۔ دنیا تیزی سے ریجنل کنیکٹیویٹی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ دور دراز منڈیوں پر مکمل انحصار کی بجائے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت، توانائی کے اشتراک اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں کو ترقی کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان اور ایران بھی باہمی معاشی تعاون کو فروغ دیں تو نہ صرف دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کو ایران کے ذریعے آذربائیجان، قفقاز خطہ اور وسطی ایشیا کی وسیع منڈیوں تک رسائی بھی حاصل ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خطے میں امن و امان کی خراب صورتحال کی بنیادی وجوہات میں معاشی عدم استحکام، بے روزگاری، غربت اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم شامل ہیں۔ جب تک یہ مسائل موجود ہوں گے، اس وقت تک امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کا تقاضا ہے۔اگرچہ سرکاری اعلامیوں میں ایرانی صدر کے دورے کے دوران تجارتی یا گیس پائپ لائن منصوبے پر کسی گفتگو کا ذکر موجود نہیں، تاہم یہ قیاس بے بنیاد نہیں کہ اس دورے میں معاشی اور توانائی کے معاملات زیر غور آئے ہوں گے۔
پاکستان نے حالیہ بحران میں جس دانشمندانہ، مخلصانہ اور متوازن کردار کا مظاہرہ کیا، اس نے اسے امن کے داعی اور ذمہ دار ریاست کے طور پر مزید مضبوط مقام دلایا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر پاکستان کی جانب سے بروقت سفارتی کوششیں نہ ہوتیں تو کشیدگی پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی تھی، جس کے اثرات صرف ایران یا پاکستان تک محدود نہ رہتے بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی امن بھی شدید متاثر ہوتے۔ ایرانی قیادت نے پاکستان کے اس کردار کو برادرانہ خلوص کے طور پر دیکھا اور اس کا اعتراف کیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مثبت ماحول کو صرف خیرسگالی کے بیانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے اقتصادی تعاون، توانائی کے اشتراک، علاقائی رابطوں اور مشترکہ ترقی کے عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔ ماضی میں ایران کا جھکاو پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی طرف زیادہ رہا ہے۔توقع رکھی جانی چاہیے کہ اب ایران کو دوست دشمن کا ادراک ہوا ہوگا۔ اگر پاکستان اور ایران تدبر، بصیرت اور قومی مفادات کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو نہ صرف دونوں ممالک کے عوام مستفید ہوں گے بلکہ پورا خطہ امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلوں کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔

