اسمارٹ فون آج ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، لیکن بعض عام عادات اُس کی کارکردگی اور عمر کو خاموشی سے متاثر کرتی رہتی ہیں۔ بیٹری کو بار بار مکمل ختم کرنا،سستے چارجرز کا استعمال، حفاظتی کور سے گریز، پانی میں غیر ضروری استعمال اور سیکورٹی اَپ ڈیٹس کو نظر انداز کرنا ،وہ غلطیاں ہیں جو فون کو وقت سے پہلے خراب کر سکتی ہیں۔
اگر فون کی درست طریقے سے دیکھ بھال کی جائے تو یہ کمپنیوں کے بتائے ہوئے وقت سے کہیں زیادہ عرصہ چل سکتا ہے،لیکن اگر آپ کا فون ایک ہی جنریشن سے آگے نہیں چل پاتا تو اس کا امکان ہے کہ آپ کی کچھ روزمرہ عادات آہستہ آہستہ اسے نقصان پہنچا رہی ہوں۔
اچھی دیکھ بھال کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو بار بار نیا فون لینے کی ضرورت نہیں پڑتی اور آپ غیر ضروری اخراجات سے بچ سکتے ہیں۔
اس لیے بہتر ہے کہ ایسی غلطیوں سے بچا جائے تاکہ موجودہ فون کی عمر زیادہ ہو سکے۔یہ بات ٹیکنالوجی ویب سائٹ PGMag کی ایک رپورٹ سے سامنے آئی ہے۔
(1) سستے کیبلز خریدنا:
سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک جو آپ کے فون کو نقصان پہنچا سکتی ہے، وہ غیر معروف (Cables)برقی تاریںسستے چارجنگ کیبلز کا استعمال ہے۔ عام USB کیبلز ہیں ،جو آپ کو بہت کم قیمت میں کسی بھی غیر معروف دکان سے مل جاتی ہیں۔
ایسی بہت سی کیبلز آپ کے فون کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہیں اور بعض صورتوں میں یہ آگ لگنے یا بجلی کے جھٹکے کا خطرہ بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ اس لیے معمولی بچت کے لیے یہ رسک لینا مناسب نہیں۔
بہتر یہی ہے کہ ہمیشہ کسی معروف برانڈ کی کیبل خریدی جائے اور اُسے احتیاط سے استعمال کیا جائے، غلط استعمال سے موبائل فون کے اندرونی تاریں خراب ہو سکتی ہیں، جو آگ لگنے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔اس لیے کیبل کو بہت زیادہ زور سے لپیٹنے سے گریز کریں، اور اسے پلگ سے کھینچنے کی بجائے ہمیشہ (Connector) جوڑنے والا سراپکڑ کر نکالیں۔
(2) فون کور استعمال نہ کرنا:
کتنے لوگ ایسے ہیں، جن کے فون کی اسکرین ٹوٹ چکی ہے؟ ہم سب یہی سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ نہیں ہوگا، لیکن حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے،اگرچہ کچھ لوگوں کو فون بغیر کور کے زیادہ خوبصورت لگتا ہے، لیکن یہ رسک لینے کے قابل نہیں۔ معمولی سی دراڑ بھی بعد میں بڑے نقصان میں بدل سکتی ہے اور فون کی (Resale Value) دوبارہ فروخت کی قیمت بھی کم کر دیتی ہے۔
بہترین انتخاب وہ کور ہے ،جس کے کناروں پر اضافی حفاظتی اُبھار (Raised Edges) موجود ہوں۔ اسی طرح مضبوط اسکرین پروٹیکٹر بھی ضروری ہے، کیونکہ عام خیال کے برعکس اسکرین مکمل طور پر خراشوں سے محفوظ نہیں ہوتی،اگر آپ پھر بھی بغیر حفاظت کے فون استعمال کرنا چاہتے ہیں تو حادثات کی صورت میں مرمت کے اخراجات کے لیے تیار رہیں۔
(3) بار بار بیٹری کو مکمل ختم کر دینا:
اسمارٹ فون کی بیٹری وقت کے ساتھ قدرتی طور پر کمزور ہو جاتی ہے۔ چند سال بعد اُس کی مکمل صلاحیت ویسی نہیں رہتی جیسی خریدتے وقت ہوتی ہے اور یہ ایک نارمل بات ہے، لیکن غلط استعمال سے اس کو تیز کر کے بیٹری کو جلد خراب کر سکتی ہیں۔
اس سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ فون کی بیٹری کو مکمل صفر(0) فیصد تک جانے نہ دیا جائے۔ ہر بار اسے مکمل ختم کرنا ضروری نہیں۔رات بھر چارج پر لگانے سے بھی عام طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، بس کوشش کریں کہ بیٹری کوتقریباً 30 فیصدسے اُوپر رکھا جائے۔
(4) پانی کے اندر بار بار سیلفی/ تصاویر لینا:
یہ خیال درست نہیں کہ کوئی بھی فون مکمل طور پر واٹر پروف ہوتا ہے۔ اشتہارات میں چاہے کچھ بھی کہا جائے، حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر ڈیوائسز صرف ”پانی سے محفوظ”ہوتی ہیں، مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
کچھ فونز کی پانی کے خلاف مزاحمت بہتر ہوتی ہے، لیکن پھر بھی ہمیشہ یہ امکان موجود رہتا ہے کہ پانی اندر داخل ہو جائے۔ جتنی زیادہ بار فون پانی کے رابطے میں آئے گا، اتنی ہی اس کی حفاظتی صلاحیت کمزور ہوتی جائے گی۔
اسی لیے چاہے فون IP67 یا IP68 ریٹنگ رکھتا ہو، اسے پانی میں بار بار یا زیادہ دیر تک استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اگرفوراً نقصان ظاہر نہ بھی ہو تو بار بار پانی کے استعمال سے اندرونی حصے آہستہ آہستہ متاثر ہو سکتے ہیں، اگر آئی فون پانی میں چلا جائے تو اس میں ایک خاص فیچر موجود ہوتا ہے جو اسپیکر سے پانی نکالنے میں مدد دیتا ہے۔
(5) سیکورٹی کو نظر انداز کرنا:
اکثر لوگ سہولت کی خاطر سیکورٹی کو اہمیت نہیں دیتے، خاص طور پر سافٹ ویئر اپڈیٹس کے معاملے میں،اگرچہ سیکورٹی اپڈیٹس بورنگ لگ سکتی ہیں اور فوری ضروری محسوس نہیں ہوتیں، لیکن یہ آپ کے فون کو نقصان دہ سافٹ ویئر اور سنگین خطرات سے محفوظ رکھتی ہیں۔
اس لیے ان اپ ڈیٹس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اسی طرح ایپس کو بھی باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ ان میں اکثر تکنیکی خامیوں کی اصلاح اور سیکورٹی کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہوتے ہیں۔
زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ غیر معتبر ذرائع سے ایپس انسٹال کرنا، اگر کوئی شخص غیر سرکاری یا مشکوک اسٹورز سے پیڈ ایپس مفت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ،تو وہ اپنے فون کو بڑے خطرے میں ڈال دیتا ہے، ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح ان غیر رسمی اسٹورز میں جعلی ایپس بھی موجود ہوتی ہیں جو اکثر صرف اشتہارات سے بھری ہوتی ہیں یا مشہور ایپس کی نقالی کرتی ہیں اور بعض اوقات فراڈ یا ڈیٹا چوری تک کا باعث بنتی ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ جو بھی ایپ انسٹال کریں ،اس کے بارے میں معلومات حاصل کریں، ریویوز پڑھیں، اور صرف آفیشل ورژن ہی استعمال کریں تاکہ ہیکنگ یا سیکورٹی مسائل سے بچا جا سکے۔

