سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مجوزہ ریلوے لنک خطے میں تجارت، نقل و حمل اور اقتصادی ترقی کے نئے امکانات روشن کرے گا۔ یہ منصوبہ نہ صرف ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان لوجسٹک رابطوں کو مضبوط بنائے گا بلکہ راستے میں آنے والے شہروں اور دیہاتوں میں ریئل اسٹیٹ، سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا، جس سے سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان متوقع ریلوے لنک کا منصوبہ ان شہروں اور دیہاتوں کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے نئے اُفق کھول رہا ہے جو اس کے راستے میں واقع ہیں۔
ماہرین توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ لائن ایک ترقیاتی انجن ثابت ہوگی جو ان مقامات کی کشش میں اضافہ کرے گی۔ یہ ریئل اسٹیٹ، لوجسٹکس اور سیاحتی شعبوں میں نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گی۔
یہ پیش رفت سعودی وزارت ٹرانسپورٹ و لوجسٹک سروسز اور ترک ہم منصب کی جانب سے خطے کے ممالک کے درمیان لوجسٹک رابطوں کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ اس منصوبے سے آنے والے برسوں میں ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تجارت اور سپلائی چین کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
ترک وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر اورال اوغلو کے مطابق یہ تعاون صرف ریل کی پٹریوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں جدید ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی بھی شامل ہوگی۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا راستہ استنبول سے شروع ہو کر حلب، دمشق اور عمان سے گزرتا ہوا الحدیثہ بارڈر کراسنگ کے ذریعے سعودی ریلوے نیٹ ورک تک پہنچے گا۔ اس کے بعد یہ طبرجل، ابو عجرم، حائل، بریدہ، الشنان، اور المجمعہ سے ہوتا ہواسعودی دارالحکومت ریاض تک جائے گا۔ مستقبل میں اس میں عراق اور سلطنت عمان کو شامل کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔
ریئل اسٹیٹ کے ماہر مطر الشمری نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ ان علاقوں میں شہری اور اقتصادی ترقی کا انجن ہے جہاں سے یہ گزرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کا اثر صرف مسافروں اور سامان کی نقل و حمل تک محدود نہیں، بلکہ یہ لوجسٹک اور سیاحتی سرگرمیوں کی حمایت اور زمین اور خدمات کی مانگ میں اضافے تک پھیلا ہوا ہے۔
کوآپریٹو سوسائٹی فار ریئل اسٹیٹ بروکرز کے بورڈ کے چیئرمین ماجد الحارثی نے توقع ظاہر کی کہ یہ منصوبہ براہِ راست ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر اثر انداز ہو گا اور اسٹیشنوں کے ارد گرد زمینوں اور جائیدادوں کی مانگ میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہوٹل، پیٹرول اسٹیشن اورریستوران کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔
ریئل اسٹیٹ کے ماہر العبودی بن عبداللہ کاکہنا تھا کہ اس منصوبے سے راستے میں آنے والے دیہاتوں کو نسبتاً کم فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن وہ جغرافیائی روابط میں بہتری اور رسائی کی کارکردگی سے بہرحال مستفید ہوں گے۔
یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب ایک عالمی لوجسٹک پلیٹ فارم کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔

