16 جون 2026ء کو پاکستانی وقت کے مطابق مغرب سے قبل مجاہدِ ختمِ نبوت جناب عبدالرحمن یعقوب باوا لندن میں انتقال فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! جناب عبدالرحمن باوا اپنے والد یعقوب باوا کے ہاں سورت گجرات انڈیا میں غالباً 1944ء میں پیدا ہوئے (وفات کے وقت ان کی عمر بیاسی سال کے لگ بھگ ہوگی) باوا خاندان سورت گجرات میں مسلمانوں کا تجارتی خاندان شمار ہوتا تھا، چنانچہ اس وقت انڈیا، برما، بنگلہ دیش، پاکستان، انگلینڈ اور امریکا میں اس خاندان کے حضرات تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ سورت گجرات کے مسلمان دیندار اور اسلام سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔
محترم عبدالرحمن باوا کے والد گرامی برما رنگون منتقل ہوگئے۔رنگون میں سورتی سنی جامع مسجد اور جمعیت علمائے ہند قائم ہے۔ کسی زمانے میں مرزا قادیانی کا چیلہ خواجہ کمال لاہوری مرزائی برما گیا، وہاں اس نے سرگرمیاں جاری کیں۔ جمعیت علمائے برما رنگون نے اس کے دجل سے عوام کو آگاہ کیا۔ اس کے چیلوں نے مناظرہ کا چیلنج دیا۔ انڈیا لکھنو سے مناظر اسلام مولانا عبدالشکور لکھنوی کو مناظرہ کے لیے بلایا گیا۔ ان کا نام سن کر خواجہ کمال لاہوری مرزائی گدھے کے سینگوں کی طرح وہاں سے ایسے غائب ہوا کہ پھر عمر بھر ادھر آنے کا نام نہ لیا۔مولانا عبدالشکور لکھنوی رنگون تشریف لائے، دن رات بیانات ہوئے، دھوکا یافتہ کئی لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ مرزائیت کی ظلمت چھٹی، ایمان کے نور نے اجالا کیا۔ دوسری بار قادیانی گروہ نے 1959ئ، 1960ء میں رنگون میں پر پرزے نکالے۔ ان کا گرو خواجہ بشیر تھا۔ جمعیت علمائے برما کے مولانا ابراہیم اور مفتی محمود، مفتی اعظم برما، مفتی محمد اسماعیل گورایہ، مولانا عبدالولی نے ان کا راستہ روکا۔ تب عبد الرحمن باوا صاحب نے ان علمائے کرام کی قیادت میں مجلس تحفظ ختم نبوت برما کی تشکیل کی۔ سرپرست جمعیت علمائے برما مولانا اسماعیل گورایہ، صدر اور محترم باوا صاحب اس کے سیکرٹری جنرل بنے۔ یہ 1962ء کی بات ہوگی۔ اس وقت باوا صاحب کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
آپ نے یہاں سے ماہنامہ ختم نبوت بھی جاری کیا۔ اس کا ایک شمارہ 1381ـ1382ھ میں سالنامہ کے طور پر خصوصی نمبر بھی شائع کیا۔ باوا صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جوانی سے عقیدہ ختم نبوت کی ترویج و اشاعت اور تحفظ کے لیے قدرت نے ایسی تشکیل کی کہ پھر زندگی کے آخری سانس تک اس جدوجہد کے ہر اول دستے میں نمایاں رہے۔برما میں فوجی انقلاب کے بعد آپ مشرقی پاکستان آگئے۔ یہاں ڈھاکے میں قادیانیوں کیخلاف مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین مولانا محمد ہارون اور ایک دوسرے عالم کے ساتھ مل کر باوا صاحب نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے دن رات ایک کردیا۔ اس زمانے میں حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری ڈھاکے کے ایک ہفتے کے دورے پر تشریف لے گئے۔ اس سفر میں محترم باوا صاحب حضرت جالندھری کے ساتھ سایہ کی طرح حاضر باش رہے۔
جب بنگلہ دیش قائم ہوا تو جیسے تیسے کراچی منتقل ہوئے۔ طارق روڈ پر کرائے کا مکان لیا اور چائے سپلائی کرنے کا کام شروع کیا۔ سائرہ مینشن ایم اے جناح روڈ کراچی میں واقع مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر سے رابطہ قائم کیا۔ اس زمانے میں کراچی مجلس کے امیر حضرت حاجی لال حسین صاحب تھے۔ ملتان دفتر حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری کو خط لکھا، وہ ملنے کے لیے تشریف لائے۔ اسی رات حضرت جالندھری دورہ قلب کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ صبح مولانا عزیز الرحمن جالندھری ریلوے اسٹیشن پر باوا صاحب کو لینے کے لیے گئے تو بتایا کہ رات حضرت والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ برما، بنگلہ دیش، کراچی کئی آلام و آزمائشوں سے گزرنے کے بعد اپنے ایک محسن حضرت جالندھری کو ملنے کے لیے آئے تو اس حادثے سے واسطہ پڑا۔ جنازے میں شریک ہوئے۔ کچھ دن ملتان رہے۔ حضرت جالندھری نے مولانا عزیز الرحمن صاحب کو ہدایات کر رکھی تھیں۔ ان کی ہدایات کی روشنی میں کراچی مجلس کے حضرات نے ان کو سر آنکھوں پر رکھا۔ صبح و شام اپنے کام سے فارغ ہو کر یومیہ کراچی دفتر حاضری ان کا معمول ہوگیا۔ بھرپور متحرک جوان تھے۔ آگے 1974ء کی تحریک چلی۔ اس میں دن رات ایک کردیا۔ سردار میر عالم لغاری، حضرت مفتی احمد الرحمن، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہم اللہ کی سرپرستی نے ان کو مزید حوصلہ دیا۔ وہ کراچی مجلس کے ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے۔
حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری کی دعاؤں سے آگے بڑھے اور بڑھتے ہی چلے گئے۔ حضرت مولانا منظور احمد الحسینی کراچی مجلس کے مبلغ بنے۔ باوا صاحب اور حضرت حسینی صاحب کی جوڑی بنی۔ باوا صاحب انگریزی جانتے تھے، مولانا حسینی عربی۔ عربی و انگریزی میں دونوں حضرات مل کر کام نکالنے لگے۔ اس دوران ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کا ڈیکلریشن ملا۔ ناشر و مدیر باوا صاحب، سرپرستی حضرت لدھیانوی کی۔ ترتیب و اشاعت کی ذمہ داری جناب حافظ محمد حنیف ندیم کی۔ اس دور میں سائرہ مینشن سے دفتر مسجد باب الرحمت پرانی نمائش منتقل ہوا۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب اس کے ٹرسٹ کے صدر قرار پائے۔ حضرت لدھیانوی نے کمر تھامی، باوا صاحب و حضرت حسینی نئی مسجد و دفتر کی تعمیر کیلئے کمر بستہ ہوگئے۔ اکابرین کی سرپرستی اور ان کا اثر و رسوخ، ان دو نوجوانوںایک نامور عالم دین، ایک سراپا تحریک کے لیے ابتدائی تعاون کا ذریعہ بنا۔1984ء کی تحریک ختم نبوت کی کامیابی کے نتیجے میں قادیانیت پاکستان سے اپنا ہیڈ کوارٹر برطانیہ لے گئی۔ 1985ء میں برطانیہ کے اندر پہلی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کے کامیاب انعقاد کے بعد لندن میں ختم نبوت کے دفتر کے قیام کے لیے محنت ہوئی۔ اکابرین کی سرپرستی میں یہ دونوں حضرات پیش پیش رہے۔ بعد میں باوا صاحب نے ختم نبوت اکیڈمی لندن کی بنیاد رکھی اور اسے عروج پر لے گئے۔
تیس چالیس سالہ رفاقت کی روشنی میں فقیر یہ گواہی دیتا ہے کہ آپ انتہائی جفاکش، محنتی، سراپا تحریک، زرخیز دماغ اور کام کرنے کے جذبے سے سرشار ایک بہترین کارکن و منتظم تھے۔ صحت کے زمانے میں ٹک کر بیٹھنے کا ان کے ہاں تصور نہ تھا۔ دن رات متحرک، انتہائی دیانت دار، مخلص رہنما اور پرانے ساتھی، بہترین دوست، جگری یار اور بھائی کی وفات پر دل گرفتہ اور شکستہ ہوں۔کینیڈا، سویڈن، ناروے، برطانیہ، ڈنمارک، سعودیہ اور پاکستان میں کئی سفر ایک ساتھ ہوئے۔ بہترین مونس دوست تھے۔ ان کے وصال کا سنا تو گویا پہلے سے زیادہ زمین سے لگ گیا۔ ان کی نماز جنازہ ان کے فرزند مولانا سہیل باوا نے پڑھائی اور لندن کے مسلم قبرستان میں تدفین کا عمل مکمل ہوا۔ برطانیہ میں مقیم سینکڑوں علماء و عوام الناس نے ان کے جنازے میں شرکت کی۔ حق تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائیں۔ ان کے جملہ خاندان، آل و اولاد کی اللہ تعالیٰ کفالت فرمائیں۔ ان کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین!

