گزشتہ سے پیوستہ:
مکالمہ بین المذاہب کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ بات تسلسل سے کہی جا رہی ہے کہ اس وقت مبینہ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ عالمی سطح پر لڑی جا رہی ہے اس میں مبینہ دہشت گردی کے لیے مذہب کا ٹائٹل استعمال ہو رہا ہے اور مذہب کے نام پر مبینہ طور پر دہشت گردی کی جا رہی ہے۔ اسے مذہب کے غلط استعمال کا عنوان دیا جا رہا ہے اور یہ تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ اسے روکنے کے لیے مسلمان علماء کرام عالمی برادری کا ساتھ دیں اور اس کے ساتھ تعاون کریں۔ مجھے چند سال قبل اس قسم کے ایک مکالمہ میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی جو مختلف مذاہب کے ارباب علم کے درمیان تھا۔ میں نے اس موقع پر عرض کیا کہ ہمیں مذہب کے غلط استعمال کو روکنے کے عنوان پر گفتگو سے انکار نہیں ہے اور ہم کسی بھی سطح پر اس کے لیے تیار ہیں۔ ہم نہ صرف اس پر گفتگو کریں گے بلکہ اگر باہمی مباحثہ میں ہماری کوئی غلطی ثابت ہو گئی تو ہم اس کا کھلے بندوں اعتراف بھی کریں گے، لیکن یہ ایجنڈا ادھورا اور یکطرفہ ہے۔ پہلے اسے متوازن بنایا جائے۔ ہمارے ہاں مناظروں میں عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ دو فریق باہمی مناظرہ کرتے ہیں تو دونوں کی طرف سے ایک ایک موضوع کا تعین ہوتا ہے اور دونوں عنوانات پر مناظرہ اور مکالمہ ہوتا ہے۔ ہم مذہب کے مبینہ طور پر غلط استعمال پر گفتگو کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے ساتھ ہماری طرف سے یہ موضوع مکالمہ میں شامل کرنا ہوگا کہ سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے مذہب کی بے دخلی کے نتائج کیا نکلے ہیں اور اس عمل نے انسانی سوسائٹی کو فائدہ دیا ہے یا نقصان پہنچایا ہے؟
اس کے ساتھ ہماری طرف سے دوسری شرط یہ ہے کہ مکالمہ اصل فریقوں کے درمیان ہو۔ چند سال قبل مسیحیوں کے پروٹسٹنٹ فرقہ کے عالمی سربراہ آرچ بشپ آف کنٹریری ڈاکٹر روون ولیمز اسلام آباد تشریف لائے تو ان سے مذاکرات کے لیے اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان جناب شوکت عزیز ان کے سامنے بیٹھے تھے، میں نے اس وقت یہ سوال اٹھایا تھا کہ آرچ بشپ آف کنٹریری تو مسیحی دنیا کے ایک بڑے مذہبی فرقہ کی نمائندگی کرتے ہیں، شوکت عزیز صاحب کس کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ مسٹر ٹونی بلئیر تشریف لائیں یا ڈیوڈ کیمرون برطانیہ سے آئیں تو شوکت عزیز یا یوسف رضا گیلانی ہی پاکستان کی نمائندگی کا حق رکھتے ہیں، لیکن اگر پاپائے روم تشریف لائیں یا آرچ بشپ آف کنٹربری مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہوں تو مسلمانوں کی نمائندگی کا حق ان کے مذہبی راہنماؤں کو ہے اور وہی مذاکرات حقیقی مذاکرات کہلائیں گے جو اصل فریقوں کے درمیان ہوں گے۔
مکالمہ بین المذاہب کے اہداف و اغراض کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسانی سوسائٹی گلوبل ویلیج کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے، باہمی میل جول بڑھ رہا ہے اور مشترکہ سوسائٹیاں تشکیل پارہی ہیں۔ ان مشترک سوسائٹیوں میں مختلف مذاہب کے لوگوں کو کس طرح مل جل کر رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کے احترام اور باہمی حقوق و آداب کی پاسداری کا ماحول کیا ہونا چاہیے، تاکہ وہ باہمی تصادم بد امنی سے بچتے ہوئے اکٹھے رہ سکیں۔ میرے نزدیک مکالمہ بین المذاہب کا اصل ہدف یہی ہونا چاہیے۔ یہ آج کی دنیا کی ضرورت ہے اور دعوت و تبلیغ کے حوالہ سے مسلمانوں کی بھی ایک بڑی ضرورت ہے کہ دعوت امن و سکون کے ماحول میں ہی صحیح نتائج دے سکتی ہے۔
اب آخر میں اس طرف آنا چاہوں گا کہ مکالمہ بین المذاہب کے مختلف دائروں اور اس کے مقاصد و اہداف کے مختلف پہلوؤں کے تناظر میں ہماری ذمہ داری کیا ہے اور ہم کس طرح اس سلسلہ میں صحیح کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمارا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم صورتحال کا صحیح ادراک کریں اور مکالمہ بین المذاہب کے عمومی تناظر اور اس کے اہداف و مقاصد کے مختلف دائروں کو سمجھنے کی کوشش کریں، کیونکہ اس حوالہ سے معاملات بہت کچھ گڈمڈ ہو کر رہ گئے ہیں اور یہ بات سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کون کس دائرے میں کام کر رہا ہے اور کس مقصد کے لیے کام کر رہا ہے۔ عمومی صورتحال کے صحیح ادراک کے بعد پھر اس کے لیے صحیح طور پر تیاری ہماری ذمہ داری ہے۔ مطالعہ، تحقیق، تجزیہ، لابنگ اور مکالمہ کے جدید اُسلوب پر مہارت ضروری ہے اور ابلاغ کے جدید ذرائع کا استعمال بھی ایک ناگزیر ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ہم مجموعی صورتحال کے حقیقت پسندانہ جائزہ اور صحیح ادراک کے ساتھ اپنی ضروریات اور ترجیحات کا تعین کر سکیں تو ہم اس پوزیشن میں ہوں گے کہ ”مکالمہ بین المذاہب” کے عالمگیر مکالمہ میں اسلام اور ملت اسلامیہ کی صحیح طور پر نمائندگی کر سکیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یارب العالمین!

