ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان زیرِ بحث مفاہمتی یادداشت میں یہ شق شامل ہے کہ بیرونِ ملک منجمد 12 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثے 60 دن کے اندر جاری کیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق یہ دعویٰ اس دستاویز کے غیر سرکاری مسودے پر مبنی ہے جو اس وقت مذاکرات کے عمل میں زیرِ غور ہے۔ تاہم عرب میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز ایرانی نشریاتی ادارے (IRIB) کی اس سابقہ رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ مجوزہ معاہدے میں امریکا ایران پر بحری پابندیاں ختم کرنے کا بھی پابند ہوگا۔
ایرانی ٹی وی کے مطابق غیر سرکاری مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا ایران کو اس کے 12 ارب ڈالر کے اثاثوں تک مکمل رسائی دے گا، یہ رقم 60 دن کے اندر منتقل کرنے کی اجازت ہوگی تاکہ ایران انہیں اپنے ملک یا اپنی پسند کے کسی بھی ملک میں بغیر کسی پابندی کے استعمال کر سکے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا تھا کہ فی الحال کسی بھی قسم کے مالی تبادلے نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:
ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن، ایران کو نئی تجاویز پر مشتمل مسودہ بھیج دیا
واضح رہے کہ بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کا مسئلہ امریکی پابندیوں کے تناظر میں جاری مذاکرات کا ایک اہم اور بنیادی نکتہ ہے، جس پر کسی ممکنہ معاہدے کے لیے فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایرانی خبر ایجنسی” ایسنا” نے جمعرات کے روز رپورٹ کیا کہ تہران 24 ارب ڈالر کی رقوم کی رہائی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں سے آدھا حصہ مفاہمتی یادداشت کے اعلان کے فوراً بعد فراہم کیا جائے گا۔ اسی طرح ایرانی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی مجموعی مالیت 100 سے 123 ارب ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔
ایران مزید یہ مطالبہ بھی کر رہا ہے کہ ایک واضح طریقہ کار قائم کیا جائے تاکہ دیگر رقوم کی رہائی بھی یقینی بنائی جا سکے، جیسا کہ خبر ایجنسی ”تسنیم ”نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے اس ہفتے رپورٹ کیا۔

