جدید خوارج کی فکری گمراہیوں میں ایک یہ ہے کہ وہ جمہوریت کو اسلام کے متبادل ایک متوازی نظام (Parallel System) اور ایک الگ دین کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ چونکہ جمہوریت مغرب سے آئی ہے، اس لیے یہ اسلام کے سیاسی نظام کے متصادم ایک کفریہ ڈھانچہ ہے۔ ان کا یہ استدلال درحقیقت شریعت اسلامیہ کے مزاج، فقہی اصولوں اور انسانی تمدن کے ارتقا سے لا علمی اور سطحی فہم کا نتیجہ ہے۔ اس گمراہ کن بیانیے کے پردے چاک کرنے کے لیے ہمیں اسلامی احکامات کی بنیادی تقسیم اور ان کے دائرہ کار کو گہرائی سے سمجھنا ہوگا۔
شریعتِ اسلامیہ کے احکام اپنی نوعیت کے لحاظ سے دو بڑے حصوں میں تقسیم ہیں۔ پہلی قسم ان احکام کی ہے جو تفصیلی اور متعین ہیں۔ یہ وہ احکام ہیں جن کا مقصد، ہیئت، مقدار اور طریقہ کار اللہ اور اس کے رسول نے خود طے کر دیا ہے اور ان میں قیامت تک کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ جیسے نماز کی رکعات، روزے کے اوقات، زکوٰة کا نصاب اور حج کے مناسک۔ ان عبادات میں انسانی عقل کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ زمانے کی تبدیلی کا عذر پیش کر کے نماز کا کوئی نیا طریقہ ایجاد کرے یا روزوں کا مہینہ بدل دے۔ یہاں اطاعت کا تقاضا یہی ہے کہ جس طرح کا طریقہ کار وحی سے ثابت ہے، اسی پر حرف بہ حرف عمل کیا جائے۔ خوارج نے اسی دائرے کے اصول کو اٹھا کر سیاست اور نظامِ حکومت پر فٹ کر دیا، جو ان کی سب سے بڑی علمی لغزش ہے۔
اس کے برعکس احکام کی دوسری قسم وہ ہے جو اجمالی اور اصولی ہیں۔ شریعت نے زندگی کے بعض اجتماعی شعبوں میں صرف بنیادی مقاصد اور اخلاقی اصول تو مقرر فرما دیے ہیں، لیکن ان پر عمل پیرا ہونے کا کوئی ایک خاص اور حتمی طریقہ کار متعین نہیں کیا، بلکہ اسے ہر دور کے اہل بصیرت، فقہا اور دانشمندوں (اہلِ حل و عقد) کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے تاکہ وہ اپنے زمانے کے حالات، تمدنی تقاضوں اور جغرافیائی ضرورتوں کے مطابق کوئی بھی مناسب طریقہ کار وضع کر سکیں۔ دعوت و تبلیغ، جہاد و دفاع، معاشی ضابطے اور خاص طور پر سیاست اور امورِ سلطنت اسی اجمالی دائرے میں آتے ہیں۔ اسلام نے سیاست کے لیے یہ اصول تو لازمی قرار دیے ہیں کہ حکومت میں عدل و انصاف ہو، امانتیں اہل لوگوں کے سپرد ہوں، اور فیصلے باہمی مشورے (شوریٰ) سے ہوں لیکن یہ مشورہ کیسے ہوگا؟ پارلیمنٹ کے ذریعے ہوگا، یا کسی اور انتظامی ڈھانچے سے؟ اس کا کوئی ایک تفصیلی نقشہ شریعت نے فرض نہیں کیا۔
ریاست کے تفصیلی ڈھانچے کو شریعت نے اس لیے لچکدار رکھا تاکہ اسلام ہر دور اور ہر جغرافیے کے لیے قابلِ عمل (Universal) رہے۔ اگر اسلام ساتویں صدی کے عرب کے قبائلی اور روایتی انتظامی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے فرض کر دیتا، تو بدلے ہوئے تمدن، کروڑوں کی آبادی والے جدید شہروں اور پیچیدہ عالمی قوانین کے دور میں ریاست چلانا نامکن ہو جاتا۔ خود عہد رسالت اور خلافتِ راشدہ کا طرزِ عمل اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد جب ریاست کے سربراہ کے انتخاب کا مسئلہ سامنے آیا، تو صحابہ کرام نے چاروں خلفائے راشدین کا انتخاب بالکل مختلف طریقوں سے کیا۔ سیدنا ابوبکر کا انتخاب سقیفہ بنی ساعدہ میں یکدم پیدا ہونے والے اتفاقِ رائے سے ہوا، سیدنا عمر کو ابوبکر صدیق نے اپنی وفات سے پہلے نامزد فرمایا، سیدنا عثمان کا انتخاب عمر فاروق کی بنائی ہوئی چھ رکنی کمیٹی کے طویل مشورے سے ہوا، اور سیدنا علی کا انتخاب مدینہ کے حالات میں عوام کے شدید اصرار پر ہوا۔ یہ چاروں مختلف طریقے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اسلام حکومت چلانے یا حکمران چننے کی خاطر کوئی ایک تفصیلی فارمولے کا پابند نہیں کرتا۔
اس اصولی حقیقت کی گہرائی میں اترا جائے تو یہ راز کھلتا ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کا اصل حسن اس کے جامد ہونے میں نہیں، بلکہ اس کی لچک اور آفاقیت میں ہے۔ اسلام نے تمدنی اور سیاسی معاملات میں کبھی بھی ظاہری شکل اور نام کو روح اور جوہرپر ترجیح نہیں دی۔ اگر دینِ اسلام نظامِ حکومت کا کوئی ایک مخصوص، مشینی اور دستوری ڈھانچہ ہمیشہ کے لیے فرض کر دیتا، تو یہ دین خود کو زمان و مکان کی قید میں محدود کر لیتا۔ ساتویں صدی کے سادہ قبائلی معاشرے سے لے کر جدید دور کی پیچیدہ عالمی معیشت اور تکنیکی ریاست تک، انسانی تمدن نے ارتقا کے بے شمار مراحل طے کیے ہیں۔ شریعت کا کمال یہ ہے کہ اس نے بدلتے ہوئے زمانوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں کو انتظامی آزادی دی، لیکن اسے بالکل بے لگام بھی نہیں چھوڑا۔ ریاستی ڈھانچے کی ظاہری بحث سے بالاتر ہو کر، قرآن و سنت نے نظامِ حکومت کو چلانے کے لیے چند ایسے آفاقی اور غیر متبدل اصول عطا فرمائے ہیں جن کا عملی نفاذ صاحبِ اقتدار لوگوں کی اولین ذمہ داری اور اصل امتحان ہے۔ ان ابدی اصولوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
باہمی مشاورت اور شوری کا نظام: ایک بنیادی اور ناگزیر ستون شوری (Consultation) ہے، جو کسی بھی جابرانہ آمریت، شخصی ملوکیت یا خاندانی بادشاہت کی جڑ کاٹتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ نظمِ اجتماعی کا کوئی بھی فیصلہ اہلِ علم کی اجتماعی دانش کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔ قرآنِ کریم سورہ الشوری میں مومنین کی اجتماعی اور حکومتی صفت بیان کرتے ہوئے صراحت فرماتا ہے: وامرھم شوریٰ بینہم یعنی اور ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ نیز سورہ آل عمران میں خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو، باوجودِ صاحبِ وحی اور معصوم ہونے کے، پابند کیا گیا: ”وشاوِرھم فِی الامر” یعنی اور اہم معاملات میں ان سے مشورہ کیجیے۔ تاکہ رہتی دنیا تک یہ بات واضح ہو جائے کہ اسلام میں فردِ واحد کی آمریت یا مرضی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اقتدار کا حقیقی مشن اور ریاستی ذمہ داریاں: اسلامی تصورِ سیاست میں اقتدار کا ملنا محض ایک سیاسی فتح نہیں، بلکہ دین کی اقامت اور معاشرے کی فلاح کے لیے ایک عظیم آزمائش ہے۔ قرآنِ کریم سورہ الحج میں صاحبِ اقتدار لوگوں کی بنیادی ذمہ داریوں کا احاطہ کرتے ہوئے صراحت فرماتا ہے: یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکو ادا کریں گے، نیک کاموں کا حکم دیں گے اور برائیوں سے روکیں گے۔ یہ آفاقی آیت یہ سکھاتی ہے کہ ایک مسلم حکمران اور نظامِ حکومت کی اولین ترجیح شہریوں کی روحانی، اخلاقی اور معاشی اصلاح ہونی چاہیے۔ عبادت کا نظام قائم کرنا، غریبوں کی معاشی دستگیری کے لیے زکوٰة کا نظام چلانا، اور معاشرے میں بھلائیوں کو فروغ دے کر برائیوں اور ظلم کا سدِ باب کرنا ہی وہ بنیادی مقصد ہے جس کے لیے شریعت نے اقتدار کے استعمال کی اجازت دی ہے۔
عدل و انصاف کی فراہمی: انہی اصولوں میں سے ایک مرکزی اصول عدل و انصاف (Justice) ہے، جس کے بارے میں قرآن صراحت کرتا ہے کہ تمام انبیا کی بعثت کا بنیادی مقصد ہی زمین پر عدل قائم کرنا تھا۔ سورہ الحدید میں ارشادِ باری تعالی ہے: بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیاں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ یہ اصول یہ سکھاتا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور ریاست کا وجود صرف طاقتور کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ مظلوم کو اس کا حق دلانے کے لیے ہے۔ (جاری ہے)

