الطاف حسن قریشی کی کچھ یادیں، کچھ باتیں

گزشتہ سے پیوستہ:
ڈاکٹر اعجاز قریشی ہمیں بتایا کرتے تھے کہ اس اداریے کے بارے میں قانونی مشیر سے رائے لی تو اس نے صاف کہہ دیا کہ ڈیفنس آف پاکستان ایکٹ کے تحت اردو ڈائجسٹ کا ڈیکلریشن کینسل ہوجائے گا، آپ دونوں بھائی گرفتار ہوں گے اور اردو ڈائجسٹ کا پریس بھی سیل ہوجائے گا۔ اس چتاونی، وارننگ کے باوجود قریشی برادران نے وہ اداریہ شائع کیا اور پھر وہی ہوا، یہ تمام سزائیں انہیں ملیں۔ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ بھٹو صاحب کے طوفانی دور کے بعد جنرل ضیا الحق کا دور آیا تو فطری طور پر یہ سب اینٹی بھٹو لوگ اس طرف چلے گئے۔ ہمارے دوست خالد ارشاد صوفی کا ایک خوبصورت فقرہ اس حوالے سے ہے کہ جنرل ضیا دراصل بھٹو کا ردعمل تھا۔ جس پر ایک اور دوست نے گرہ لگائی، جیسا ہمیں بھٹو ملا، ویسا ہمیں ضیا ملا۔ اب آتے ہیں مشرقی پاکستان سے متعلق الطاف حسن قریشی صاحب کے مضمون کی طرف۔ اردو ڈائجسٹ ساٹھ کے عشرے کا بڑا پرچہ تھا، مشرقی پاکستان میں بھی اس کی خاصی سرکولیشن تھی۔ الطاف حسن قریشی صاحب نے مشرقی پاکستان کے کئی سفر کئے تھے۔ یہ کوئی سرکاری دورے نہیں تھے، نہ ہی صرف صحافتی۔ یہ ایک شخص کی ذاتی کوشش تھی کہ پاکستان کے دو حصوں میں جو دراڑ بڑھ رہی ہے، اسے سمجھے اور ممکن ہو تو پر کرنے کی کوشش کی جائے۔

الطاف صاحب نے ڈھاکہ، چٹاگانگ، راج شاہی وغیرہ کے دورے کرکے وہاں کے سیاست دانوں، طلبا، صحافیوں، علما، اور عام لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور پھر ان کی روداد اردو ڈائجسٹ میں وہ رقم کرتے رہے۔ ان کے سفر ناموں اور رپورٹس میں مشرقی پاکستان کی نبض دھڑکتی تھی۔ وہ غصہ، وہ شکوہ، وہ نظر انداز کیے جانے کا احساس جس کا اظہار اس وقت کے مغربی پاکستان کے بڑے اخبارات بھی پوری ایمان داری سے نہیں کر پا رہے تھے۔ قریشی صاحب نے یہ سب لکھا۔ ان کا وہ مشہور مضمون جس میں محبت کے زمزم بہنے کی بات کی گئی تھی، یہ سقوط ڈھاکہ کے قریب شائع نہیں ہوا، جیسا کہ عام تصور ہے۔ یہ فال آف ڈھاکہ سے پانچ سال قبل سنہ 1966 میں شائع ہوا۔ طویل مضمون تھا، تین حصوں میں آیا۔ الطاف صاحب کا وہ مضمون پڑھیں تو اس میں بہت سی نہایت عمدہ، قابل قدر تجاویز ملتی ہیں، کاش ان پر عمل ہو گیا ہوتا تو مشرقی پاکستان کبھی الگ نہ ہوتا۔

50 سال بعد، 2023 میں، انہوں نے اپنے ان تمام مضامین کو ایک کتاب کی شکل میں جمع کیا، مشرقی پاکستان: ٹوٹا ہوا تارا۔ 1408 صفحات کی یہ شاندار کتاب قلم فانڈیشن نے شائع کی۔ تاریخ کے طلبہ کو یہ لازمی پڑھنی چاہیے۔ جو سانحہ مشرقی پاکستان کو سمجھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ ازحد مفید ہے۔ اس میں الطاف صاحب کا وہ مشہور مضمون بھی من وعن شامل ہے۔ پڑھ کر خود اندازہ لگا لیں۔ یہ کوئی عام کتاب نہیں، یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ گوشہ ہے جو اردو میں شاید پہلی بار اس مکمل تفصیل اور ایمان داری کے ساتھ سامنے آیا۔ پاکستان کی اردو صحافت کو قریشی صاحب نے کیا دیا؟ اس کا جواب اردو ڈائجسٹ کی روایت میں ہے۔ اس نے ایک پوری نسل کو پڑھنا سکھایا اور اس سے بھی اہم، اچھی اردو لکھنا سکھایا۔ 60 اور 70 کی دہائی میں جب پاکستانی نوجوان کے گھر میں شاید ہی ایک رسالہ آتا تھا، تو اردو ڈائجسٹ آتا تھا۔ والد دفتر سے واپس آ کر پہلے اسے کھولتے، پھر ماں چائے بناتی، پھر بچے انتظار میں رہتے کہ کب اپنی باری آئے۔ گاں کے چائے خانوں میں، شہر کے بازاروں میں، فوجی چھانیوں کے میسز میں، کالجوں کی لائبریریوں میں ہر جگہ یہ رسالہ موجود ہوا کرتا تھا۔ یہ پاکستانی متوسط طبقے کی ادبی غذا تھا۔

اس رسالے کے صفحات سے کیا کچھ نکلا، یہ سننے کے لائق ہے۔ مقبول جہانگیر کے ترجمہ کردہ شکاری قصے، جنہوں نے ایک پوری نسل کو افریقہ کے جنگلوں کی سیر کرائی۔ آباد شاہپوری کی تحقیق۔ ضیا شاہد کی صحافت، جو بعد میں خود ایک ادارے کے بانی بنے۔ ارشاد احمد عارف، ہارون رشید، رف طاہر، اسد اللہ غالب، شریف کیانی، ڈاکٹر امین اللہ وسیر، محسن فارانی، نعیم بلوچ، حسان عارف، سید عاصم محمود، یہ سب وہ نام ہیں جو اردو ڈائجسٹ یا اس کے ہم سفر رسالے زندگی کی تربیت گاہ سے گزرے۔ مجیب الرحمن شامی صاحب نے کبھی ایک تقریب میں کہا تھا کہ الطاف صاحب صرف ایک ایڈیٹر نہیں تھے بلکہ وہ ایک سکول تھے۔ شامی صاحب نے اپنے اخبار میں الطاف صاحب کے انتقال کی خبر پر سرخی جمائی، صحافت کا فیلڈ مارشل۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی اردو صحافت میں یہ اعزاز صرف اور صرف الطاف حسن قریشی ہی کو سجتا ہے۔ ہمارے ہاں اب یہ روایت تقریبا ختم ہو چکی ہے۔ یوٹیوب کے زمانے میں کسی نوجوان کو سمجھانا مشکل ہے کہ ایک رسالہ پڑھنا کیا ہوتا تھا؟

الطاف صاحب کا تجزیاتی مضمون ہم کہاں کھڑے ہیں پڑھنا کیا تھا؟ یہی وہ تربیت ہے جس نے ہمارے زمانے کے بڑے صحافی، دانشور، اور لکھاری پیدا کیے۔ اور اس تربیت کا ایک بنیادی مرکز اردو ڈائجسٹ تھا۔ قریشی صاحب کا ایک اور پہلو ان کی انٹرویوز کرنے کی مہارت تھی۔ ملاقاتیں کیا کیا کے نام سے ان کی کتاب میں عالمِ اسلام اور پاکستان کی بڑی شخصیات کے انٹرویوز ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ شخصیات اور پاکستانی مشاہیر۔ ان کا انٹرویو لینے کا انداز بھی ایک خاص فن تھا۔ وہ ایک گفتگو کرنے والے انٹرویور تھے، نہ کہ پولیس کے تفتیشی۔ الطاف صاحب اردو صحافت میں بے تکلف، منفرد انداز کا تفصیلی انٹرویو کرنے کے حوالے سے امامِ اول تھے۔ مرنے کے بعد سب بڑے بنتے ہیں، یہ سچ ہے۔ کچھ لوگ مگر مرنے سے پہلے بھی بڑے ہوتے ہیں۔ الطاف قریشی صاحب ان میں سے ایک تھے۔ ہمارے ہاں ایک عام رجحان ہے کہ بزرگوں کو رخصت کے بعد یاد کیا جاتا ہے، حیات میں نظر انداز، مگر یہ بات قریشی صاحب کے ساتھ نہیں ہوئی۔ ان کی زندگی میں ہی ان کی شخصیت کا اعتراف ہوا۔ تقریبات منعقد ہوئیں، اعزازات ملے، انٹرویوز ہوئے، ان کے کام پر تحقیقی مقالے لکھے گئے۔ اور یہ بھی ان کی شخصیت کی ایک خوبی ہے۔ وہ بہت سے دوسرے نظریاتی صحافیوں کی طرح تنگ نظر نہیں رہے۔ وہ اپنے مخالفین کو بھی عزت دیتے، ان سے ملتے، ان کی بات سنتے۔ ایک شائستہ، تہذیب یافتہ، اور مہذب صاحب علم صحافی، یہ ان کی ہمیشہ پہچان رہی۔

آخری بات: ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی صحافت کا اخلاقی معیار گر چکا ہے، جب چینلز پر گالی گلوچ معمول ہے، جب صحافی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کو فن سمجھتے ہیں، جب نظریاتی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدل دیا جاتا ہے، ایسے میں الطاف حسن قریشی جیسے انسان کا رخصت ہونا ایک تہذیبی نقصان ہے۔ سوچتا ہوں، ان جیسا اب دوبارہ کب پیدا ہوگا؟ ان جیسا رسالہ کب نکلے گا؟ ان جیسی تربیت گاہ کب بنے گی؟ ان جیسا محنتی، پرفیکشنسٹ ایڈیٹر کب ملے گا، جو نوجوان لکھاری کے مسودے پر گھنٹوں محنت کرے، اس کے ہر جملے کو پرکھے، اور پھر اسے ایسا واپس کرے کہ اگلی بار وہ خود سیکھ جائے؟ یہ سب اب ماضی کی روایت ہے۔ ہم نے فاسٹ فوڈ صحافت کو ترجیح دی ہے، اور سست رفتاری سے سکھانے والے استاد رخصت ہو رہے ہیں۔ استاد محترم الطاف صاحب پر رب کریم اپنی خاص رحمت فرمائے، آمین، ہمیں ان کی یاد سے کچھ سیکھنے کی توفیق دے۔ آمین!