صمود فلوٹیلا کی تمام کشتیوں پر صہیونی قبضہ،430 رضاکار گرفتار،وحشیانہ تشدد

تل ابیب/غزہ/روم/لندن/بیروت:اسرائیلی فورسز نے غزہ جانے والے عالمی صمود فلوٹیلا میں شامل تمام کشتیوں کو قبضے میں لے لیا۔

صمود فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق 50 سے زائد کشتیوں میں موجود سینکڑوں بین الاقوامی رضاکاروں کو اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے۔منتظمین کا کہنا ہے کہ رضاکاروں کی غیر قانونی حراست سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل 430 رضاکاروں کو اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے۔اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق زیرِ حراست رضاکاروں کو قونصلر نمائندوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔

ادھرعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امدادی رضاکاروں کو بین الاقوامی پانیوں پر گرفتار کرنے کے بعد جنگی قیدیوں کی طرح اسرائیل پہنچادیا گیا۔اسرائیل کی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر نے جیل کا دورہ کیا اور انھوں نے وہاں نہ صرف ویڈیوز بنائیں بلکہ رعونت بھرے لہجے میں دھمکیاں بھی دیں۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیر نے یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری کیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متعدد رضاکاروں کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے ہیں اور انہیں گھٹنوں کے بل جھکایا گیا ہے۔ایک ویڈیو میں ایتمار بن گویر اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے زیرِ حراست رضاکاروں سے کہتا ہے کہ اسرائیل میں خوش آمدید، یہاں کے ہم مالک ہیں۔

اسی دوران ایک ہتھکڑی لگی خاتون کارکن نے فلسطین کو آزاد کرو کا نعرہ لگایا تو سیکورٹی اہلکاروں نے اسے فوراً زمین پر گرادیا۔دوسری ویڈیو میں اسرائیلی وزیر نے کہا کہ یہ رضاکار بڑے ہیرو بننے آئے تھے اب ان کی حالت دیکھو جبکہ انھوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم سے مطالبہ کیا کہ ان رضاکاروں کو طویل عرصے تک اسرائیلی جیل میں رکھا جائے۔

اطلاعات کے مطابق اس بحری قافلے میں 40 سے زائد ممالک کے تقریباً 430 رضاکار شامل تھے اور ان سب کو حراست میں لے لیا گیا۔قافلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے کارروائی کے دوران بعض کشتیوں پر فائرنگ بھی کی۔

عرب میڈیا کے مطابق غزہ جانے والے فلوٹیلا کے کم از کم 87 کارکنان نے اسرائیلی حراست او ربدسلوکی کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔دوسری جانب اٹلی نے فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے اور فلوٹیلا کے ارکان کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی شدید مذمت کی ہے اور اسرائیل سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیر بن گویر کی ویڈیوز ناقابلِ قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلوٹیلا کے ارکان جن میں کئی اطالوی شہری بھی شامل ہیں کے ساتھ اس طرح کا سلوک انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اطالوی حکومت اعلیٰ ترین سطح پر فوری اقدامات کر رہی ہے تاکہ زیرِ حراست اطالوی شہریوں کی فوری رہائی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان وجوہات کی بنا پر وزارتِ خارجہ اسرائیلی سفیر کو طلب کرے گی تاکہ اس معاملے پر باضابطہ وضاحت طلب کی جا سکے۔

ہتک آمیز ویڈیوز جاری ہونے کے بعد اسرائیلی وزیر کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی وزیر کے امددی رضاکاروں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کو انسانی وقار کے منافی قرار دیا۔

خود اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اس معاملے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر موصوف کی یہ حرکت ملکی وقار اور قوانین کے منافی ہے۔وزیراعظم نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ ان ویڈیوز نے اسرائیل کی سفارتی پوزیشن کو نقصان پہنچایا اور یہ مناظر عالمی سطح پر اسرائیل کے لیے شرمندگی کا باعث بنے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے بھی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ اسرائیل کا چہرہ نہیں ہیں۔ آپ کے عمل نے ریاست کی ساکھ متاثر کی ہے۔آئرلینڈ کے وزیر اعظم نے بین الاقوامی پانیوں میں کشتیوں کو روکنے کو ناقابل قبول قراردیا۔

اسپین اور انڈونیشیا نے فوری رہائی اور رضاکاروں کی سلامتی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ترکیہ نے اسرائیلی کارروائی کو سمندری ڈاکہ زنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکنوں کے ساتھ ایسا سلوک بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

فلسطینی تنظیم حماس نے بھی اسے اسرائیل کے اخلاقی زوال اور سفاکیت سے تعبیر کیا۔اسرائیل میں عرب اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم عدالہ نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکام جان بوجھ کر رضاکاروں کی تضحیک کر رہے ہیں۔

تنظیم کے وکلا نے اشدود بندرگاہ پر زیرِ حراست کارکنوں سے ملاقات کے بعد فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔فلسطینی وزارت خارجہ نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے بحری قافلے فلوٹیلا کو اسرائیل کی جانب سے روکے جانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ برائے فلسطین و تارکین وطن نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے امدادی جہازوں کی روک تھام ایک نیا جرم ہے جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی نسل کشی اور بھوک و افلاس جیسے جرائم کو چھپانا ہے، اس کارروائی کو مکمل بحری قزاقی اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قراردیا گیا۔

فلسطینی وزارت نے ان افراد کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی جنہیں اسرائیلی فورسز نے جہازوں کو روکنے کے بعد حراست میں لیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور یورپی یونین فوری طور پر اسرائیل پر پابندیاں عائد کریں اور بین الاقوامی پانیوں میں مبینہ جرائم پر اس پر دبائو ڈالیں کہ وہ غزہ کا محاصرہ ختم کرے۔

دریں اثناء غاصب اسرائیلی وحشی فوج نے بدھ کے روز علی الصبح مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے متعدد علاقوں میں دھاوے بول کر وسیع پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دیں جس کے دوران وحشیانہ مظالم ڈھاتے ہوئے متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

مظلوم فلسطینیوں پر نسل کشی کا بازار گرم رکھنے والی قابض اسرائیل کی افواج نے ایک خصوصی یونٹ کے ذریعے قلقیلہ شہر کے ایک کیفے میں گھس کر سابق اسیر احمد ابو لبدہ کو اغوا کر لیا اور متعدد دیگر نوجوانوں کو بھی حراست میں لے کر عقوبت خانوں کی طرف منتقل کر دیا۔

نابلس میں غاصب قابض اسرائیل کی ظالم فورسز نے شہر کے مغربی علاقے میں واقع رفدا محلے میں شہری علی ناجح الصفدی کے گھر پر وحشیانہ چھاپہ مارا اور تلاشی لینے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا۔صہیونی درندوں نے شہر کے شمال مغرب میں واقع برقة گاؤں پر بھی دھاوا بولا اور متعدد مظلوم گھروں کی تلاشی لیتے ہوئے نوجوان عدی ماہر صلاح کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔

نابلس کے جنوب میں واقع قصبے اوصرین پر مسلسل جاری جارحیت کے دوران قابض اسرائیل کی ظالم فوج نے ایک اور معصوم فلسطینی کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔ادھر نابلس کے مغرب میں واقع مخیم العین (العین کیمپ) میں بھی قابض اسرائیل کی افواج داخل ہوئیں اور شہر کے شمال مغرب میں واقع قصبے عصیرہ الشمالیہ میں ایک نوجوان کے گھر پر چھاپہ مار کر اسے قید کر لیا۔

دوسری طرف غیور فلسطینی نوجوانوں نے نابلس کے جنوب میں واقع بیتا قصبے کے مضافات میں الحرائق کے علاقے پر سفاک یہودی آباد کاروں کے ایک وحشیانہ حملے کو پسپا کر دیا اور اپنے دفاع کے لیے ڈٹ گئے۔

صہیونی غاصبوں کی ان اندھا دھند گرفتاریوں کی زد میں جنین کے شمال مشرق میں واقع عرانہ گاؤں سے دو فلسطینی نوجوان محمد ابراہیم حنانہ اور محمد نعیم حنانہ بھی آ گئے جنہیں ان کے گھروں پر وحشیانہ چھاپے کے بعد حراست میں لیا گیا۔

قابض اسرائیل کی سفاک فورسز نے جنین کے مشرق میں واقع در ابو ضعف گاؤں میں چھاپہ مار کر فواد عوض کو ان کے گھر سے گرفتار کیاجبکہ جنین کے جنوب میں واقع قباطة قصبے سے نوجوان لیث محمد ابو زلطہ کو بھی ان کے گھر سے اغوا کر لیا گیا۔

صہیونی درندوں نے رام اللہ کے شمال مغرب میں واقع در نظام گاؤں پر حملے کے دوران ایک گھر میں گھس کر خوف و ہراس پھیلایاجبکہ طوباس کے مشرق میں واقع تاسر گاؤں کے بھی کئی گھروں پر چھاپے مارے۔ اس کے ساتھ ہی الخلیل کے شمال میں واقع حلحول اور بیت لحم کے مشرق میں واقع العبدہ قصبے پر بھی غاصبانہ دھاوا بولا گیا۔

مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع حزما قصبے میں قابض اسرائیل کی جلاد فوج نے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی مہم چلائی جس کے دوران لگ بھگ 18 فلسطینی نوجوانوں کو اغوا کر لیا گیا جبکہ گھروں کی حرمت پامال کرتے ہوئے شہریوں کو وحشیانہ تفتیش کا نشانہ بنایا گیا۔

قابض اسرائیل کی افواج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں قلندیا کیمپ کے قریب واقع ”الکسارات” محلے پر بھی دھاوا بول کر مظلوم شہریوں کو ہراساں کیا۔

ادھرفلسطینی اسیران کے میڈیا دفتر نے تصدیق کی ہے کہ ”جانوت” نامی عقوبت خانے میں بند مظلوم فلسطینی اسیران مسلسل جبر و تشدد، قید و بند کی صعوبتوں، بھوک پیاس اور بیرکوں کے اندر مختلف وبائی امراض و فنگس پھیلنے کے باعث انتہائی ابتر اور ہولناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

میڈیا دفتر نے بدھ کے روز جاری کردہ اپنے ایک دردناک بیان میں بتایا کہ اس بدنام زمانہ جیل کی ظالم انتظامیہ نے دو دن پہلے ہی اسیران پر کالی مرچ کے اسپرے (پیپر اسپرے) اور اندھا دھند گولیوں کی بوچھاڑ کر کے ان کی آواز کو دبانے کی وحشیانہ کوشش کی۔

روزانہ کھلی ہوا میں ٹہلنے کے وقت (الفورہ) کے دوران بھی اسیران کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بسا اوقات ان کا یہ بنیادی حق بھی یکسر منسوخ کر دیا گیا۔بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ غاصب صہیونیوں کی طرف سے اسیران کو دیا جانے والا کھانا انتہائی ناقص اور انتہائی قلیل ہے جس کی وجہ سے کئی فلسطینی اسیران شدید جسمانی کمزوری اور لاغری کا شکار ہو چکے ہیں۔

جیل میں کپڑوں اور بستر کی چادروں کی شدید قلت ہے جبکہ خارش اور فنگل انفیکشن جیسی جلدی بیماریاں وبائی صورت اختیار کر چکی ہیں، یہاں تک کہ اس ہولناک وباء کے تیزی سے پھیلنے کے باعث اب اس عقوبت خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں اور بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق مسلسل حملوں کے نتیجے میں اسپتالوں اور امدادی نظام پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے جبکہ طبی سہولیات پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسپتالوں میں ایک فلسطینی شہید اور 16 زخمیوں کو منتقل کیا گیا، حکام کا کہنا ہے کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے مکمل طور پر نہیں رکے اور مختلف علاقوں میں کارروائیاں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔

غزہ وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں مزید 881 فلسطینی شہید جبکہ 2 ہزار 621 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 72 ہزار 773 تک پہنچ چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعدادایک لاکھ 72 ہزار 723 ہو گئی ہے۔

فلسطینی حکام نے اسرائیلی کارروائیوں کو منظم نسل کشی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب لبنان کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملوں میں خواتین و بچوں سمیت10 افراد جاں بحق اور متعددزخمی ہو گئے جبکہ حزب اللہ کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں اسرائیلی فوج کا ریزرو میجر ایتامار سپیر ہلاک ہو گیا۔

لبنان کی قومی خبر رساںادارے کے مطابق نبطیہ ضلع کو نشانہ بنانے والے ان حملوں میں مجموعی طور پر10افراد کی موت ہوئی جبکہ بارہ افراد زخمی ہوئے، جن میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔اسی طرح طائر ضلع میں واقع قصبے حنویہ پر کیے گئے ایک اور حملے میں 10 افراد زخمی ہوئے جن میں ایک شخص کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

قصبے معرکہ پر ایک اور حملے میں7افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک بچہ اور 3 خواتین شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اپنے فوجی افسر کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 27 سالہ افسر ایک چرچ کے اندر موجود حزب اللہ جنگجو کی فائرنگ کا نشانہ بنا، ہلاک ہونے والا افسر مغربی کنارے کی بستی ایلی کا رہائشی تھا۔

واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے متعدد ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ 25 سے زائد حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں اسلحہ ڈپو، راکٹ لانچر اور کمانڈ سینٹر شامل تھے۔

ادھر حزب اللہ نے بھی لبنان سے اسرائیل کی جانب کئی ڈرون حملے کیے، اسرائیلی فوج کے مطابق ایک ڈرون مار گرایا گیا جبکہ دوسرا سرحدی علاقے میں گرنے سے 2 افراد معمولی زخمی ہوئے۔