رپورٹ: علی ہلال
عرب تحقیقاتی ادارے کی ایک رپورٹ میں اُن اسرائیلی تنظیموں اور اداروں کے جال کا انکشاف کیا گیا ہے جو انٹرنیٹ پر اسرائیل کی ”ڈیجیٹل جنگ“ کی قیادت کررہے ہیں۔ اس نیٹ ورک کا مقصد فلسطین کے حق میں موجود بیانیے کو کمزور کرنا اور اس کی جگہ اسرائیل نواز بیانیہ فروغ دینا ہے۔
تحقیق کے مطابق اس نیٹ ورک کی قیادت کرنے والی کئی نمایاں شخصیات کا تعلق اسرائیلی فوج یا انٹیلی جنس پس منظر سے ہے۔ یہ نظام مختلف تنظیموں، افراد اور ڈیجیٹل مہمات کے ذریعے کام کرتا ہے جہاں دنیا بھر کے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو متحرک کیا جاتا ہے تاکہ اسرائیلی موقف کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جاسکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورک ایک ’الیکٹرانک فورس‘ کی شکل اختیار کرچکا ہے جو سوشل میڈیا پر منظم انداز میں اسرائیل کے حق میں مواد تیار اور نشر کرتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے ایک مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی سرچ انجن بھی تیار کیا گیا جو خاص طور پر اسرائیلی بیانیے کو فروغ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے اور بین الاقوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہا ہے جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس پورے نیٹ ورک کے مرکز میں’برائٹ مائنڈ‘ ( Mind Bright ) نامی ایک اسرائیلی تنظیم سامنے آئی ہے جو 7 اکتوبر 2023ءکے بعد غزہ جنگ کے دوران سرگرم ہوئی۔ تنظیم کا بنیادی مقصد فلسطین کے حامی بیانیوں کو سوشل میڈیا سے کمزور کرنا اور اسرائیلی موقف کو مضبوط انداز میں پیش کرنا بتایا جاتا ہے۔یہ ادارہ خود کو ایک ایسی مہم قرار دیتا ہے جو دنیا بھر کے انفلوئنسرز کو اسرائیل کے حق میں مواد اور ویڈیوز بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ’یہود دشمنی کے خلاف جدوجہد‘ کے نام پر اسرائیل پر تنقید کرنے والے مواد کو بھی نشانہ بناتا ہے۔تحقیق کے مطابق ‘’رائٹ مائنڈ‘ دراصل ’Here4Good‘ نامی ایک اسرائیلی تنظیم کے تحت کام کرتا ہے جو جنوری 2024ءمیں قائم کی گئی تھی۔ تنظیم کے سرکاری دستاویزات میں درج ہے کہ اس کے مقاصد میں اسرائیل کی عالمی ساکھ بہتر بنانا، اسرائیلی سلامتی کے حق میں آگاہی پیدا کرنا اور ”غلط معلومات“ کے خلاف مہم چلانا شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے تین اہم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز متحرک کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ’Here4Good‘ کے تحت تین مرکزی پلیٹ فارم کام کررہے ہیں جن کا مقصد اسرائیل نواز مواد کو عام صارفین تک آسان اور فوری انداز میں پہنچانا ہے۔
پہلے نمبر پرتیار شدہ پوسٹس بنانے والا نظام ہے۔ صارف مخصوص موضوع مثلاً غزہ جنگ کے بارے میں مواد تیار کرنے کی درخواست دیتا ہے، جس کے بعد مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام اسرائیلی بیانیے کے مطابق ایک مکمل پوسٹ تیار کردیتا ہے، جسے ایکس، انسٹاگرام، لنکڈاِن، ریڈٹ اور کورا پر فوری شیئر کیا جاسکتا ہے۔ عربی تحقیقاتی ادارے کے مطابق تجربات میں معلوم ہوا کہ یہ نظام غزہ جنگ سے متعلق حقائق کو اسرائیلی نقطہ نظر کے مطابق پیش کرتا ہے اور انسانی بحران کے پہلووں کو نظر انداز کرتا ہے۔ دوسرے نمبر پر ’برائٹ مائنڈ AI‘ سرچ انجن ہے۔ یہ ایک AI سرچ انجن ہے جسے ’مشرق وسطیٰ کے حقائق کا غیرجانبدار ذریعہ‘ قرار دیا جاتا ہے تاہم تحقیق کے مطابق اس کے جوابات واضح طور پر اسرائیلی موقف کے حق میں ہوتے ہیں۔
جب تحقیقاتی ادارے نے اس انجن سے غزہ کے محاصرے اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سوالات کیے تو اس نے غیرجانبدار جواب دینے کے بجائے اسرائیلی اقدامات کا دفاع کیا۔ مثال کے طور پر غزہ کے محاصرے کے بارے میں سوال کے جواب میں اس نے انسانی بحران یا اقوام متحدہ کی تنقید کا ذکر کرنے کے بجائے اسرائیلی ”سکیورٹی خدشات“ اور ”اسلحہ کی اسمگلنگ روکنے“ جیسے دلائل کو نمایاں کیا۔ تحقیق کے مطابق اس AI نظام کے جوابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا جھکاو اتفاقی نہیں بلکہ اس کے ڈیزائن اور مقاصد کا حصہ ہے۔

