اسلام آباد:وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ایک ایکشن اگر کامیاب ہو تو انقلاب کہلاتا ہے، لیکن اگر ناکام ہو تو اس کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں، 9 مئی کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔
پریذائیڈنگ افسر شیری رحمان کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا تو سینیٹر اعظم سواتی نے ایوان میں ارکان کی کم حاضری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی اہم فورم ہے مگر ارکان کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے، حاضری بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ جمعہ کی وجہ سے حاضری میں تاخیر ہو رہی ہے، جبکہ حکومتی بینچز کی حاضری زیادہ اور اپوزیشن کی حاضری کم ہے۔وزارت تعلیم کے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ ملک کی 163 سرکاری یونیورسٹیوں میں سے 23 مستقل وائس چانسلرز کے بغیر چل رہی ہیں، جبکہ ان یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرریوں پر کام جاری ہے۔
وزارت مواصلات نے تحریری جواب میں بتایا کہ جولائی 2024 سے مارچ 2026 تک موٹرویز سے 71 ارب روپے کی آمدنی ہوئی، جس میں سے 85 فیصد رقم ایم ٹیگ کے ذریعے وصول کی گئی۔سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی گزشتہ تین سال سے معاشی بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کراچی میں ہے اور وزیر تعلیم بھی کراچی سے ہیں، اس معاملے کو حل کیا جائے۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے اسٹاف کو تنخواہیں فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ یونیورسٹی نے مزید مالی پیکیج کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔وزارت اوورسیز کے مطابق محکمہ شماریات کی رپورٹ میں 2024-25 کے دوران 59 لاکھ پاکستانی بے روزگار ہیں، جبکہ پاکستان لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق بے روزگاری کی شرح 7 فیصد سے زائد ہے۔
سینیٹ اجلاس میں 12 قائمہ کمیٹیوں کو مختلف معاملات پر رپورٹس پیش کرنے کے لیے 60 روز کی مدت میں توسیع دے دی گئی۔ توسیع کابینہ، اوورسیز، استحقاق، بحری امور، صحت اور تخفیف غربت سمیت مختلف کمیٹیوں کو دی گئی۔پاکستان نرسنگ اینڈ مڈ وائفری کونسل بل 2026 سینیٹ میں پیش کیا گیا، جسے وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے ایوان میں پیش کیا۔ بل سینیٹ سے منظور کر لیا گیا، جبکہ یہ بل قومی اسمبلی سے پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔
ایکسپورٹ امپورٹ بینک ترمیمی بل بھی ایوان میں پیش کیا گیا، جسے وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے پیش کیا۔ بل مزید غور کے لیے کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کسی کا حق نہ ملنا ظلم ہے اور ظالم کے ظلم پر راضی ہونے والا بھی ظالم کہلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو جیلوں میں بند کر کے ہم اپنے پاں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔راجہ ناصر عباس نے کہا کہ جب ہم مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو اسے کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس وقت اقتدار کس کے پاس ہے اور کیا جیل سپرنٹنڈنٹ میں عدالتی احکامات روندنے کی جرات ہے۔

