غزہ میں3شہید،لبنان میں18اہلکاروں کی ہلاکت کااسرائیلی اعتراف

غزہ/تل ابیب/برسلز/نیویارک/بیروت/ابوظہبی:امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ بمباری کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیوں کا رخ دوبارہ غزہ کی پٹی کی جانب موڑدیا ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران حملوں میں شدید تیزی آئی ہے۔

تنازعات پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے کے مطابق مارچ کے مقابلے میں اپریل میں اسرائیلی حملوں میں 35 فیصد اضافہ ہوا جبکہ غزہ کی وزارتِ صحت نے اطلاع دی ہے کہ 8 اپریل سے اب تک 120 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جو ایران کے ساتھ تنازع کے دورانیے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ شہادتیں ہیں۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرکاری سطح پر جنگ بندی کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن زمین پر صورتحال اس کے برعکس ہے اور اسرائیلی افواج نے غزہ کے آدھے سے زیادہ حصے پر قبضہ برقرار رکھتے ہوئے عمارتوں کی مسماری اور شہریوں کی بے دخلی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اس وقت غزہ کے 20 لاکھ سے زائد محصورین ساحلی پٹی کے ایک تنگ علاقے میں کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں امدادی سامان کی ترسیل پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اکتوبر سے جاری نام نہاد جنگ بندی کے دوران اب تک مجموعی طور پر 850 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

یروشلم میں انٹرنیشنل بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملاڈینوف نے غزہ کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم سیاسی فریم ورک تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حماس مسلح جدوجہد سے دستبرداری کا اعلان کر دے تو وہ بطور سیاسی تحریک قومی انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد کے 20 نکاتی امن منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی موجودہ سیاسی قیادت کو دستبردار ہونا پڑے گا کیونکہ کسی بھی عبوری فلسطینی اتھارٹی کے متوازی مسلح ملیشیاؤں کا وجود ناقابلِ قبول ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں قائم کردہ اس بورڈ کا مقصد جنگ کے بعد غزہ کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے کی نگرانی کرنا ہے تاہم یہ تجاویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

ادھرہزاروں انتہا پسند صہیونی آباد کاروں نے بدھ کی علی الصبح قابض اسرائیلی فوج کی سنگینوں کے سائے میں مقبوضہ نابلس کے مشرقی علاقے میں واقع مقام قبر یوسف پردھاوا بولا اور وہاں اشتعال انگیز مذہبی رسومات ادا کیں۔

قابض اسرائیلی فوج نے غاصب آباد کاروں کی اس یلغار کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے علاقے کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر ناکہ بندی کر رکھی تھی جبکہ متعدد اہلکاروں نے فلسطینی شہریوں کے گھروں کی چھتوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں۔

قابض دشمن نے فوجی چوکیاں قائم کر کے شہر کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کر دیا تاکہ آباد کاروں کی اس کھلی جارحیت میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ 5 ہزار سے زائد انتہا پسند آباد کاروں نے قبر یوسف کی بے حرمتی کی جن کی قیادت قابض اسرائیل کا متعصب وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ اور کنیسٹ کے متعدد ارکان کر رہے تھے۔

اس اشتعال انگیز کارروائی کا مقصد فلسطینی زمین پر غاصبانہ قبضے کو مستحکم کرنا اور مقامی آبادی کو ہراساں کرنا ہے۔واضح رہے کہ فلسطین میں مقبوضہ ویسٹ بینک کے شہر نابلس میں واقع ”قبرِ یوسف” تاریخی و مذہبی مقام ہے جسے مسلمان، یہودی اور مسیحی تینوں مقدس مانتے ہیں۔

یہ جگہ اکثر فلسطینیوں اور اسرائیلی آباد کاروں کے درمیان جھڑپوں کا مرکز بنی رہتی ہے جہاں یہودی اپنی مذہبی عبادات انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ مزار نابلس کے مشرقی علاقے میں قدیم شہر بلاطہ کے قریب واقع ہے۔

تاریخی روایت کے مطابق اگرچہ حضرت یوسف علیہ السلام کا انتقال مصر میں ہوا لیکن روایات کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو لے کر نکلے تو وہ ان کا جسدِ خاکی ساتھ لائے اور یہاں دفن کیا۔

اس مقام پر اسرائیلی فوج کی سیکورٹی میں انتہا پسند یہودیوں کی آمد اور مقامی فلسطینیوں کے درمیان اکثر شدید جھڑپیں ہوتی ہیں۔ بعض روایات کے مطابق یہ قبر تقریباً 200 سال پرانی ہے اور ایک تاریخی درخت کے نیچے ہے۔

ادھرقابض اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں بمباری، فائرنگ اور مسلسل محاصرے کے ذریعے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں مزید ایک فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ۔

طبی عملے نے نصیرات کیمپ کے مشرق میں واقع نوفل خاندان کے گھر کے راہداری کو نشانہ بنانے والے ایک اسرائیلی ڈرون حملے کے بعد ایک شہید اور ایک زخمی کو ہسپتال منتقل کیا ہے جبکہ رام اللہ کے شمال میں واقع قصبے جلجلا کے قریب قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی بچہ شہید ہو گیا۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب علاقے میں آباد کاروں کے وسیع پیمانے پر حملے اور مظالم جاری ہیں۔فلسطینی وزارت صحت نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ 16 سالہ بچہ یوسف علی رام اللہ کے شمال میں واقع جلجلا کے قریب قابض اسرائیل کی گولیوں کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کر گیا۔

ہلال احمر (ریڈ کراس) کے مطابق ان کے طبی عملے نے آباد کاروں کے حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 4 افراد کو طبی امداد فراہم کی جن میں ایک نوجوان بھی شامل تھا جس کے سینے میں گولی لگی تھی، بعد ازاں اسی زخمی نوجوان کی شہادت کی تصدیق کر دی گئی۔

آباد کاروں کی مسلح ملیشیاؤں نے رام اللہ کے شمال میں واقع قصبے سنجل اور گاؤں جلجلا پر دھاوا بولا جہاں انہوں نے چرواہوں پر وحشیانہ حملہ کیا اور ان کی سینکڑوں بھیڑیں چوری کر لیں۔مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آباد کاروں نے سنجل پر حملے کے دوران ایک گھر میں گھس کر تقریباً 700 بھیڑیں لوٹ لیں۔

مقامی فلسطینیوں نے آباد کاروں کے اس حملے کا دلیری سے مقابلہ کیا جس کے دوران نوجوانوں اور حملہ آوروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، فلسطینی شہری سنجل سے چوری کی گئی بھیڑوں میں سے کچھ کو واپس لینے میں کامیاب رہے۔

اسی دوران آباد کاروں نے جلجلا گاؤں کے مضافات میں واقع شہریوں کے گھروں پر بھی حملہ کیا اور وہاں سے بھی بھیڑیں اور زرعی آلات چرا لیے۔قابض اسرائیلی افواج نے بھی اس لوٹ مار میں حصہ لیتے ہوئے جلجلا اور سنجل کے درمیان واقع بدوی بستی سے ایک زرعی ٹریکٹر چوری کر لیا۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق ادارے اوسی ایچ اے اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری حالات کے باعث نفسیاتی اور ذہنی صحت سے متعلق خدمات کی ضرورت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

شنہوا کے مطابق ادارے نے کہا ہے کہ غزہ میں ان کے شراکت دار اداروں کی جانب سے چلائی جانے والی ٹول فری ہیلپ لائن پر مارچ سے اپریل کے دوران آن لائن مشاورتی سیشنز میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور صرف اپریل میں 9,600 سے زائد مشاورتیں فراہم کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق خودکشی کے خیالات سے متعلق کیسز میں 90 فیصد اضافہ دیکھا گیاجبکہ گھریلو و صنفی تشدد سے متعلق مشاورت میں 46 فیصد اور بے چینی و خوف سے متعلق کیسز میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ڈبلیو ایچ اوکے اندازے کے مطابق غزہ میں 43,000 سے زائد افراد ایسے زخمی ہوئے ہیں جنہیں زندگی بھر معذوری یا شدید طبی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے جن میں ریڑھ کی ہڈی کے زخم، دماغی چوٹیں، شدید جھلسنے کے واقعات اور اعضا کا کٹ جانا شامل ہے۔

ادارے کے مطابق ان زخمیوں میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ شامل ہے جبکہ تقریباً 53,000 افراد کو طویل مدتی بحالی کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ستمبر 2025ء کے بعد بحالی کی خدمات میں کچھ بہتری آئی ہے تاہم مجموعی صلاحیت اب بھی اکتوبر 2023ء سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔

اس وقت کوئی بھی بحالی مرکز مکمل طور پر فعال نہیں ہے اور 400 سے زائد مریض خصوصی علاج کے منتظر ہیں۔اوسی ایچ اے نے کہاکہ مغربی کنارے میں بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں قلقیلیہ کے علاقے عرب الخولی کی ایک بے گھر کمیونٹی کی املاک کو مسمار کیا گیا جو پہلے 20 سے زائد خاندانوں پر مشتمل تھی۔

رپورٹ کے مطابق 2023ء کے بعد سے اب تک 45 فلسطینی کمیونٹیز مکمل طور پر نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہیں جبکہ زیادہ تر بے دخلیاں یہودی آبادکاروں کے حملوں اور پابندیوں کے باعث ہوئیں۔

علاوہ ازیںغزہ کی پٹی سے انسانی حقوق کے ایک معتبر ادارے ”غزہ سینٹر برائے حقوق انسانی” نے انکشاف کیا ہے کہ پانچ برس سے کم عمر کے فلسطینی بچوں میں شدید غذائی قلت کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے۔

یہ تشویشناک صورتحال قابض اسرائیل کی جانب سے بنیادی اشیاء خورونوش کی فراہمی پر عائد ظالمانہ پابندیوں اور صحت کی سہولیات کی تباہی کا نتیجہ ہے جبکہ فلسطینی عوام کے خلاف غاصب صہیونی ریاست کی سفاکیت کو 30 ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں مرکز نے خبردار کیا ہے کہ2026ء کے دوران پانچ برس سے کم عمر کے 71,000 سے زائد فلسطینی بچوں کو شدید غذائی قلت کے جان لیوا خطرات کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (اوچا) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025ء میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امداد کی روانی میں 37 فیصد تک نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2026ء کے ابتدائی تین ماہ میں امدادی سامان کی مقدار جو 167,600 میٹرک ٹن تھی جنوری سے اپریل کے درمیان کم ہو کر محض 105,000 میٹرک ٹن رہ گئی ہے۔

اس مجرمانہ کمی کی اصل وجہ قابض اسرائیل کی جانب سے مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت پر لگائی گئی بندشیں، امدادی ٹرکوں کو سرحدوں سے واپس بھیجنا اور جانچ پڑتال کے آلات میں جان بوجھ کر پیدا کی گئی فنی خرابیاں ہیں جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے اندر خوراک اور ایندھن کے ذخائر ختم ہو چکے ہیں۔

حقوق انسانی کے مرکز نے دہلادینے والا انکشاف کیا ہے کہ 13 ہزار سے زائد فلسطینی بچے اس وقت انتہائی نازک حالت میں ہیں اور وہ فاقہ کشی کے باعث موت کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ ان معصوم جانوں کو فوری طور پر انتہائی نگہداشت اور طبی خوراک کی ضرورت ہے، بصورت دیگر یہ بچے یا تو لقمہ اجل بن جائیں گے یا عمر بھر کی معذوری ان کا مقدر بن جائے گی۔

حالیہ سروے کے مطابق غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں 13.5 فیصد سے لے کر 19 فیصد تک بچے شدید غذائی قلت کا شکار پائے گئے ہیں۔مرکز نے زور دے کر کہا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ کی پٹی کی غذائی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی کیونکہ ضرورت کے مقابلے میں صرف 38 فیصد ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی گئی جبکہ ایندھن کی فراہمی کی شرح 15 فیصد سے بھی کم رہی۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی انتباہ جاری کیا ہے کہ ایک لاکھ سے زائد بچے اور تقریباً 37 ہزار حاملہ و دودھ پلانے والی مائیں غذائی قلت کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔

ادھریورپی یونین نے اسرائیلی آباد کاروں اور حماس کی اہم شخصیات پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کر لیا۔ یہ فیصلہ رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ہوا جس کے بعد3 افراد اور 4 تنظیموں کے اثاثے منجمد اور سفری پابندیاں عائد کی جا سکیں گی۔

دوسری جانب پاک امریکا اسٹڈی سینٹراور مڈل ایسٹ آئی سمیت دیگر اداروں نے یورپی یونین کے فیصلے کو غیرمنصفانہ قراردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ فیصلے میں حماس کو صرف بیلنس قائم رکھنے کے لیے شامل کیا گیا ہے جو پہلے ہی بڑے پیمانے پر یورپی یونین اور دیگر عالمی اداروں کی پابندیوں کا شکار ہے جبکہ پابندیوں میںصرف چند اسرائیلی آباد کاروں کو شامل کیا گیا ہے جو ایک علامتی اقدام ہے ۔

انہوں نے کہاکہ یونین نے تحقیقات کے لیے کوئی کوشش نہیں کی حالانکہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ انکشاف کرچکے ہیں کہ بلاتفریق مذہب عرب فلسطینیوں جن میں مسلمان عیسائی اور یہودی شامل ہیں ان کی زمینوں پر مغربی ممالک کی شہریت رکھنے والے یہودیوں کی کمپنیاں قبضے کرکے یورپ اور دیگر ممالک سے آنے والوں کو فروخت کررہی ہے۔

حماس نے کہا ہے کہ مجرم قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے ہمارے فلسطینی عوام کے خلاف کی جانے والی میدانی پھانسیوں کی کارروائیاں جن میں تازہ ترین گذشتہ منگل کی شام مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قصبے الرام میں پیش آئی، قابض دشمن کے ان وحشیانہ جرائم کے ریکارڈ میں ایک اضافہ ہے جو خطرناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔

حماس نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں شہید زکریا علی محمد قدس(عمر 44 سال) کو خراج عقیدت پیش کیاجو الرام قصبے میں قابض اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں میدانی پھانسی کے ایک بہیمانہ جرم کے نتیجے میں جام شہادت نوش کر گئے۔

تحریک نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جرائم ہمارے عوام کے عزم و ارادے کو توڑنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ یہ اس حساب کی رقم میں مزید اضافہ کریں گے جو قابض اسرائیل کو چکانا پڑے گا اور یہ جرائم مزاحمت کے ہیروز کے حملوں کی صورت میں قابض دشمن پر قہر بن کر ٹوٹیں گے۔

ادھرقابض اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز جنوبی لبنان میں گذشتہ مارچ کے آغاز سے جاری لڑائی کے دوران ہونے والے اپنے جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔قابض فوج نے ایک سرکاری بیان میں اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں جاری جھڑپوں کے دوران اب تک 18 افسران اور سپاہی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 910 زخمی ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران 190 افسران اور سپاہی زخمی ہوئے جن میں سے 114 فوجی درمیانے درجے کے زخمی ہیں جبکہ 52 کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔اسی تناظر میں قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ان راکٹ لانچرز کو تباہ کر دیا ہے جن کا رخ مقبوضہ فلسطین اور جنوبی لبنان میں تعینات ان کی افواج کی جانب تھا۔

قابض فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے حزب اللہ کے 15 ارکان کو نشانہ بنایا جن سے ان کی افواج کو خطرہ لاحق تھا جبکہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری،حملوں میں مزید 13 افرادجاں بحق ہوگئے۔

لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق جاں بحق افراد میںایک فوجی، ایک بچہ اور 2 امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔ وزارت نے بتایا کہ نبطیہ شہر پر اسرائیلی حملے میں 5 افرادجاں بحق ہوئے جن میں سول ڈیفنس کے 2 ریسکیو اہلکار شامل تھے۔

اس کے علاوہ جبشیت کے قریب ایک اور حملے میں4افراد مارے گئے جن میں ایک فوجی اور ایک شامی شہری شامل ہے۔اسی طرح بنت جبیل میں ہونے والے تیسرے حملے میں 4 عام شہری جاں بحق ہوئے جن میں ایک بچہ اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیل پر 25 حملے کرنے کا دعویٰ کیا، العباد میں ڈرون جیمنگ سسٹم،گاڑیاں اور مرکاوا ٹینک تباہ ہوگئے، ہولا اور البیاضہ میں گھروں کے اندر اسرائیلی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔