امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کیے گئے میزائل دفاعی نظام “گولڈن ڈوم” کی لاگت دو دہائیوں کے دوران 1200 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ تخمینہ امریکی انتظامیہ کے سابقہ اعلانات سے کہیں زیادہ ہے۔
غیر جانب دار دفتر کی رپورٹ کے مطابق مجموعی لاگت میں سے ایک 1000 ارب ڈالر سے زائد کی رقم سسٹم کے حصول کے لیے مختص کی جائے گی، جس میں میزائل روکنے والی تہیں، وارننگ سسٹمز اور خلا سے نگرانی کا نظام شامل ہے۔
رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ خلائی انٹرسیپشن سسٹم اس منصوبے کا سب سے مہنگا حصہ ہے، جو کہ خریداری کے اخراجات کا تقریباً 70 فیصد اور مجموعی متوقع اخراجات کا تقریباً 60 فی صد بنتا ہے۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس رپورٹ میں سالانہ آپریشنل اور سپورٹ اخراجات کا اوسط تخمینہ 8.3 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جو اس نئے دفاعی منصوبے کے طویل مدتی مالی بوجھ کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹرمپ نے جنوری 2025 میں امریکی محکمہ دفاع “پینٹاگان” کو ایک جدید ترین میزائل دفاعی ڈھال بنانے کا منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی تھی، جسے شروع میں “امریکہ کا آئرن ڈوم” کا نام دیا گیا تھا، جو بعد میں “گولڈن ڈوم” میں تبدیل ہو گیا۔
مئی 2025ء میں ٹرمپ نے اس منصوبے کے لیے 25 ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس کی کل لاگت کا تخمینہ صرف 175 ارب ڈالر لگایا تھا، جو بجٹ دفتر کے حالیہ تخمینوں سے بہت کم ہے۔ اسی دفتر نے پہلے ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی ایک محدود تعداد کا مقابلہ کرنے والے خلائی انٹرسیپٹر میزائلوں کی لاگت 20 سال کے دوران 161 سے 542 ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔
اس منصوبے کے مقاصد محض محدود حملوں کو روکنے تک محدود نہیں ہیں، کیونکہ 2026ء کی امریکی قومی دفاعی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ پینٹاگان بڑے پیمانے پر میزائلوں کی بوچھاڑ اور جدید فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے “کم لاگت” والے مؤثر آپشنز تیار کرنے پر توجہ دے گا۔
اگرچہ یہ منصوبہ ابھی منصوبہ بندی کے مراحل میں ہے، لیکن یہ نئے تخمینے ان تکنیکی اور مالی چیلنجوں کی عکاسی کرتے ہیں جن کا سامنا امریکہ کو خلائی ٹیکنالوجی پر مبنی کثیر تہہ والے میزائل دفاعی نظام کی تعمیر میں کرنا پڑ سکتا ہے۔

