حجِ نبوی ﷺ کے روح پرور واقعات

مضمون: حافظ محمد ادریس
حج بیت اللہ پانچ بنیادی ارکانِ اسلام میں سے ایک ہے۔ جو شخص استطاعت کے باجوود حج نہیں کرتا اُس کی اس لاپروائی کو قرآنِ مجید میں سورہ آلِ عمران کی آیت نمبر97 میں کفر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ حدیث شریف میں بھی اِرشاد ہے کہ جو استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتا‘ اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ یہودی یا نصرانی ہوکر مرے۔ (سنن ترمذی)
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زندگی میں ایک ہی حج کیا ہے۔ آپ علیہ السلام مدینہ سے 10 ہجری میں حج کے لیے مکہ تشریف لائے۔ مکہ میں داخل ہونے کے کئی راستے تھے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم بالائی جانب سے تشریف لائے اور باب بنی شیبہ میں سے بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ اسی کے باہر آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا۔ جب آپ علیہ السلام کی نگاہ بیت اللہ پر پڑی تو آپ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ سے دعا مانگی:
اللّٰہم زِد ھذا البیت تشریفاً و تعظیماً و تکریماً و مھابةً و زِد مَن عظّمہ و مَن حجّہ و اعتمرہ تشریفاً و تکریماً و مھابةً و تعظیماً و بِرًّا ۔
”اے اللہ اس گھر (بیت اللہ شریف) کے شرف و عزت، عظمت و بزرگی اور ہیبت و جلال میں اضافہ فرما اور جو کوئی حج اور عمرے کے لیے آئے اور تیرے اس گھر کی عزت و تکریم کرے تو اسے بھی عزت و تکریم، نیکی اور رعب و جلال سے نواز دے۔“ (سنن الکبریٰ للبیہقی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے مسنون دعا کا درجہ حاصل ہے اور جونہی کوئی زائر خانہ کعبہ یعنی مسجدالحرام کی عمارت اور میناروں کو دیکھے تو اوّلین نظر کے بعد یہ دعا مانگے۔ اس کے ساتھ وہ اپنی جائز اور نیک حاجات میں سے جس حاجت کو بھی اللہ تعالیٰ سے طلب کرے‘ اللہ تعالیٰ اسے وہ عطا فرما دیتا ہے، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی۔ جونہی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے دروازے سے اندر داخل ہوئے تو آپ علیہ السلام نے پہلا کام یہ کیا کہ خانہ کعبہ کے اس کونے میں پہنچے جہاں حجرِاسود نصب ہے۔ وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرِ اسود کا بوسہ لیا اور طواف کی نیت فرما کر طواف شروع کیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ اس عمل میں شریک تھے۔ صحابہ کرام ؓکی سعادت اور خوش بختی تھی کہ انہیں حج میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی اور اِمامت حاصل تھی۔
ایک بندہ مومن جب بھی اپنے دل میں وہ منظر تازہ کرے تو جھوم اٹھتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خود خانہ کعبہ بھی اس روز اپنی قسمت پہ نازاں تھا۔ یہ قدسی صفت طائفین اللہ تعالیٰ کی دھرتی پر اس کے محبوب ترین بندے تھے۔ ان کے امیر الحجاج صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کوئی امیر اِس سے قبل کسی قافلے کو ملا تھا، نہ اس کے بعد کسی کارواں کو نصیب ہوسکتا ہے۔ اس جماعت جیسی پاکیزہ صفت جماعت چشمِ فلک نے نہ اس سے قبل دیکھی تھی نہ دھرتی کا سینہ اس کے بعد اس سے آشنا ہوسکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف شروع کرنے سے قبل اپنی چادر دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر اس کا سرا بائیں کندھے پر ڈال لیا۔ یعنی دایاں کندھا ننگا کردیا۔ چادر کو یوں پہننا اِصطلاح میں اصطباغ کہلاتا ہے۔ پہلے تین چکروں میں آپ علیہ السلام نے رمل کیا یعنی اپنے بازو اور شانے ہلاتے ہوئے تیزرفتاری سے یہ چکر مکمل کیے۔ اس طرح چلنے کو رمل کہتے ہیں اور طواف میں پہلے تین چکروں میں یہ مسنون ہے۔ آپ علیہ السلام نے سات چکر مکمل کیے، حجرِاسود سے طواف شروع ہوا تھا اور اسی پر مکمل ہوا۔ طواف مکمل ہوتے ہی مقامِ ابراہیم پر تشریف لائے، یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة البقرہ کی آیت نمبر 126 کا یہ حصہ پڑھا: واتّخِذوا مِن مقام ابراہیم مصلیٰ ۔’ ’ابراہیم جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوا، اس مقام کو مستقل جائے نماز بنالو“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامِ ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان میں رکھتے ہوئے قبلہ رخ ہوکر دو رکعت نوافل ادا کیے۔
زم زم اور صفا و مروہ کی ایک عظیم الشان اور ایمان افروز تاریخ ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دادی سیدہ ہاجرہ صلواتُ اللہ علیہا اور آپ کے دادا ذبیح اللہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی عظیم یادگاریں ہیں، جو صدیوں سے قائم ہیں اور تاقیامت ان کی برکات جاری رہیں گی۔ مقام ابراہیم پر دوگانہ ادا کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہِ زمزم پر آئے اور خوب پیاس بجھائی۔ یہاں سے آپ علیہ السلام صفا و مروہ کی طرف بڑھے اور سیدھے صفا کے اوپر چڑھے اور یہ آیت پڑھی، ترجمہ: ”یقینا صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرلے اور جو برضا و رغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا، اللہ کو اس کا علم ہے اور وہ اس کی قدر کرنے والا ہے“۔ (البقرة) صفا پہ کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ پر نظر ڈالی اور یہ الفاظ ادا کیے جوفتح مکہ کے وقت بھی آپ علیہ السلام کی زبان پر جاری تھے:
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ، لہ الملک و لہ الحمد یُحیی و یُمیت و ھو علیٰ کل شئی قدیر۔ لا الہ الا اللہ وحدہ، انجز وعدہ و نصر عبدہ و ھزم الاحزاب وحدہ۔
ترجمہ: ”اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں‘ اس کا کوئی شریک نہیں‘ اسی کے لیے سلطنت اور ملک اور حمد و تعریف ہے‘ وہ مارتا ہے اور جلاتا ہے اور وہ تمام چیزوں پر قادر ہے‘ کوئی خدا نہیں مگر وہ اکیلا خدا‘ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا‘ اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے تمام قبائل کی افواج کو شکست دی۔ (سنن ابوداود، سنن ابن ماجہ) صفا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی شروع کی اور مروہ کی طرف گئے۔ جو مقام نسبتاً ہموار تھا وہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی کے دوران دوڑ لگائی اور پھر جب چڑھائی آئی تو معمول کی چال چلنے لگے۔ یہ سعی بین الصفا و المروہ سیدہ ہاجرہ کی سنت ہے۔ جب وہ اپنے شیرخوار بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہاں چھوڑ دی گئی تھیں۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی اور اس دودھ پیتے بچے کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت میں اس مقام پر چھوڑ کر جارہے تھے تو وہی جانتے تھے کہ ان کے دل پر کیا گزری اور پھر ماں اور بچے پر جو گزرنے والی تھی اس کا تو تصور بھی رونگٹے کھڑے کر دیتا اور دل کو تڑپا دیتا ہے۔
سیدہ ہاجرہ پانی کی تلاش میں اپنے بیٹے اسماعیل کو اس مقام پر لٹا کر صفا کے اوپر چڑھی تھیں کہ شاید کہیں سے کوئی مدد ملنے کا راستہ نکل آئے۔ جب کچھ نظر نہیں آیا تو پھر مروہ کی طرف گئیں۔ معصوم بچہ ایڑیاں رگڑ رہا تھا اور بھوک پیاس کی شدت سے تڑپ رہا تھا۔ جب ماں ہموار جگہ پر پہنچتی تو ایک نظر اپنے بیٹے پر ڈالتی اور تیز تیز قدموں کے ساتھ آگے بڑھتی۔ ڈھلوان اور چڑھائی پر وہ آہستہ آہستہ چلتیں۔ اس طرح انہوں نے صفا سے مروہ کی طرف چار اور مروہ سے صفا کی طرف تین چکر لگائے۔ دونوں پہاڑیوں کی چوٹی سے آس پاس دیکھا تو مدد کی کوئی اُمید بر نہ آئی۔ آخر واپس اپنے بیٹے کی طرف آئیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ خشک اور چٹیل زمین پر اسماعیل علیہ السلام کے پاوں رگڑنے کی وجہ سے پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا ہے۔ ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ انہوں نے پانی کے گرد کنکریوں اور مٹی کی اوٹ کھڑی کی اور بے ساختہ زبان سے نکلا ’زمزم‘ (رک جا‘ رک جا)۔ یہ زمزم بھی اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ اس کا پانی بھوک اور پیاس کے لیے بھی کارگر ہے اور ہر بیماری سے شفا کے لیے بھی نسخہ کیمیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے میری دادی کی دعا قبول فرما کر اس پانی کو اس کے مقام پر روک دیا، ورنہ یہ ایک چشمے کی صورت رواں دواں ہوجاتا اور دُور دُور تک پہنچتا۔ آپ علیہ السلام کا یہ بھی ارشاد ہے کہ اس پانی کو انسان جس جائز مقصد کے لیے بھی استعمال کرے‘ یہ اس میں فائدہ پہنچاتا ہے۔ مشہور تابعی اور عظیم عالم و مجاہد حضرت عبداللہ بن مبارکؒ جب پہلی بار حج اور عمرے کے لیے مکہ آئے تو زمزم پیتے وقت دعا کی: ’اے اللہ تیرے سچے نبی کا وعدہ ہے کہ زمزم ہر مقصد میں نفع پہنچاتا ہے، میں آج اسے پی رہا ہوں کہ یومِ حشر کی پیاس سے محفوظ ہوجاوں‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دادی اماں کی اتباع میں صفا مروہ کے درمیان سات چکر لگائے۔ جاہلیت کے دور میں قریش اور دیگر عرب قبائل بہت سے مناسک کو بھول چکے تھے مگر صفا مروہ کے درمیان سعی کیا کرتے تھے۔
ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر ہی سوار ہو کر یہ سعی کی تھی۔ جب سعی مکمل ہوئی تو آپ علیہ السلام پھر زمزم کی طرف آئے اور پانی پیا۔ پھر آپ اپنی منزل پر تشریف لے گئے جہاں آپ علیہ السلام کا خیمہ لگایا گیا تھا۔ اس مقام کا نام ’الابطح‘ ہے۔ فتح مکہ کے وقت اور اس سے قبل عمرةالقضا کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجون کے مقام پر خیمے میں مقیم رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ اپنے گھر میں کیوں تشریف فرما نہیں ہوئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمارا گھر رہا ہی کہاں ہے جس میں ہم مقیم ہوں۔ حجة الوداع کے موقع پر بھی آپ کسی گھر میں مقیم نہیں ہوئے بلکہ ابطح کے مقام پر خیمے ہی میں قیام فرمایا۔ (المغازی للواقدی، ج:2) (بشکریہ دنیا)