ایک بچی سے اس کی خالہ نے پوچھا: ”ماموں نے کتنی عیدی دی ہے ؟” بچی نے کہا: ”دس روپے ہی دی ہے، حالاں کہ ان کا بٹوا (پرس) پیسوں سے بھرا ہوا تھا”۔ خالہ مسکرا کر کہنے لگیں: ”بڑی غلطی کی انھو ں نے، سارا بٹوا تمھارے حوالے کردیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔” یہ چھوٹا سا لطیفہ نما سچا واقعہ کوئی پچاس برس پرانا ہے۔ بچی نے اپنی سوچ کے مطابق ٹھیک ہی کہا تھا لیکن ماموں کو اس بچی کے علاوہ اور کتنے بچوں کو عیدی دینا ہوئی ہوگی۔ عید پر دوسرے اخراجات بھی کرنا ہوں گے، کیے ہوں گے۔ اگر وہ سخی بادشاہ بن کر سب کو سو سو روپے پکڑانے لگ جاتے تو شاید کسی مالیاتی ادارے سے قرض اٹھانا پڑتا۔ آج کل بھی یہی ہوتا ہے آپ بچوں میں عیدی یا کسی اور موقع پر انعام دیں تو ان کی نظر اس پر نہیں ہوتی جو انھیں آپ دیتے ہیں، ان کی نظر میں وہ نوٹ ہوتے ہیں جو آپ کے پاس جمع نظر آتے ہیں لیکن ظاہر ہے آپ سب بچوں کی عیدی اور دوسرے اخراجات جمع کریں تو بات ہزاروں تک پہنچ جاتی ہے۔
گزشتہ دو تین روز سے بجلی کے فی یونٹ پر ایک پیسے کے ریلیف کی خبر پر دھڑا دھڑ تبصرے ہورہے ہیں، اداس حال لوگ اس خبر کو تفریح کے لیے طنز و مزاح کا تختہ مشق بھی بنا رہے ہیں۔ حکومت کی ایسی تیسی کرنا تو خیر سے ویسے بھی اعلی درجے کا، کارِ ثواب ہے۔ اب حکومت کی سنیے تو وہ کہتی ہے پیسا پیسا فی یونٹ کرتے کرتے یہ رقم اربوں روپے بن جائے گی، حکومت کی نظر ان اربوں روپوں پر ہے جو ریلیف کی مد میں خرچ کرے گی اور ہماری نظر فی یونٹ اس ایک پیسے پر ہے جو ہمیں ملنے کا امکان ہے۔ ہمیں اونٹ کے منہ میں زیرہ بھی نہیں لگ رہا، حکومت اسے ہمالیہ سمجھ رہی ہے۔
٭٭٭
حکومت اس ایک پیسے کو دس، پچاس پیسے، ایک، دو روپے فی یونٹ تک بھی لے جاسکتی ہے بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ لیکن اس کے لیے اسے میڈم اشرافیہ کو ناراض کرنا پڑے گا۔ بڑے بڑے بلکہ بہہہہت بڑے بڑے عہدوں پر فائز شخصیات کو خفا کرنا پڑے گا۔ کئی اداروں کی ناز برداری قربان کرنا پڑے گی۔ یہی نہیں آئی ایم ایف کی ناراضی مول لینا پڑے گی، امداد رک جائے گی، حکومت اپنے لیے جو عنایات رکھتی ہے اور ان عنایات کو حاصل کر کے دن رات قوم کی خدمت کرتی ہے۔ ان عنایات کی قربانی دینا ہوگی۔ نازک اندام لیڈی کو اتنی مشقت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور صبر شکر سے کام لینا چاہیے۔ صبر کے اپنے فائدے ہیں اور شکر کا اپنا فائدہ۔ ایک پیسے کا شکر پوری قوم دل سے کرے تو شاید اگلی بار دس پیسے بن جائیں مزید شکر سے ایک روپیہ، پھر دس روے۔ ضروری نہیں کہ شکر سے یہ سب بچت بجلی کے بل کے راستے ہی سے ہو اور جگہوں سے بھی بچت ہوسکتی ہے اور سارا کام حکومت پر نہیں چھوڑنا چاہیے، خود بھی بچانا چاہیے!!
٭٭٭
ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آبادی میں یوں ہی اضافہ ہوتا رہا تو آنے والے وقتوں میں یہ ایک پیسا بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔ کچھ لوگ آمدن اور وسائل بڑھانے پر غور نہیں کرتے بس سارا زور آبادی پر دیں گے۔ ظاہر ہے پھر پیسا پیسا ہی ملے گا۔ ویسے پیسا پیسا جوڑ کر لوگ بڑے بڑے کا م کر جاتے ہیں۔ آبادی میں اضافہ برا نہیں، بس اضافہ نکما ثابت ہو تو برا لگتا ہے ایک گھر میں ایک کمانے والا دس اڑانے والے ہوں تو بے چارے کمانے والے کی چیں ہی بولے گی اور اگر دس میں سے چار پانچ کمانے والے ہوں تو ذرا رحت اور سہولت رہے گی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورتیں بھی دفتری اور افسری کے لیے نکل کھڑی ہوں۔ انھیں تو اپنا کام کرنا چاہیے ان کے اپنے کام میں برکت کے بہترین نتائج نکلتے ہیں اور یہ مطلب بھی نہیں کہ جہاں خواتین کو (مجبوراً) ضرورت ہو انھیں کچھ نہ کرنے دیا جائے یا جہاں خواتین کی حقیقی ضرورت ہو وہاں بھی مرد ہی کام کریں۔
٭٭٭
آبادی میں اضافے کی بات پر کچھ حلقے بہت خوش ہوتے ہیں ان کا پکا ٹھکا نظریہ ہی یہی ہوتا ہے کہ نئے آنے والوں کی راہ بند کر دی جائے، ان کے ہاں بچوں میں اضافے کے خواہش مندوں کو دقیانوس اور اجڈ مانا جاتا ہے اور ایسے ہی اضافے پر کچھ کہہ دیا جائے تو دوسری طرف صوفی منش احباب بھی چیں بجبیں ہوتے ہیں اور کئی ایک تو نئے نئے القابات سے نوازنے لگتے ہیں۔ فورا ً ارشاد فرماتے ہیں: ‘رزق اللہ کے ذمے ہے’۔ چاہے بے چاری عورت کی جان جوکھوں میں پڑ جائے، اسے پل بھر آرام نہ ملے، ہر سال، ڈیڑھ سال بعد پہلے سے ہری گود کو مزید ہری بھری کر کے اس کی ایسی تیسی کردی جائے، ابا حضور اپنی سرگرمیوں میں لگے رہیں اور تربیت دیکھ بھال ساری ماں پر ڈال دی جائے۔ اسے مشین بنادیا جائے۔ یہ بھی کوئی اچھی مثال نہیں۔ اوپر تلے کے بچوں میں آج کل رقابت پہلے زمانے کے بچوں سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ پہلے دور میں بچوں میں ایسی رقابت نہیں پائی جاتی تھی۔
ہر گھر میں نئے آنے والے مہمان کو سب اہمیت دیتے ہیں، ایسے میں پہلے سے موجود سال ڈیڑھ سال کے بچے کو اپنی کرسی خطرے میں اور اہمیت ضائع ہوتی نظر آنے لگتی ہے تو پھر کبھی وہ والدین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنے ساتھ کچھ ایسا کرتا ہے کہ اس کی جان خطرے میں آجاتی ہے اور کبھی نیا آنے والا اس کے لیے تختہ مشق بن جاتا ہے۔ والدین خصوصاً والد صاحبان کو بچوں میں اضافے کے جذبے کے ساتھ ساتھ اس طرف بھی توجہ کرنی چاہیے!!

