زراعت میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال

دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو وقت کی آواز کو پہچان لیں۔ زراعت کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے تو یہ شعبہ محض معیشت نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بھی ہے۔ ہمارے ملک کی 70سے 75فیصد آبادی کسی نہ کسی طور زراعت سے منسلک ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم اب بھی زیادہ تر روایتی طریقہ کاشتکاری پر انحصار کر رہے ہیں جبکہ دنیا تیزی سے جدید زرعی ٹیکنالوجیز کی طرف بڑھ چکی ہے۔ انہی جدید ایجادات میں ایک نمایاں نام ”ڈرون ٹیکنالوجی” کا ہے جس نے عالمی سطح پر زراعت میں ایک خاموش مگر بھرپور انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ڈرون، جنہیں تکنیکی زبان میں بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں کہا جاتا ہے، ابتدا میں فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان کی افادیت کو مختلف شعبوں میں محسوس کیا گیا اور یوں یہ ٹیکنالوجی زراعت تک بھی پہنچ گئی۔ گزشتہ دو دہائیوں میں جدید سینسرز، کیمروں اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج نے زرعی ڈرونز کو انتہائی مؤثر اور قابلِ اعتماد بنا دیا ہے۔

زرعی ڈرونز دراصل ایک ”آنکھ” کا کام کرتے ہیں جو زمین سے سینکڑوں فٹ بلندی پر رہتے ہوئے وسیع رقبوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ ان ڈرونز کے ہائی ریزولوشن کیمروں کے ذریعے فصلوں کی صحت کا فوری تجزیہ ممکن ہوتا ہے۔ ڈرونز مخصوص علاقوں میں درست مقدار میں کھاد اور زرعی ادویات کا چھڑکاؤ کرتے ہیں جس سے کھاد و ادویات کا ضیاع کم ہوتا ہے۔ ان ڈرونز میں لگے سینسرز کے ذریعے زمین کی نمی، درجہ حرارت اور زرخیزی کا ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت بڑی اہم ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال سے بروقت معلومات اور درست فیصلوں کے باعث پیداوار میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ ویری ایبل ریٹ ایپلیکیشن کی وجہ سے ایک ہی کھیت میں مختلف حصوں کی ضروریات کے مطابق کھاد اور ادویات کی مقدار خودکار انداز میں بدل دی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ ملٹی اسپیکٹرل امیجنگ NDVI جیسے انڈیکس کے ذریعے پودوں کی صحت، بیماری اور غذائی کمی کی بروقت نشاندہی ممکن ہوتی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکا، جاپان، چین اور یورپی ریاستیں پہلے ہی اس ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر اپنا چکی ہیں۔ اب تو ترقی پذیر ممالک جیسے بھارت، برازیل اور انڈونیشیا بھی اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اندازوں کے مطابق زرعی ڈرونز کی عالمی منڈی آئندہ چند برسوں میں اربوں ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو اس ٹیکنالوجی کی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ اگر ہم پاکستان میں موجودہ صورتحال کی بات کریں تو ہمارے ہاں زرعی ڈرون ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ اگرچہ محکمہ زراعت پنجاب نے کچھ کامیاب تجربات کیے ہیں مگر مجموعی طور پر یہ ٹیکنالوجی عام کسان تک نہیں پہنچ سکی۔ چند بڑے زرعی ادارے اور جدید فارمز اس کا استعمال کر رہے ہیں، لیکن چھوٹے کسان اب بھی اس سہولت سے محروم ہیں۔ البتہ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ چند جامعات اور نجی ادارے مقامی سطح پر ڈرون ڈیزائن اور ڈیٹا اینالیٹکس پر کام کر رہے ہیں۔ اگر ان کوششوں کو حکومتی سرپرستی مل جائے تو پاکستان نہ صرف ڈرونز کے استعمال بلکہ تیاری کے میدان میں بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔

پاکستان میں اس ٹیکنالوجی کے فروغ کی راہ میں کئی اہم رکاوٹیں حائل ہیں۔ جن میں پہلی رکاوٹ قانون سازی کا فقدان ہے۔ ڈرونز کی درآمد، رجسٹریشن اور آپریشن کے لیے واضح اور جامع پالیسی موجود نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آگاہی کی کمی بھی ہے۔ کسانوں کی بڑی تعداد اس ٹیکنالوجی کے فوائد اور طریقہ استعمال سے ناواقف ہے۔ ایک اور بڑی رکاوٹ مالی مسائل کی بھی ہے۔ ڈرونز اور متعلقہ سافٹ ویئر کی لاگت زیادہ ہونے کے باعث چھوٹے کسانوں کے لیے اس تک رسائی مشکل ہے۔ پھر ہمارے ہاں تکنیکی مہارت کی کمی بھی آڑے آ رہی ہے۔ تربیت یافتہ آپریٹرز اور ڈیٹا اینالسٹس کی قلت ہے۔ انفراسٹرکچر کی کمزوری بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ، بجلی اور سروس سپورٹ کی کمی جدید ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں رکاوٹ بنتی ہے۔

اگر پاکستان اس ٹیکنالوجی کو سنجیدگی سے اپنائے تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جن میں زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ، پانی، کھاد اور زرعی ادویات کے ضیاع میں کمی، ماحولیاتی آلودگی میں کمی، صحت مند خوراک کی فراہمی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا بہتر مقابلہ، کسانوں کی آمدن میں بہتری، زرعی شعبے میں روزگار کے نئے مواقع (ڈرون آپریٹرز، ڈیٹا اسپیشلسٹس وغیرہ) شامل ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ محض امکانات پر گفتگو کافی نہیں، اس کے لیے درست فیصلے اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں جیسے کہ قومی زرعی ڈرون پالیسی کی فوری تشکیل اور سادہ لائسنسنگ نظام، کسٹم ڈیوٹی میں رعایت اور مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی، کسانوں کے لیے سبسڈیز، کوآپریٹو یا سروس بیسڈ ماڈل کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کا مشترکہ استعمال، کم از کم ضلعی سطح پر ٹریننگ سینٹرز کا قیام جن میں عملی تربیت دے کر سرٹیفیکیٹس کا اجراء کیا جائے۔ کسانوں کی عملی مدد کے لیے ڈیٹا پلیٹ فارمز کا قیام بھی ایک ضروری عمل ہو گا جن میں سیٹلائٹ و ڈرون ڈیٹا کو یکجا کر کے کسانوں تک سادہ سفارشات کی صورت میں پہنچانا ممکن ہو۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر پائلٹ پراجیکٹس کی توسیع دی جا سکتی ہے۔ دنیا بڑی تیزی کے ساتھ زراعت میں آگے بڑھ رہی ہے جبکہ ہم روایتی کاشتکاری کو گلے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو ہم عالمی زرعی ترقی کی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ دوسری طرف اگر درست حکمتِ عملی اختیار کی جائے تو ڈرون ٹیکنالوجی ”پریسیژن ایگریکلچر” کے فروغ کے ذریعے ہماری زراعت کو جدید، منافع بخش اور پائیدار بنا سکتی ہے۔ یاد رکھیے! ڈرون ٹیکنالوجی محض ایک سہولت نہیں بلکہ زراعت کے مستقبل کی بنیاد ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اس جدید انقلاب کا حصہ بنے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے اور خود کسان مل کر اس سمت میں عملی پیش رفت کریں۔ بصورتِ دیگر ہم ایک ایسے موقع کو کھو دیں گے جو ہماری معیشت کو نئی زندگی دے سکتا ہے۔ ”دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو وقت کی آواز کو پہچان لیں اور آج کی آواز سمارٹ زراعت کی ہے۔”