غزہ/تل ابیب/ سڈنی/بیروت:قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں فضائی و توپ خانے کی بمباری اور فائرنگ کے ذریعے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیںجبکہ محاصرے کے تسلسل اور امدادی اشیا کی آمد میں کمی نے انسانی صورتحال کو مزید ابتر کردیا ہے۔
تازہ ترین صورتحال کے مطابق اتوار کی صبح خان یونس شہر کے جنوب میں ایک بچہ اسرائیلی بم کے ٹکڑے لگنے سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کرگیا۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ خان یونس کے جنوبی علاقے قیزان ابو رشوان میں ایک اسرائیلی ڈرون نے بم گرایا جس کی زد میں آ کر ننھا ریاض ابو نمر شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں ناصر میڈیکل کمپلیکس میں دم توڑ گیا۔
اس سے قبل قابض اسرائیل کی فائرنگ سے دو افراد شہید ہوئے جن میں سے ایک خان یونس کے مشرقی علاقے سطر میں نشانہ بناجبکہ دوسرا وسطی غزہ کے علاقے دیر البلاح میں ڈرون حملے کا شکار ہوا۔ طبی ذرائع نے اناضول ایجنسی کو بتایا کہ26سالہ نوجوان محمد السید سلیمان سبیتان دیر البلاح کے مشرقی علاقے ابراج القسطل کے قریب ڈرون حملے میں شہید ہوا۔
عینی شاہدین کے مطابق ڈرون سے گرائے گئے بم نے سبیتان کو شدید زخمی کر دیا تھاجسے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ایک اور واقعے میں نوجوان عمار طلال ابو شاب خان یونس کے شمالی علاقے سطر شرقی میں قابض دشمن کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوگیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ حملے ان علاقوں میں کیے گئے جو معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج کے کنٹرول سے باہر ہیں۔اس کے ساتھ ہی قابض فوج کی گاڑیوں نے جبالیہ کیمپ کے مشرقی محلوں اور خان یونس شہر کو نشانہ بنایا۔
غزہ شہر کے مشرقی محلے التفاح میں قابض فوج نے شدید فائرنگ کی اور شہر کے مشرقی علاقوں میں دھماکوں کے ذریعے عمارتوں کو مسمار کرنے کی کارروائیاں کیں۔بمباری کا یہ سلسلہ شمالی غزہ کے قصبے بیت لاہیا تک بھی پھیل گیا۔
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیل نے گذشتہ ماہ اپریل کے دوران سیز فائر معاہدے کی 377 بار خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں111شہری شہید اور 376 زخمی ہوئے۔
غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر2023ء سے جاری اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں شہدا کی کل تعداد 72,610 اور زخمیوں کی تعداد 172,448 تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق سلامتی سے متعلق کابینہ اجلاس میںغزہ پر دوبارہ جنگ شروع کرنے کی تیاریوں کے حوالے سے فیصلے پر غور کیا گیا جس کا مقصد عام انتخابات کے قریب سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔
اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ حماس غیر مسلح ہونے کے معاہدے کی پابندی نہیں کر رہی، تاہم یہ بیانات خود اسرائیلی میڈیا کی ان رپورٹس کے متضاد ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ حماس نے سیز فائر کے پہلے مرحلے پر عملدرآمد اور دوسرے مرحلے کے لیے اپنا جواب دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حماس نے بعض نکات پر ترامیم پیش کی ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ قابض اسرائیل سیز فائر معاہدے کے تحت جنگ کے خاتمے کے ٹائم فریم پر فوری اور مکمل عملدرآمد کرے۔ حماس نے ہتھیاروں کے مسئلے پر بحث کے لیے اصولی رضامندی ظاہر کی ہے لیکن اسے فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق کے حصول اور جامع سکیورٹی انتظامات سے مشروط کیا ہے۔
تحریک نے مکمل سیز فائر، مکمل اسرائیلی انخلا، تعمیر نو، بین الاقوامی افواج کی آمد اور غزہ کا انتظام ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے مطالبات دہرائے ہیں۔
دوسری جانب مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر گذشتہ ماہ اپریل کے دوران مقدس مقامات کے خلاف قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس میں عبادت کی آزادی کو نشانہ بنانے کے جاری اقدامات کے تناظر میں مسجد اقصیٰ پر 30 مرتبہ دھاوا بولا گیا اور حرم ابراہیمی میں 91 اوقات میں اذان دینے پر پابندی عائد کی گئی۔
ایک دستاویزی رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیلی افواج نے نام نہاد ہنگامی حالت کے بہانے مسجد اقصیٰ کو 40 دن سے زائد کے طویل اور مسلسل عرصے تک بند رکھا اور نمازیوں کو داخلے اور نماز کی ادائیگی سے روک دیا جبکہ اس دوران مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد کے دروازوں اور پرانے شہر کے گرد و نواح میں بھاری فوجی نفری تعینات رہی اور نمازیوں کے داخلے پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔
رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی افواج کی حفاظت میں غاصب آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں بڑے پیمانے پر روزانہ کی بنیاد پر دھاوے بولے جہاں بعض دنوں میں مہم جوئی کرنے والوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی، یہ کارروائیاں زمانی اور مکانی تقسیم کے حقیقت کو مسلط کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔
رپورٹ میں نمازیوں اور ملازمین کے خلاف توہین آمیز تلاشی اور زبانی بدتمیزی کے واقعات کو بھی قلمبند کیا گیا ہے، اس کے علاوہ الحرم کے اندر غاصب آباد کاروں کی جانب سے حملے کیے گئے جن میں نمازیوں کے کام میں خلل ڈالنا، شور و غل والے پروگرام منعقد کرنا، بعض گوشوں میں کھدائی کا کام جاری رکھنا اور مصلیٰ جات پر دھاوا بول کر ملازمین کو وہاں سے نکالنا شامل ہے۔
ادھر گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل تین آسٹریلوں شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اسرائیلی جہاز پر کئی دن حراست کے دوران بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ دی گارڈین اخبار کی رپور ٹ کے مطابق زیک شوفیلڈ، نیو اوکونر اور ایتھن فلائیڈ نے یونان کے جزیرے کریٹ پر بھوک ہڑتال شروع کر دی جہاں اسرائیلی حکام انہیں چھوڑ گئے تھے۔
شوفیلڈ نے دی گارڈین کو بتایا کہ کارکنوں کو ایک ایسے ٹرانسپورٹ جہاز پر حراست میں رکھا گیا جسے جیل میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جہاز کے مرکزی حصے میں کنٹینرز لگے ہوئے تھے جن کے گرد خاردار تاریں تھیں۔
اگرچہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون ساعر نے دعوی کیا کہ کارکنوں کو بغیر نقصان کے اتارا گیا شوفیلڈ نے وسیع پیمانے پر بدسلوکی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کو چوتھے کنٹینر میں لے جاتے اور انہیں رائفل کے بٹ، ڈنڈوں، مکے اور لاتوں سے مارتے تھے۔میں نے ایک شخص کو قریب سے ربڑ کی گولی مارتے دیکھا جو اس کی ٹانگ اور پیٹھ پر لگی۔
میرے ایک دوست نے بتایا کہ اسے اسی کنٹینر میں لے جا کر بار بار نازک اعضا سمیت جسم کے مختلف حصوں پر مارا گیا۔شوفیلڈ نے ایک کم عمر کولمبین خاتون کو بھی دیکھا جسے ایک اسرائیلی فوجی نے پسلیوں پر بار بار مکے مارے۔حراست میں لیے گئے کارکنوں کو دو دن تک اس جہاز پر برے حالات میں رکھا گیا، جہاں اسرائیلی فوجیوں نے دو مرتبہ ڈیک پر سمندری پانی بھی ڈالا۔
تینوں آسٹریلوی شہریوں نے کہا کہ انہوں نے حراست کے دوران اسرائیلی خوراک لینے سے انکار کیا اور فلوٹیلا کے رہنمائوں تھیاغو اویلا اور سیف ابو کشیک کی رہائی کا مطالبہ کیا جنہیں تفتیش کے لیے اسرائیل لے جایا گیا تھا۔فلوٹیلا کے منتظمین نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دبائو ڈالیں تاکہ اویلا اور ابو کشیک کو فوری رہا کیا جائے۔
علاوہ ازیںاسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں پر فضائی بمباری کی گئی جس میں کئی گھر تباہ ہوئے اور20افرادجاں بحق جبکہ 46زخمی ہوگئے۔عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق 17 اپریل کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی افواج نے لبنان پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
لبنانی نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے جبل ریحان، بصلایا اور جزین کے علاقے السریر پر حملے کیے۔ السمعیہ میں مسجد کے قریب بھی اسرائیلی حملہ رپورٹ ہوا جبکہ بنت جبیل کے برج قلاویہ پر اسرائیل کی جانب سے فضائی حملہ اور گولہ باری کی گئی۔
اسرائیل کی جانب سے یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں کہ جب علاقے میں جنگ بندی بدستور برقرار ہے۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں عمارتوں کو مسمار کرنے کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں سرحدی گائوں یارون میں واقع ایک کیتھولک خانقاہ بھی شامل ہے جسے حال ہی میں بلڈوزر کے ذریعے منہدم کیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ اس مقام کو اسرائیل کی جانب راکٹ داغے جانے کے مرکز کے طور پر استعمال کر رہی تھی تاہم لبنان کی کیتھولک کلیسا نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔
اس دوران اسرائیل نے لبنان میں ایک اور نئی فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے ملک کے جنوب میں متعدد شہروں اور دیہات کے رہائشیوں سے اپنے گھروں کو خالی کرنے کی اپیل کی ہے۔اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے ایک انتباہ جاری کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے 11 شہروں اور قصبوں کے مکینوں سے کہا کہ وہ فوری طور پر اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو جائیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔فوج نے خبردار کیا ہے کہ جو افراد حزب اللہ کے ٹھکانوں یا فورسز کے قریب موجود ہوں گے، انھیں خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی افواج اس وقت جنوبی لبنان کے ایک تنگ علاقے پر قابض ہیں اور ان گھروں کو منہدم کر رہی ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں اور تنصیبات کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب حزب اللہ بھی ڈرون اور راکٹ حملوں کے ذریعے لبنان کے اندر اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی افواج کو نشانہ بنا رہی ہے۔ادھر اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں مسیحی مذہبی عمارت کو نقصان پہنچانے کا اعتراف کر لیا۔
اسرائیلی فوج نے یارون گائوں میں کیتھولک فلاحی ادارے کے کانونٹ کو نشانہ بنایا تھا، اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایک کمپائونڈ میں کارروائی کی گئی تاہم کمپائونڈ کے اندر ایک دوسری عمارت پر واضح شناختی نشانات نظر آئے تو مزید نقصان سے بچنے کیلئے فورسز نے کارروائی روک دی۔

