چوتھی و آخری قسط:
ہم میں سے تقریباً ہر کوئی یہ جانتا ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے کہ قرآن کریم کی جو سب سے پہلی سورت نازل ہوئی وہ سورة العلق تھی: اقر باسم ربک الذی خلق۔ پھر دیگر آیتیں اور سورتیں نازل ہوتی رہیں۔ آخری سورتوں میں ایک سورة النصر ہے: اذا جاء نصر اللہ والفتح۔ اور آخری نازل ہونے والی آیت ہے: الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔ لیکن ہم قرآن کریم کس ترتیب سے پڑھتے ہیں؟ کیا ہم پہلے سورة العلق اور آخر میں سورة النصر پڑھتے ہیں؟ ہم یقینا اس ترتیب سے نہیں پڑھتے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم جس ترتیب سے نازل ہوا، وہ ترتیب کس نے بدلی؟ کون اتھارٹی ہے اس پر؟ جب ہم یہ مانتے ہیں کہ قرآن کریم کی پہلی پانچ آیتیں سورة العلق کی نازل ہوئی تھیں تو ہم پہلے وہ کیوں نہیں پڑھتے؟ ہمارے پاس جو مصحف ہے، سورة العلق اس کی آخری سورتوں میں سے ہے اور پھر جسے قرآن کریم کی آخری آیت کہا جاتا ہے الیوم اکملت لکم دینکم یہ قرآن کریم کی پانچویں سورة میں ہے۔ اب ظاہر ہے یہ ترتیب کسی اتھارٹی نے بدلی ہے اور وہ اتھارٹی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے۔ ہم قرآن کریم کو نازل ہونے والی ترتیب کے ساتھ نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ ترتیب سے پڑھتے ہیں۔
یہ سوال کہ قرآن کریم کی پہلی سورة الفاتحہ ہے، دوسری البقرة ہے، تیسری آل عمران ہے، چوتھی النساء ہے، پانچویں المائدہ ہے، ایک سو تیرہویں الفلق ہے، ایک سو چودھویں الناس ہے۔ یہ ترتیب کس نے قائم کی اور ہمیں اس کے متعلق کس نے بتایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ ترتیب قائم کی اور صحابہ نے آگے امت تک قرآن کریم اسی ترتیب کے ساتھ پہنچایا۔ حضرت زید بن ثابت جو قرآن کریم کے سب سے بڑے کاتب تھے، فرماتے ہیں کہ جب قرآن کریم کی آیت نازل ہوتی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی ہے، اسے فلاں سورة میں فلاں آیت سے پہلے اور فلاں آیت کے بعد لکھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نازل ہونے والی آیت بتاتے تھے، جس سورة میں درج کرنی ہوتی وہ بھی بتاتے اور اس کے درج کرنے کی جگہ بھی بتاتے تھے۔
یہ جو ‘الحمد للہ ربّ العالمین’ سے لے کر ‘من الجنة والناس ‘تک قرآن کریم تک جو ترتیب چلی آرہی ہے جس ترتیب سے ہم آج تک پڑھتے چلے آرہے ہیں اور قیامت تک اسی ترتیب سے پڑھتے رہیں گے، یہ ترتیب نزولی نہیں ہے یعنی اس ترتیب پر قرآن کریم نازل نہیں ہوا۔ یہ ترتیب توقیفی ہے جو بعد میں بنی اور اسے بنانے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ ترتیب پر قرآن کریم آگے اُمت تک روایت کیا اور صحابہ کا یہ روایت کرنا ہی دراصل حدیث کہلاتا ہے۔ قرآن کریم پہلی بار لکھا گیا جب جنگوں میں کافی تعداد میں حفاظ شہید ہوئے اور حضرت عمر نے خطرہ محسوس کیا کہ قرآن کریم کے بارے میں کوئی مسئلہ نہ پیش آجائے۔ جبکہ حضرت عثمان غنی کے زمانے میں جو تدوینِ ثانی ہوئی وہ حضرت حذیفہ کے خطرہ محسوس کرنے پر ہوئی۔ لوگ مختلف قراتوں میں قرآن کریم پڑھتے تھے۔ اب بھی قاری حضرات مختلف قراتوں میں پڑھتے ہیں۔
لفظ بعض اوقات ایک لغت میں ایک طرح بولا جاتا ہے جبکہ کسی دوسری لغت میں دوسری طرح بولا جاتا ہے۔ عربوں کو تو پتہ تھا کہ اس لغت کا لفظ بھی ٹھیک ہے اور اِس لغت کا لفظ بھی ٹھیک ہے۔ لیکن عجمیوں کے نزدیک دونوں لفظ مختلف ہوتے تھے۔ میں اس کی مثال اس طرح دیا کرتا ہوں کہ ہمارے علاقے میں پنجابی کا ایک لفظ بولا جاتا ہے ”کیویں” جس کا مطلب ہے کیسے۔ لیکن سیالکوٹ یا شکر گڑھ کے علاقوں میں ”کِداں”، جہلم کے علاقے میں ”کنجوں”، گجرات و کوٹلہ کے علاقوں میں ”ککن” اور پنڈی میں ”کیاں” کے لفظ بولے جاتے ہیں۔ ان سب لفظوں کا معنی ہے ”کیسے”۔ اب ہم پنجابیوں کو تو کوئی الجھن نہیں ہوتی۔ لیکن کسی دوسری زبان والے سے پوچھیں تو وہ کہے گا کہ بھئی یہ ایک نہیں بلکہ پانچ لفظ ہیں۔ حروف الگ ہیں، لہجہ الگ ہے اور تلفظ بھی الگ ہے۔چنانچہ عربوں کو تو الجھن نہیں ہوتی تھی لیکن غیرعرب لوگوں کو الجھن پیدا ہوئی۔
حضرت حذیفہ ایک جنگ میں کمانڈر تھے، آذربائیجان کے علاقے میں۔ میدانِ جنگ میں ایک خیمے میں بیٹھے ہوئے تھے، ساتھ والے خیمے میں لڑائی ہو گئی۔ بھاگے بھاگے گئے تو دیکھا کہ دو آدمی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ پوچھا، کیا ہوا بھئی؟ دونوں عجمی تھے، عربی نہیں تھے۔ ایک نے کہا، یہ قرآن کریم غلط پڑھ رہا تھا، میں نے اسے منع کیا تو یہ مجھ سے لڑ پڑا۔ دوسرے نے کہا، میں صحیح پڑھ رہا تھا اور یہ مجھے غلط بتا رہا تھا۔ پڑھنے والے نے کہا کہ میں نے یہ حضرت ابو الدردائ سے پڑھا ہے، میں کیسے غلط ہو سکتا ہوں۔ سننے والے نے کہا کہ میں نے حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے پڑھا ہے، وہ کیسے غلط ہو سکتے ہیں۔ اب دونوں کی سندیں مضبوط تھیں۔ حضرت حذیفہ نے ایک سے کہا کہ تم سنا، اس نے سنایا۔ حضرت حذیفہ نے کہا، ٹھیک پڑھ رہے ہو تم۔ دوسرے سے کہا کہ تم سنا۔ اس نے سنایا۔ فرمایا کہ تم بھی ٹھیک پڑھ رہے ہو۔ یہ معاملہ ”کیویں” اور ”کِداں” کا ہی تھا۔ خیر حضرت حذیفہ نے دونوں کو سمجھایا کہ پڑھانے والوں نے تم دونوں کو ٹھیک پڑھایا ہے۔
لیکن حضرت حذیفہ نے خطرہ محسوس کیا کہ یہ تو ایک مستقل مسئلہ بن جائے گا اور عجمیوں میں تو ایک ایک لفظ پر لڑائی ہوگی۔ وہاں سے جب مدینہ منورہ گئے تو امیر المومنین حضرت عثمان سے کہا کہ یا حضرت! اس مسئلے کو سنبھال لیجیے ورنہ بعد والے لوگ لڑ لڑ کر مر جائیں گے۔ ان سب کو کسی ایک لغت پر اکٹھا کر دیجیے۔ حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت کو بلایا، کہا کہ بھئی دیکھو، قریش کے جس لہجے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم پڑھتے تھے، اس لہجے میں ایک نسخہ مرتب کر دو۔ باقی کوئی کسی دوسری لغت میں پڑھتا ہے تو اس کی مرضی لیکن اسٹینڈرڈ نسخہ وہی ہوگا جو قریش کی لغت میں ہے۔ چنانچہ صرف ایک لغت پر سب کو اکٹھا کرنے کے لیے کہ عجمیوں کو کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو، ایک اسٹینڈرڈ نسخہ لکھوا دیا گیا۔ یہ وہ نسخہ ہے جو صحابہ کرام کی ایک کمیٹی نے، جس میں حضرت زید بن ثابت بھی شامل تھے، حضرت عثمان بن عفان کے حکم پر تحریر کیا اور جس کی متعدد نقول لکھوا کر امیر المومنین نے سلطنتِ اسلامیہ کے دور دراز علاقوں میں بھجوائے۔ انہی نسخوں میں سے ایک نسخہ جو لندن کی انڈیا آفس لائبریری میں موجود و محفوظ ہے، اس کی زیارت کا شرف مجھے بھی حاصل ہوا ہے۔
میں نے آج کی گفتگو میں قرآن و حدیث کے باہمی تعلق کے ایک پہلو پر بات کی ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ تک پہنچنے کا ذریعہ بھی حدیث ہے، قرآن کریم کی سورتوں تک پہنچنے کا ذریعہ بھی حدیث ہے، قرآن کریم جس ترتیب سے ہم پڑھتے ہیں، اس ترتیب تک پہنچنے کا ذریعہ بھی ہمارے پاس حدیث ہی ہے۔ حدیث کے بغیر ہم قرآن کریم کی سورتوں، آیات، جملوں اور ترتیب نہیں پہنچ سکتے۔ میں ایک بات عام طور پر عرض کیا کرتا ہوں، اور اسی پر آج کی بات سمیٹوں گا۔ بعض لوگوں کو شبہ ہے کہ حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے یا نہیں۔ یہ بھی آج کے مسئلوں میں سے ایک مسئلہ ہے، کہ جی حدیث کو کیوں مانیں، کیا قرآن کافی نہیں ہے؟ یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ جو چیز ثابت ہے وہ تو مانیں، لیکن جس کے ذریعے سے ثابت ہوئی اور جس پر وہ موقوف ہے وہ ماننا ضروری نہیں ہے۔ قرآن کریم ہمیں ملا ہی حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ اگر حدیث درمیان میں نہ ہو تو ہم قرآن کریم تک نہیں پہنچ سکتے۔

