بارسلونا/غزہ: اسرائیلی ناکا بندی توڑنے اور غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والا تقریباً 40 کشتیوں پر مشتمل فلوٹیلا بارسلونا سے روانہ ہو گیا۔
منتظمین کے مطابق ”گلوبل صمود فلوٹیلا” اتوار کو روانہ ہونا تھا تاہم خراب موسم کے باعث اس کی روانگی تاخیر کا شکار ہوئی اور یہ قافلہ بدھ کو مقامی وقت کے مطابق ساڑھے 11 بجے کے قریب روانہ ہوا۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ قافلہ زیادہ تر بادبانی کشتیوں پر مشتمل ہے۔
اس قافلے میں مزید 20 کشتیاں بھی شامل ہوں گی جنہوں نے 4 اپریل کو فرانس کی بندرگاہ مارسی سے روانگی اختیار کی تھی جبکہ 24 اپریل کو اٹلی کے شہر سسلی کی سیراکوس بندرگاہ سے اس قافلے میں دیگر جہاز بھی شامل ہوجائیں گے۔
منتظمین کے مطابق یہ فلوٹیلا جنوبی اٹلی میں ایک ہفتے قیام کرے گا جہاں شرکا کو ”عدم تشدد کی تربیت” دی جائے گی۔منتظمین کا کہنا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا میں دنیا بھر سے فلسطین کے حامی سینکڑوں کارکنوں کی شرکت متوقع ہے۔
ادھرغزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں اور تازہ کارروائیوں میں11فلسطینی شہید ہوگئے جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔غزہ کی سول ڈیفنس اتھارٹی کے مطابق شمالی غزہ میں ہونے والے حملوں میں 3 اور 14 سال کے دو بچے جان کی بازی ہار گئے۔
ترجمان محمود بسال کے مطابق غزہ سٹی میں ایک پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا گیاجس کے نتیجے میں4افراد شہید ہوئے جن میں ایک 3 سالہ بچہ بھی شامل تھا۔دوسری جانب غزہ کی وزارت داخلہ نے تصدیق کی کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے شہر کے مرکزی علاقے میں پولیس گاڑی پر حملہ کیاجس کے نتیجے میں متعدد افراد شہیداور زخمی ہوئے جبکہ ایک پولیس اہلکار کی شہادت بھی رپورٹ ہوئی۔
اس کے علاوہ شمالی علاقے بیت لاہیا میں اسرائیلی فائرنگ سے ایک شہری شہید ہواجبکہ شام کے وقت غزہ سٹی کے شاطی پناہ گزین کیمپ کے قریب ایک چوک پر ڈرون حملہ کیا گیاجس میں کئی افراد نشانہ بنے۔
الشفاء ہسپتال کے مطابق شاطی کیمپ میں ہونے والے ڈرون حملے کے بعد 5 لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں۔اسی طرح قابض اسرائیلی فوج نے پٹی کے شمال میں واقع جبالیا پناہ گزین کیمپ کے اندر ابو زیتون کے علاقے میں شہریوں کے گھروں کو بڑے پیمانے پر بارود سے اڑانے کی کارروائیاں کیں جبکہ غزہ شہر کے مشرقی علاقوں کو توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا۔
ادھرقابض اسرائیلی فوج نے بدھ کی علی الصبح مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 16 فلسطینی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
جنین میں مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی افواج نے شہر کے جنوب مغرب میں واقع قصبے یعبد پر دھاوا بولا اور 8 نوجوانوں کو اغوا کر لیا جن کی شناخت مصعب حرز اللہ، علاء قبہا، طارق ابو بکر، محمود حمارشہ، ورد میتانی، احمد عطاطرہ، یوسف عمارنہ اور طارق الملس کے ناموں سے ہوئی ہے۔
نابلس میں مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج نے شہر پر دھاوا بولا اور متعدد گھروں اور تجارتی مراکز کی تلاشی لینے کے بعد 8 شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق گرفتار شدگان میں شہر کے مغربی علاقے سے عبد الرحمن القوقا اور زیاد الجد جبکہ مشرقی نابلس کے علاقے المساکن الشعبیہ سے نوجوان براء الزغل شامل ہیں۔
اسی طرح قابض اسرائیلی فوج نے نابلس کے جنوب میں واقع قصبے قصرہ پر بھی دھاوا بولا اور ان کے اہل خانہ کے گھروں کی تلاشی لینے کے بعد 5 شہریوں امیر وادی، رمزی حس، قتیبہ ابو رید، خالد ابو رید اور رافت العجوری کو گرفتار کر لیا۔
قابض اسرائیلی افواج نے طوباس کے جنوب مشرق میں واقع قصبے طمون پر بھی یلغار کی اور شہریوں کے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ شروع کر دی جبکہ یہ کارروائی صبح کے اوقات تک جاری رہی۔قابض اسرائیلی فوج نے قلقلیہ شہر کے مشرقی داخلی راستے پر فوجی چوکی قائم کر کے شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور گاڑیوں کو روک کر مسافروں کے شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال کی۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2025ء سے جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں نہیں رکیںاور اس دوران اب تک تقریباً 760 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔7 اکتوبر 2023ء سے جاری جنگ میں مجموعی طور پر 72 ہزار 336 فلسطینی شہید جبکہ 2 ہزار 111 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
دریں اثناء قابض اسرائیل کے عسکری ادارے کے اندر جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیوں کو وسعت دینے کی بڑھتی ہوئی بازگشت کے ساتھ ساتھ سامنے آنے والے اعداد و شمار حزب اللہ کے ساتھ جاری تصادم کی سنگین قیمت کو بے نقاب کر رہے ہیں جو شمالی محاذ پر بتدریج ایک کھلی جنگ کی طرف پھسلنے کی علامت ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعتراف کیا ہے کہ جاری فوجی آپریشنز اور جھڑپوں کے دائرہ کار میں وسعت کے نتیجے میں گذشتہ مارچ کے آغاز سے اب تک اس کے زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد 586 تک پہنچ گئی ہے۔
فوج کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہی 21 فوجی زخمی ہوئے ہیں جو جنوبی لبنان میں میدانی جھڑپوں کی شدت میں غیر معمولی اضافے کا ثبوت ہے۔37 کی حالت تشویشناک اور 82 کی درمیانی درجے کی بتائی گئی ہے جبکہ منگل کی صبح تک یہ تعداد 565 بتائی گئی تھی۔
اسی تناظر میں قابض فوج نے جنوبی لبنان میں آپریشن شروع ہونے سے اب تک اپنے 13 فوجیوں کی ہلاکت کا بھی اعتراف کیا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شمالی محاذ پر مزید کمک روانہ کی جا رہی ہے اور پانچ فوجی ڈویژن اس وقت جاری زمینی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
علاوہ ازیںقابض اسرائیلی افواج نے بدھ کی شام غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 12 اسیران کو رہا کر دیا ہے جنہیں سات اکتوبر 2023ء کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ یہ رہا ہونے والے اسیران ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے عملے کے ذریعے دیر البلاح میں واقع شہداء الاقصیٰ ہسپتال پہنچے تاکہ اپنا علاج معالجہ کروا سکیں ان اسیران کو رفح کے مشرق میں واقع کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے رہا کیا گیا تھا۔
ادھرلبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں،بدھ کوہونے والے اسرائیلی حملوں میں مزید17 افراد جاں بحق ہوگئے۔لبنانی وزارت صحت کے مطابق لبنان میں مارچ سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 2 ہزار 89 افرادجاں بحق ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی فوجی حملوں میں 6 ہزار 762 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

