رپورٹ: علی ہلال
توانائی کی عالمی سیاست میں خلیج کا خطہ ہمیشہ سے مرکزی حیثیت رکھتا آیا ہے مگر حالیہ امریکا ایران تنازعے نے اس اہمیت کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کی بندش یا جزوی رکاوٹ نے نہ صرف خلیجی ممالک کی برآمدات کو متاثر کیا بلکہ عالمی معیشت میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کشیدگی نے دنیا کو ایک ایسے ممکنہ توانائی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے اثرات صرف تیل و گیس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تجارت، صنعت اور مالیاتی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں۔
خلیج عرب میں تیل اور گیس کے ذخائر ایک غیرمعمولی بحران کا شکار ہوگئے ہیں، جب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد و رفت متاثر یا بند ہوئی ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی نے اس صورتحال کو تاریخ کا سب سے بڑا تیل بحران قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق اپریل2026ء میں عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں یومیہ تقریباً 80 لاکھ بیرل کمی متوقع ہے جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق خلیجی ممالک کی پیداوار میں 1 کروڑ بیرل روزانہ سے زائد کمی آئی ہے۔ ایرانی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کئی آئل فیلڈز متاثر ہوئے ہیں جس سے پیداوار میں کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھر جانے کے باعث بھی کئی ممالک کو پیداوار کم کرنا پڑی۔ ان حالات کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 73 ڈالر سے بڑھ کر 104 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔

خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کو عالمی توانائی کا مرکز سمجھا جاتا ہے جو نہ صرف دنیا کی ایندھن ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ سپلائی چین کے استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ خلیجی خطہ عالمی تیل پیداوار کا تقریباً 30 سے 31 فیصد فراہم کرتا ہے۔ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک اکیلے تقریباً 22 فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔ سعودی عرب اس میں سرفہرست ہے جو دنیا کی تقریباً 12 فیصد پیداوار فراہم کرتا ہے، اس کے بعد متحدہ عرب امارات (4 فیصد) اور کویت (3 فیصد)ہیں۔ خلیج کا کردار صرف تیل تک محدود نہیں بلکہ گیس کے شعبے میں بھی اہم ہے۔ یہ خطہ عالمی قدرتی گیس پیداوار کا تقریباً 17 فیصد فراہم کرتا ہے جبکہ قطر اور سعودی عرب اس میدان میں نمایاں ہیں۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد LNG تجارت گزرتی ہے جس میں قطر کی 93 فیصد اور امارات کی 96 فیصد برآمدات شامل ہیں۔ خلیج کی اہمیت اس کے وسیع ذخائر کی وجہ سے بھی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ دنیا کے تقریباً 48.3 فیصد تصدیق شدہ تیل کے ذخائر رکھتا ہے جبکہ صرف خلیجی ممالک کے پاس 30.6 فیصد حصہ موجود ہے۔ اسی طرح گیس کے ذخائر میں بھی یہ خطہ عالمی سطح پر 38.4 فیصد حصہ رکھتا ہے جس میں خلیجی ممالک کا حصہ تقریباً 19.8 فیصد ہے۔ مجموعی طور پر ایران کے خلاف جنگ نے نہ صرف خلیج کے توانائی کے نظام کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا کر دیا ہے جس کے اثرات آئندہ عرصے میں مزید نمایاں ہونے کا امکان ہے ۔ خلیج میں دنیا کے بڑے ترین آئل و گیس فیلڈز موجود ہیں۔ جن میں سعودی عرب میں واقع ’غوار فیلڈ‘ دنیا کا سب سے بڑا تیل کا کنواں : 3.8ملین بیرل یومیہ کے ساتھ سرفہرست ہے۔ خریص فیلڈ 1.25 ملین بیرل یومیہ، شیبہ فیلڈ: 1 ملین بیرل یومیہ اور جافورہ فیلڈ بڑا گیس منصوبہ شامل ہے۔ عرب میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق عالمی تیل سپلائی میں 80 لاکھ بیرل یومیہ کمی کا خدشہ ہے۔ خلیجی پیداوار میں ایک کروڑ بیرل یومیہ سے زائد کمی کا خدشہ ہے۔ ایرانی ڈرون حملوں سے کئی آئل فیلڈز متاثر ہوگئے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا 40 روزہ جنگ کا اصل فاتح روس ؟
اگر امریکا ایران تنازع ختم نہیں ہوتا اور ایک مرتبہ پھر جنگ شروع ہو جاتی ہے تو دنیا گیس اور تیل کے بڑے بحران سے دوچار ہوسکتی ہے۔ اگر چہ حالیہ جنگ میں کچھ خلیجی ممالک نے متبادل راستے استعمال کرنے شروع کیے ہیں۔ سعودی عرب نے مشرق ‘مغرب پائپ لائن (ینبع تک) یومیہ تقریباً 70 لاکھ بیرل منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی حبشان سے فجیرہ تک پائپ لائن بچھا کر سپلائی جاری رکھی ہوئی ہے اور تقریباً 1.8 ملین بیرل یومیہ کی گنجائش کی رپورٹ ہے تاہم ماہرین کے مطابق یہ متبادل راستے مکمل طور پر آبنائے ہرمز کا نعم البدل نہیں بن سکتے اور ان میں بھی سکیورٹی خطرات موجود ہیں، خصوصاً بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستے اب بھی خطرات درپیش ہیں۔ موجودہ صورتحال نے نہ صرف خلیج بلکہ پوری دنیا کی توانائی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل و گیس کی عالمی قیمتوں اور سپلائی چین پر اس کے مزید گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ان تمام حالات کے پیش نظر واضح ہوتا ہے کہ خلیج میں جاری کشیدگی صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کے توازن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر صورتحال طویل ہوئی تو درآمدی ممالک کو مہنگی توانائی، صنعتی سست روی اور مہنگائی کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ برآمد کنندگان کے لیے بھی سپلائی کی غیریقینی صورتحال خطرات پیدا کرے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارتی حل، متبادل راستوں کی سکیورٹی اور توانائی کے متنوع ذرائع کی تلاش ہی اس بحران کے اثرات کو کم کرنے کا واحد راستہ ہے، ورنہ عالمی معیشت مزید دباو کا شکار ہو سکتی ہے۔

