ایران کے خلاف امریکی بحری محاصرے کے دوسرے روز بعض تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے ایرانی حکام کو یومیہ تقریباً 43.5 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس میں 27.6 کروڑ ڈالر کا نقصان برآمدات، بالخصوص خام تیل اور پیٹرو کیمیکلز کی مد میں شامل ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے تجزیہ کار میاد مالکی کے مطابق ایران یومیہ 15 لاکھ بیرل تیل برآمد کرتا ہے جس کی قیمت تقریباً 87 ڈالر فی بیرل ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایران کے 90 فیصد سے زائد تیل کی ترسیل جزیرہ خارگ سے ہوتی ہے۔ تاہم دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ نقصان کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکی محاصرہ کتنا سخت ہے اور کیا تہران اپنی برآمدات کو آبنائے ہرمز سے باہر جاشک بندرگاہ کی طرف موڑنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔
9/10 CURRENCY COLLAPSE ACCELERANT: The rial has already cratered from 42,000 to 1.5M per dollar. Banks are limiting withdrawals to $18-30/day. Overall inflation: 47.5%. A blockade eliminating all forex earnings pushes the rial into terminal hyperinflation. The regime issued its…
— Miad Maleki (@miadmaleki) April 12, 2026
مبصرین کے مطابق اگر محاصرہ چند ہفتوں تک رہا تو اس کے اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایران کے پاس بحیرہ عمان میں 2.1 کروڑ بیرل کا ذخیرہ موجود ہے جو 10 سے 14 روز کی برآمدات کے لیے کافی ہے۔ اگرچہ ایرانی جانب سے ‘جاشک’ بندرگاہ استعمال کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، لیکن اس کی موجودہ صلاحیت (10 ہزار بیرل یومیہ) محاصرے سے بچنے کے لیے انتہائی کم ہے۔ سمندری برآمدات کے مکمل رک جانے کی صورت میں یومیہ 20 سے 35 کروڑ ڈالر یا اس سے بھی زیادہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کو 20 سال تک یورینیم افزودگی روکنا ہوگی، امریکا
ایران کی زیادہ تر پیٹرو کیمیکلز اور معدنیات کی برآمدات جنوبی بندرگاہوں کے ذریعے چین اور ایشیا جاتی ہیں۔ اگرچہ نصف برآمدات زمینی راستوں سے پڑوسی ممالک (عراق، ترکیہ، افغانستان) کو جاتی ہیں، لیکن بڑا حصہ خلیج کی بندرگاہوں پر منحصر ہے۔ بحیرہ عمان پر واقع ‘چابہار’ بندرگاہ متبادل تو ہے مگر اس میں آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کو زائل کرنے کی کافی گنجائش موجود نہیں ہے۔
ایران سالانہ 4 کروڑ ٹن سامان درآمد کرتا ہے جس میں سے 2.5 کروڑ ٹن بنیادی ضروریات (خوراک، تیل، چارہ) پر مشتمل ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا محاصرے میں خوراک اور ادویات کو استثنا ملے گا یا نہیں۔ طویل محاصرے کی صورت میں برآمدی آمدنی میں سالانہ 100 ارب ڈالر کی کمی ہو سکتی ہے، جو جی ڈی پی کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ اس سے غیر ملکی کرنسی کی قلت، شرح مبادلہ میں ہوش ربا اضافہ اور بجٹ خسارہ سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
گذشتہ روز امریکی فوج نے واضح کیا کہ محاصرہ بحیرہ عمان اور بحیرہ عرب تک پھیلا دیا جائے گا۔ دوسری جانب اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایران نے خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ یاد رہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی یہ جنگ 40 روز تک جاری رہنے کے بعد 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی پر رکی تھی، تاہم حالیہ مذاکرات کی ناکامی نے صورتحال دوبارہ کشیدہ کر دی ہے۔

